خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں اہم بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بانی عمران خان کی صحت کے معاملے میں مکمل طور پر ان کی بہن علیمہ خان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ رات کے اندھیرے میں جیل سے عمران خان کو دوسری بار اسپتال منتقل کیا گیا، جو جیل مینوئل کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کا پہلے دن سے یہی مؤقف رہا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلے اور بیانات صرف خاندان ہی دے گا۔
اہم نکات
- عمران خان کی صحت کا معاملہ خاندانی ہے اور پارٹی اس معاملے میں علیمہ خان کے موقف کی حمایت کرے گی۔
- رات کے وقت قیدی کی منتقلی جیل کے ضابطوں کے خلاف ہے، جو صحت کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
- وکلا کو چاہیے کہ عمران خان کے مقدمات کی بھرپور پیروی کریں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ملاقات کے احکامات موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
- رہائی فورس کا فیصلہ حتمی ہے۔ یہ فورس صرف اسٹریٹ موومنٹ کے تناظر میں بنائی جا رہی ہے اور اس کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہوں گے۔ ممبرشپ رمضان کے بعد شروع ہوگی۔
علیمہ خان نے حال ہی میں پارٹی قیادت پر شدید تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنما بغیر کسی اطلاع کے فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کئی اہم رہنماؤں کے نام لیتے ہوئے پوچھا کہ وہ کہاں غائب ہیں اور پارٹی کے مقدمات کیوں آگے نہیں بڑھ رہے۔
پس منظر اور موجودہ صورتحال
عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات ملک بھر میں بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ پارٹی کا واضح موقف یہ ہے کہ صحت کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ خاندان کے مشورے اور رضامندی کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ رہائی فورس جیسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی سڑکوں پر احتجاجی تحریک کو مزید منظم کرنے کی طرف جا رہی ہے۔
یہ صورتحال پارٹی کے اندرونی چیلنجز اور بیرونی دباؤ کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ علیمہ خان کی تنقید سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ خاندان اور پارٹی قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی نہیں ہے، جس کا اثر مجموعی تحریک پر پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیل مینول میں یہ درج نہیں کہ قیدی کا علاج اس کی منشا کے مطابق ہو: وزیر قانون
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
عمران خان کی صحت کے بارے میں پارٹی کا کیا موقف ہے؟
پارٹی کا واضح مؤقف ہے کہ صحت سے متعلق تمام فیصلے اور بیانات خاندان ہی دے گا۔
رہائی فورس کب فعال ہوگی؟
اس کی تشکیل کا فیصلہ ہو چکا ہے اور ممبرشپ رمضان کے بعد شروع ہوگی۔
کیا پارٹی قیادت پر تنقید جاری رہے گی؟
علیمہ خان نے کھل کر تنقید کی ہے اور پارٹی نے اس معاملے میں خاندان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ملاقاتوں کے لیے عدالت کے احکامات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟
شفیع جان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات موجود ہیں مگر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
یہ خبر آپ کو کیسی لگی؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں، شیئر کریں اور مزید تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ ابھی جوائن کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور براہ راست تازہ خبریں حاصل کریں – یہ مکمل طور پر مفت اور آسان ہے!
Disclaimer: Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is based on public reports.Add to chat