اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی تشکیل نو کی منظوری دی ہے۔ کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کی ہدایت پر ای سی سی کی نئی ساخت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو تیز اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ اقدام معاشی استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جہاں خزانہ، سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی جیسے شعبوں کی نمائندگی کو مزید وسیع کیا گیا ہے۔
پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز جیسے مہنگائی، برآمدات میں اضافہ اور توانائی کے مسائل کو حل کرنے میں ای سی سی کا کردار مرکزی رہا ہے۔ شہباز شریف اقتصادی رابطہ کمیٹی کی اس تشکیل نو سے متعلقہ وزارتوں کے درمیان رابطے کو مزید مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو نئی اقتصادی رابطہ کمیٹی پاکستان کی مجموعی ترقی کو فروغ دے گی۔
ای سی سی کی نئی ساخت: کون کون شامل ہیں؟
نوٹیفکیشن کے مطابق، ای سی سی کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کر کے 8 کر دیا گیا ہے، جو پہلے 22 مئی 2025 کو تشکیل دی گئی کمیٹی کے 7 ارکان سے ایک زیادہ ہے۔ یہ تبدیلی سرمایہ کاری کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اہم ارکان کی فہرست درج ذیل ہے:
- چیئرمین: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب (برقرار) – خزانہ کے امور پر نگرانی جاری رہے گی۔
- نئے رکن: وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ – سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے شامل۔
- وفاقی وزیر اقتصادی امور: احد چیمہ – معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں کلیدی کردار۔
- وزیر پاور ڈویژن: اویس لغاری – توانائی کے مسائل حل کرنے میں مددگار۔
- وزیر پیٹرولیم: علی پرویز ملک – تیل اور گیس کے شعبے کی نمائندگی۔
- وزیر تجارت: جام کمال خان – برآمدات اور درآمدات کی توازن سازی۔
- وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی: رانا تنویر حسین – غذائی تحفظ کے لیے اہم۔
- وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی: احسن اقبال – ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی۔
یہ نئی اقتصادی رابطہ کمیٹی پاکستان کی معاشی فیصلوں کو تیز کرنے میں مدد دے گی، خاص طور پر جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 2025 میں 3.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے (ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق)۔
ECC تشکیل نو 2025 کا معاشی اثرات: کیا بدلے گا؟
وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے سے ای سی سی اب سرمایہ کاری بورڈ کی شمولیت کے ساتھ مزید جامع ہو جائے گی، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، پچھلے سال ای سی سی نے 500 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی تھی، جو توانائی اور انفراسٹرکچر کو سہارا دیتی تھی۔ اب اس تشکیل نو سے متوقع ہے کہ:
- سرمایہ کاری میں اضافہ: قیصر احمد شیخ کی شمولیت سے چائنا-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے پروجیکٹس تیز ہوں گے۔
- غذائی اور توانائی کی حفاظت: رانا تنویر حسین اور اویس لغاری کے کردار سے کسانوں اور صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔
- تجارتی توازن: جام کمال خان کی قیادت میں برآمدات 15 فیصد بڑھانے کا ہدف حاصل ہو سکتا ہے (تجارت وزارت کی اعداد و شمار)۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی: خود کو آگ لگانے کا خواب دیکھ کر شہری نے حقیقت میں خودسوزی کرلی
یہ قدم پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں افراط زر کو 7 فیصد تک کنٹرول کرنے کی کوشش جاری ہے۔
ECC کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟ – ایک جھلک
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) وفاقی کابینہ کا ایک اہم فورم ہے جو فوری معاشی فیصلے لیتی ہے۔ اس کی بنیاد 1973 کے آئین کے تحت ہے اور یہ کابینہ کی منظوری کے بغیر بھی اہم منصوبوں کی توثیق کر سکتی ہے۔ مرحلہ وار عمل یہ ہے:
- اجلاس کا انعقاد: چیئرمین کی صدارت میں ماہانہ میٹنگز۔
- تجویزات کی جانچ: ارکان معاشی تجزیہ کرتے ہیں۔
- منظوری: فوری فیصلے، جیسے سبسڈی یا قرضے۔
- رپورٹنگ: کابینہ کو ماہانہ اپ ڈیٹ۔
یہ کمیٹی نے ماضی میں کورونا جیسی بحرانوں میں اہم کردار ادا کیا، جہاں 2020 میں 1 ٹریلین روپے کی امداد کی منظوری دی گئی تھی۔
سوالات اور جوابات (FAQs)
ECC تشکیل نو کا مقصد کیا ہے؟
شہباز شریف اقتصادی رابطہ کمیٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے، خاص طور پر سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے۔
کیا یہ فیصلہ معیشت پر مثبت اثر ڈالے گا؟
ہاں، ارکان کی وسیع نمائندگی سے فیصلے تیز اور جامع ہوں گے۔
پچھلی ECC میں کیا فرق تھا؟
پرانی میں 7 ارکان تھے، نئی میں 8، سرمایہ کاری بورڈ شامل۔
عوام کو کیا فائدہ؟
کم مہنگائی، بہتر توانائی اور غذائی تحفظ۔
کیسے حصہ لیں؟ – ایک پول
کیا ECC کی یہ تشکیل نو پاکستان کی معیشت کو 2026 تک 5% گروتھ دے سکتی ہے؟ ہاں/نہیں – کمنٹ میں اپنا ووٹ دیں اور بحث کریں!
یہ خبر آپ کی رائے کا انتظار کر رہی ہے۔ کمنٹس میں بتائیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کے اس فیصلے سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟ شئیر کریں اور اپنے دوستوں تک پہنچائیں تاکہ سب کو تازہ اپ ڈیٹ ملے۔ مزید خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور براہ راست اپ ڈیٹس حاصل کریں۔ ابھی جوائن کریں اور معاشی تبدیلیوں سے آگاہ رہیں!
Disclaimer: The information provided is based on public reports. Please verify before taking any actions.