Pakistan Tehreek-e-Insaf کی رہنما اور عمران خان کی بہن علیمہ خان نے منگل کو پارٹی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ انہوں نے عدالتوں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاندان اب احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنے پر مجبور ہے۔
احتجاجی اپیل
علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی صحت کے مسائل کو خاندان کی سب سے بڑی فکر قرار دیا۔ انہوں نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کی مانگ کی اور کہا کہ حکومت صرف سڑکوں پر احتجاج کے بعد ہی سابق وزیراعظم کا علاج کرنے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنکھ کی بیماری کے علاج اور ضمانت کے لیے عوامی دباؤ ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں پر پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے۔ یہ بین الاقوامی حق بھی ہے اس لیے حکومت نے اس کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا۔ علیمہ خان نے بتایا کہ پارٹی قیادت ابتدائی طور پر احتجاج سے گریزاں تھی کیونکہ لوگ سڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔ پہلے مرحلے میں کارکنوں کو عادیالہ جیل کے باہر جمع ہونے کی کال دی جائے گی۔
عمران خان کی صحت پر تشویش
علیمہ خان نے عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی صحت یابی کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن ہم اس پر یقین نہیں کرتے۔ چیف جسٹس کو طبی ماہر سے رائے لینی چاہیے تھی مگر انہوں نے اس کی زحمت نہیں کی۔ ان کے بقول عدالتوں کے پاس کچھ نہیں ہے اور وہ صرف احکامات پر عمل کر رہی ہیں۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ عدالتوں کے رویے کی وجہ سے عمران خان کئی سال تک رہا نہیں ہوں گے۔ ہائی کورٹ ضمانت کی درخواست کو ایک سال اور لٹکا سکتا ہے۔ دوسری جانب نورین نیازی نے کہا کہ وہ پرامن احتجاج نہیں چاہتیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی این اے بی لاہور کے باہر احتجاج کی مثال دی جو تشدد میں تبدیل ہو گیا تھا۔
پی ٹی آئی کا عدلیہ سے مطالبہ
پی ٹی آئی نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس پر عدلیہ سے میرٹ پر فیصلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ پارٹی نے بیان میں کہا کہ کیس قانونی نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے۔ طویل کارروائی کے باوجود کرپشن یا ذاتی فائدے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سال سے اپیلز بیوروکریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے الٹی پڑی ہیں جو شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور عدلیہ کی آزادی پر سوالات اٹھاتی ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ میرٹ پر فیصلہ ہونے سے جعلی سزائیں ختم ہوں گی اور عمران خان و بشریٰ بی بی فوری رہا ہو جائیں گے۔
پارٹی نے عوام، کارکنوں اور رہنماؤں سے پرامن یکجہتی کا مطالبہ کیا۔ یہ صرف قانونی لڑائی نہیں بلکہ جمہوریت، عدالتی آزادی اور قانون کی حکمرانی کی جنگ ہے۔
راجانہ ویلفیئر سکول کی مذمت
پی ٹی آئی نے پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے راجانہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک ویلفیئر سکول سیل کرنے کی شدید مذمت کی۔ سکول ریٹائرڈ بریگیڈیئر جاوید اکرم کی نگرانی میں چلتا تھا جو کوٹ لکھپت جیل میں 6 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ یہ سکول 700 غریب بچوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کرتا ہے۔
سکول کو مبینہ طور پر اس لیے سیل کیا گیا کیونکہ اتوار کو وہاں نورین خان نیازی نے پرائز ڈسٹری بیوشن تقریب سے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا؛ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 13 دہشتگرد ہلاک
عمران خان ریلیز سے متعلق 5 FAQs
Q1: علیمہ خان نے عمران خان کی رہائی کے لیے کیا اپیل کی ہے؟
علیمہ خان نے پی ٹی آئی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کے ذریعے سڑکوں پر نکل کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کا دباؤ ڈالیں۔
Q2: عمران خان کی صحت کے بارے میں علیمہ خان کا کیا کہنا ہے؟
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کی صحت خاندان کی سب سے بڑی تشویش ہے۔ وہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج چاہتے ہیں اور حکومت پر الزام لگایا کہ وہ احتجاج کے بغیر علاج نہیں کرنے دے گی۔
Q3: پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کیس پر کیا موقف رکھتی ہے؟
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ یہ کیس سیاسی انتقام ہے اور میرٹ پر فیصلہ ہونے سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔
Q4: پی ٹی آئی نے احتجاج کیوں بلایا ہے؟
پارٹی کا کہنا ہے کہ عدالتوں سے مایوسی کے بعد عوامی دباؤ کے ذریعے ہی عمران خان کو رہائی اور مناسب علاج مل سکتا ہے۔
Q5: راجانہ سکول کیسے سیل ہوا؟
سکول کو مبینہ طور پر اس لیے سیل کیا گیا جب نورین خان نیازی نے وہاں ایک تقریب سے خطاب کیا۔ پی ٹی آئی نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
Disclaimer: This information is based on public reports and statements. Readers should verify all details from official sources before taking any action regarding health, protests, or legal matters.