خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کامیاب کارروائیاں 30 مارچ 2026 کو ضلع خیبر کے علاقے باڑہ اور ضلع بنوں میں انجام دی گئیں۔
باڑہ میں کی گئی کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 10 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ بنوں میں دوسری آپریشن میں مزید 3 دہشتگرد مارے گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر کارروائی کی اور ان کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
یہ آپریشنز بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف جاری کلیئرنس آپریشنز کا حصہ ہیں۔ خیبر پختونخوا سیکیورٹی فورسز کارروائیوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن خیبر پختونخوا کی اہمیت
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی 13 دہشتگرد ہلاک نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فورسز دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف آپریشن کے تسلسل میں یہ کارروائیاں ملک بھر میں امن قائم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
پاکستان فوج دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ KP intelligence based operation نے حساس علاقوں میں دہشتگردوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ فتنۃ الخوارج پاکستان نیوز میں ایسے واقعات بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کی سرگرمیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔
حکومتی قیادت کے بیانات
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کی کامیابی پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت سے بنوں اور باڑہ میں دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا۔ ملک کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہیں۔ حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ان کارروائیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ فتنۃ الخوارج کے 13 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں کو سلام ہے۔ قوم سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دہشتگردوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن کی تازہ خبر
یہ کارروائیاں پاکستان سیکیورٹی فورسز کیسس آپریشن کی تازہ مثال ہیں۔ بنوں اور کرم آپریشن دہشتگرد ہلاک سے متعلق تفصیلات بتاتی ہیں کہ فورسز کی تیاری اور انٹیلی جنس کتنی مؤثر ہے۔ ISPR بیان دہشتگردی کارروائی میں واضح کیا گیا کہ فورسز خفیہ معلومات کی بنیاد پر کام کر رہی ہیں۔
پاکستان آرمی آپریشن کے پی کے میں حالیہ کامیابیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔ counter terrorism operations Pakistan میں ایسے اقدامات سے امن کی فضا قائم ہو رہی ہے۔
قومی عزم
آپریشن عزمِ استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ قومی ایکشن پلان دہشتگردی کے خلاف جامع حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔ عوام کی حمایت سے یہ جنگ مکمل طور پر جیتی جا سکتی ہے۔
بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کا بڑا آپریشن امن کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی نے ملک کی سلامتی کو مزید مستحکم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بچے کبھی پاکستان کیخلاف بات کرینگے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے: بیرسٹر گوہر
متعلقہ سوالات
خیبر پختونخوا میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوئے؟
دو الگ کارروائیوں میں کل 13 دہشتگرد ہلاک ہوئے جن میں 10 باڑہ میں اور 3 بنوں میں شامل ہیں۔
یہ آپریشن کس حکمت عملی کا حصہ ہیں؟
یہ آپریشن عزمِ استحکام کا حصہ ہیں جو دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے جاری ہیں۔
فورسز کی کارروائیوں میں انٹیلی جنس کا کردار کیا ہے؟
تمام آپریشنز انٹیلی جنس بیسڈ ہیں جو دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی درست معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کی ان کامیابیوں پر قوم کو فخر ہے۔ اپنے خیالات کمنٹ سیکشن میں ضرور شیئر کریں اور اس خبر کو اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ شیئر کریں تاکہ دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد مزید مضبوط ہو۔
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ تازہ ترین بریکنگ نیوز، پاکستان سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کی اپ ڈیٹس اور اہم قومی خبریں براہ راست آپ کے فون پر حاصل کریں۔ ابھی جوائن کریں اور ہر اہم خبر سب سے پہلے پڑھیں۔
(نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہے۔)