وینزویلا پر امریکی حملہ، عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے: علی گیلانی

علی گیلانی

رکن قومی اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما علی موسیٰ گیلانی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اب وینزویلا امریکا چلائے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وہاں تیل کی وسیع پیمانے پر نکاسی کریں گی۔ علی گیلانی کے مطابق یہ پیشرفت عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی ہے جو مغربی ممالک کو مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں بھی مکمل طور پر محفوظ بنا دے گی۔

امریکی فوجی کارروائی کی تفصیلات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف سنگین مجرمانہ الزامات کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ مادورو اور ان کی بیوی کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی براہ راست ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ایک غیر معمولی آپریشن کیا جس میں فضائی، زمینی اور سمندری طاقت کا بھرپور استعمال دیکھا گیا۔ انہوں نے اسے امریکی فوجی تاریخ کا ایک شاندار اور غیر معمولی مظاہرہ قرار دیا۔

ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی مکمل ہونے تک ملک کو امریکا چلائے گا اور امریکی تیل کمپنیاں فوری طور پر وہاں جا کر تیل کی نکاسی شروع کریں گی۔ یہ بیانات وینزویلا اور امریکا کے درمیان طویل کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں۔

علی موسیٰ گیلانی کا تفصیلی بیان

علی موسیٰ گیلانی نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ عالمی معاشی اور سیاسی منظر نامے میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق وینزویلا کے تیل ذخائر دنیا کے سب سے بڑے ہیں اور ان پر کنٹرول حاصل کر کے امریکا نے اپنی توانائی کی خودمختاری کو ناقابل تسخیر بنا لیا ہے۔ گیلانی نے زور دیا کہ اب مغربی ممالک مشرق وسطیٰ کے کسی بھی بحران، جنگ یا سپلائی چین میں رکاوٹ کی صورت میں بھی تیل کی کمی کا شکار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام عالمی طاقتوں کے توازن کو تبدیل کر دے گا اور لاطینی امریکہ میں نئی سیاسی حرکیات جنم لے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائے۔

وینزویلا کے تیل ذخائر کی عالمی اہمیت

وینزویلا کے پاس دنیا کے ثابت شدہ تیل ذخائر کا سب سے بڑا حصہ ہے جو تقریباً 303 ارب بیرل ہے۔ یہ مقدار سعودی عرب، ایران اور عراق کے ذخائر سے بھی زیادہ ہے۔ عالمی توانائی ایجنسیوں کے مطابق یہ ذخائر عالمی کل تیل کا تقریباً 17 سے 18 فیصد ہیں۔ تاہم، مادورو حکومت کے دور میں سیاسی اور معاشی بحران کی وجہ سے تیل کی پیداوار انتہائی کم ہو گئی تھی جو کبھی روزانہ 3 ملین بیرل سے زیادہ تھی مگر حالیہ برسوں میں ایک ملین سے بھی نیچے آ گئی تھی۔

امریکی کمپنیوں کی آمد سے توقع ہے کہ پیداوار دوبارہ تیزی سے بڑھے گی۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ مناسب سرمایہ کاری سے وینزویلا دوبارہ روزانہ 3 سے 4 ملین بیرل تیل پیدا کر سکتا ہے جو عالمی مارکیٹ پر تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ، امریکی کمپنیاں تیل کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی کریں گی جو وینزویلا کی معیشت کو بحال کرنے میں مدد دے گی۔

عالمی برادری کا ردعمل

یہ امریکی کارروائی عالمی سطح پر شدید تنازع کا باعث بن گئی ہے۔ روس، چین اور ایران نے اسے کھل کر مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یہ ایک خطرناک مثال ہے جو عالمی استحکام کو نقصان پہنچائے گی۔ چین نے بھی اقوام متحدہ میں اس معاملے کو اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

لاطینی امریکہ کے ممالک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ برازیل، ارجنٹائن اور میکسیکو نے مشترکہ بیان میں اس کارروائی کو علاقائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کسی کی کالونی نہیں بنے گا اور ملک اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

یورپی یونین نے زیادہ محتاط موقف اپنایا ہے اور دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ برطانیہ اور کینیڈا نے مادورو حکومت کی مذمت تو کی مگر فوجی کارروائی پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ممکنہ عالمی اور علاقائی اثرات

یہ واقعہ عالمی سیاست میں ایک نیا باب کھول رہا ہے۔ سب سے بڑا اثر تیل کی عالمی مارکیٹ پر پڑے گا جہاں قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔ امریکا کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کم کرنا پڑے گا جو اس کی خارجہ پالیسی کو زیادہ آزادی دے گا۔

دوسری طرف، لاطینی امریکہ میں امریکی اثر و رسوخ بڑھے گا مگر ساتھ ہی مزاحمتی تحریکیں بھی جنم لے سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ڈرگ ٹریفکنگ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کی گئی ہے مگر اس کے طویل مدتی نتائج علاقائی عدم استحکام کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ خبر اچھی ہو سکتی ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی بڑھنے سے قیمتیں کم ہو سکتی ہیں جو مہنگائی پر قابو پانے میں مدد دے گی۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثرات

پاکستان نے ہمیشہ غیر ملکی مداخلت کے خلاف موقف اپنایا ہے۔ علی موسیٰ گیلانی کا بیان بھی اسی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال میں توازن برقرار رکھنا ہو گا کیونکہ وہ امریکا کا اہم اتحادی ہے مگر ساتھ ہی روس اور چین کے ساتھ بھی گہرے تعلقات رکھتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ میں اس معاملے پر غیر جانبدار رہے گا اور سفارتی سطح پر دونوں فریقوں سے بات چیت کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

وینزویلا پر امریکی کارروائی کی وجہ کیا ہے؟

مادورو حکومت پر ڈرگ ٹریفکنگ، کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات۔

علی موسیٰ گیلانی نے اسے کیوں اہم قرار دیا؟

کیونکہ اس سے امریکا کو دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر پر کنٹرول مل گیا اور عالمی توازن تبدیل ہو گیا۔

وینزویلا کے تیل ذخائر کتنے ہیں؟

تقریباً 303 ارب بیرل، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

عالمی ردعمل کیا رہا؟

روس، چین اور لاطینی ممالک نے شدید مذمت کی، یورپ محتاط ہے۔

پاکستان پر اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

تیل کی قیمتیں کم ہونے سے معاشی فائدہ ممکن ہے۔

نتیجہ

وینزویلا پر امریکی کارروائی نہ صرف ایک ملک کے اندرونی معاملات بلکہ عالمی طاقت کے توازن، توانائی کی سیاست اور بین الاقوامی قوانین پر گہرے سوالات اٹھا رہی ہے۔ علی موسیٰ گیلانی کا بیان اس صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ سفارتی حل تلاش کرے تاکہ مزید تنازعات سے بچا جا سکے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ تیل اب بھی عالمی سیاست کا سب سے اہم عنصر ہے اور اس پر کنٹرول عالمی طاقت کا بنیادی ستون ہے۔

عوام سے اپیل ہے کہ وہ عالمی امور پر نظر رکھیں اور اپنے نمائندوں سے ایسے اقدامات کا مطالبہ کریں جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں۔

Disclaimer: All discussed information is based on public reports; verify independently.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے