لیاری گینگ وار کے سابقہ کمانڈر رحمان ڈکیت کا بھتیجا ساتھی سمیت گرفتار

لیاری گینگ وار

کراچی کے ضلع سٹی میں پولیس نے ایک اہم اور کامیاب کارروائی انجام دیتے ہوئے لیاری گینگ وار کے بدنام زمانہ سابقہ کمانڈر رحمان ڈکیت کے بھتیجے حارث کو اس کے قریبی ساتھی راشد علی سمیت دوران واردات رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری تھانہ کلا کوٹ کی حدود سے عمل میں آئی جہاں دونوں ملزمان مبینہ طور پر جرائم کی ایک اور واردات میں مصروف تھے۔ یہ کارروائی کراچی پولیس کی جرائم کے خلاف مسلسل مہم کا حصہ ہے جو شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

گرفتاری کی تفصیلات

ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کی براہ راست ہدایات اور نگرانی میں ضلع سٹی پولیس کی ایک خصوصی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر فوری ایکشن لیا۔ پولیس ٹیم نے لیاری کے علاقے کلا کوٹ میں گشت کے دوران مشکوک افراد کو دیکھا جو ایک موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش میں مصروف تھے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو موقع پر ہی دبوچ لیا۔

گرفتار ملزمان کی شناخت حارث اور راشد علی کے نام سے ہوئی۔ پولیس ترجمان کے مطابق حارث، لیاری گینگ وار کے سابقہ بدنام زمانہ کمانڈر رحمان ڈکیت کا براہ راست بھتیجا ہے۔ راشد علی اس کا قریبی ساتھی اور گینگ کا فعال رکن رہ چکا ہے۔ دونوں ملزمان کے قبضے سے ایک غیر قانونی پسٹل، متعدد راؤنڈز اور ایک چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔ یہ موٹر سائیکل چند دن پہلے ہی تھانہ کلا کوٹ میں چوری کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی۔

Latest Government Jobs in Pakistan

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ملزمان واردات مکمل کرنے سے پہلے ہی پکڑے گئے جس سے علاقے میں ایک بڑا جرم ہونے سے رک گیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ کلا کوٹ میں نئے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جن میں ڈکیتی کی کوشش، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور موٹر سائیکل چھیننے کے الزامات شامل ہیں۔ مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ دونوں ملزمان کے خلاف مزید پرانے مقدمات بھی کھل کر سامنے آئیں گے۔

ملزمان کا مجرمانہ ماضی

ترجمان ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کے مطابق دونوں گرفتار ملزمان اس سے قبل بھی متعدد سنگین جرائم میں ملوث رہ چکے ہیں۔ حارث اور راشد علی دونوں کئی بار پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔ ان کے خلاف بھتہ خوری، فائرنگ، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے مقدمات درج ہیں۔ رحمان ڈکیت کے خاندان سے تعلق کی وجہ سے حارث کو گینگ وار کے دوران خاص اہمیت حاصل تھی اور وہ اپنے چچا کی باقیات کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ لیاری گینگ وار کے بڑے سرغنہوں کے خاتمے کے بعد ان کے خاندانوں اور قریبی ساتھیوں کے ذریعے جرائم کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ ایسی کارروائیاں ان کوششوں کو ناکام بنا رہی ہیں۔

لیاری گینگ وار کا تاریخی پس منظر

لیاری کراچی کا ایک قدیم اور گنجان آباد علاقہ ہے جو کبھی بلوچ ثقافت، فٹ بال اور فنون لطیفہ کے لیے مشہور تھا۔ مگر 2000 کی دہائی کے وسط سے یہاں گینگ وار نے جنم لیا جو شہر کے بدترین جرائم کے ادوار میں سے ایک بن گیا۔ عزیر بلوچ، بابا لاڈلا، رحمان ڈکیت اور دیگر کمانڈرز نے یہاں اپنے اپنے گروپ قائم کیے جو بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، زمینوں پر قبضہ اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔

رحمان ڈکیت ان میں سے ایک اہم نام تھا جو اپنی سفاکی اور اثر و رسوخ کی وجہ سے خوف کی علامت بن چکا تھا۔ اس کے گروپ نے لیاری کے کئی علاقوں پر کنٹرول قائم کر رکھا تھا۔ 2013-2014 میں کراچی آپریشن کے دوران رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں میں رحمان ڈکیت سمیت متعدد بڑے سرغنہ ہلاک یا گرفتار ہو گئے۔ اس کے بعد لیاری میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی مگر مکمل خاتمہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔

اب بھی کبھی کبھار گینگ وار کی باقیات سر اٹھاتی ہیں۔ نئے نوجوان گروپس بناتے ہیں یا پرانے سرغنہوں کے خاندان جرائم کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں علاقے کو مکمل طور پر جرائم سے پاک کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔

کراچی میں موجودہ امن و امان کی صورتحال

حالیہ برسوں میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔ 2013 کے آپریشن سے پہلے شہر میں روزانہ متعدد ٹارگٹ کلنگز، بھتہ خوری اور اسٹریٹ کرائم عام تھے۔ اب یہ تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ سندھ پولیس اور رینجرز کی مشترکہ کوششوں سے شہر جرائم کے لحاظ سے نسبتاً محفوظ ہو گیا ہے۔

لیاری بھی اس بہتری سے مستثنیٰ نہیں۔ علاقے میں پولیس کی گشت بڑھا دی گئی ہے، سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں اور کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب رات کو گھر سے نکلنے میں پہلے جیسا خوف نہیں رہا۔ تاہم چھوٹے موٹے جرائم جیسے موٹر سائیکل چھیننے، موبائل چوری اور منشیات کی فروخت اب بھی مسائل ہیں جن پر پولیس مسلسل کام کر رہی ہے۔

ایسی گرفتاریاں نہ صرف جرائم کی روک تھام کرتی ہیں بلکہ عوام میں پولیس پر اعتماد بھی بڑھاتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو لیاری ایک بار پھر پرامن اور ترقی یافتہ علاقہ بن سکتا ہے۔

Latest Government Jobs in Pakistan

پولیس کی جرائم کے خلاف مہم

سندھ پولیس خاص طور پر کراچی پولیس نے جرائم کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرچ آپریشنز، انکاؤنٹرز اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ ضلع سٹی کے ایس ایس پی عارف عزیز کی قیادت میں پولیس ٹیمیں دن رات مصروف عمل ہیں۔

حالیہ مہینوں میں لیاری، اورنگی، کورنگی اور دیگر جرائم خیز علاقوں میں متعدد کامیاب کارروائیاں ہوئیں جن میں اسلحہ، منشیات اور چوری کی گاڑیاں برآمد کی گئیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو شہر میں کوئی جگہ نہیں دی جائے گی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

رحمان ڈکیت کون تھا؟

رحمان ڈکیت لیاری گینگ وار کا ایک بدنام زمانہ کمانڈر تھا جو بھتہ خوری، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ وہ 2010 کی دہائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔

گرفتار ملزم حارث کا رحمان ڈکیت سے کیا رشتہ ہے؟

حارث رحمان ڈکیت کا براہ راست بھتیجا ہے۔

گرفتاری کہاں اور کیسے ہوئی؟

تھانہ کلا کوٹ کی حدود میں دوران واردات رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔

برآمد ہونے والی اشیاء کیا تھیں؟

غیر قانونی اسلحہ، گولیاں اور چھینی گئی موٹر سائیکل۔

Latest Government Jobs in Pakistan

لیاری میں اب جرائم کی کیا صورتحال ہے؟

پہلے سے بہت بہتر مگر چھوٹے جرائم اب بھی موجود ہیں۔ پولیس مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔

نتیجہ

رحمان ڈکیت کے بھتیجے کی گرفتاری ایک عام خبر نہیں بلکہ لیاری میں جرائم کے خاتمے کی طرف ایک اور کامیاب قدم ہے۔ یہ کارروائی ثابت کرتی ہے کہ پولیس اب بھی الرٹ ہے اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ امید ہے کہ ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی اور کراچی بالخصوص لیاری مکمل طور پر پرامن ہو جائے گا۔

عوام سے اپیل ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں، مشکوک افراد کی اطلاع دیں اور جرائم کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں۔

Disclaimer: All discussed information is based on public reports; verify independently.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے