پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بسنت کے تہوار کے موقع پر ایک دلچسپ اور مثبت پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے بعد لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت کی رنگین بہار واپس لوٹ آئی ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور نوجوان سب اس تہوار کو پورے جوش و جذبے سے منا رہے ہیں۔ لاہور کی گلیاں، کوچے اور چوک پتنگوں کے رنگوں سے سج گئے ہیں۔ آسمان میں اڑتی ہوئی پتنگیں اور لوگوں کی خوشیوں کی آوازیں شہر بھر میں گونج رہی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا: "کوئی کسی کو تنگ نہیں کررہا، سب اپنی مستی میں ہیں۔” انہوں نے دعا کی کہ یہ خوشیاں کم از کم تین دن تک برقرار رہیں اور کسی کی نظر نہ لگے۔ وزیر اطلاعات کے اس پیغام نے عوام میں خوشی اور جوش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پنجاب میں تین روزہ عام تعطیل
پنجاب حکومت نے بسنت کے تہوار کو یادگار بنانے کے لیے 6، 7 اور 8 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس تعطیل کی وجہ سے لوگوں کو کام سے چھٹی مل گئی ہے اور وہ پورے دل سے اس تہوار میں حصہ لے رہے ہیں۔ لاہور کے علاوہ فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں بھی بسنت کی تقریبات زوروں پر ہیں۔ بازاروں میں پتنگیں، ڈور، چھریاں اور دیگر لوازمات کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ پتنگ اور ڈور کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود دکانیں خریداروں سے بھری ہوئی ہیں۔
لاہور کی سڑکوں پر رنگین پتنگیں
لاہور کی تاریخی گلیاں اور جدید سڑکیں آج کل پتنگوں کے رنگوں سے جگمگا رہی ہیں۔ شالیمار باغ، مینا بازار، انارکلی، لوہاری گیٹ اور دیگر مقامات پر لوگ خاندان سمیت جمع ہو رہے ہیں۔ چھتوں پر پتنگ بازی کا منظر دیکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بچے، نوجوان اور بزرگ سب مل کر پتنگیں اڑا رہے ہیں۔ یہ مناظر 25 سال بعد لاہور میں دوبارہ دیکھنے کو مل رہے ہیں جو شہریوں کے لیے ایک خاص خوشی کا باعث بنے ہیں۔
حفاظت کے سخت اقدامات
بسنت کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ حفاظت کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ لاہور میں مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ حادثات زیادہ تر کٹی پتنگوں، غیر محفوظ ڈور اور چھتوں سے گرنے کی وجہ سے پیش آئے۔ حکومت نے اس حوالے سے سخت اقدامات کیے ہیں۔ لاہور کو تین زونز (ریڈ، یلو، گرین) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ریڈ زون میں صرف سیفٹی راڈ والی بائیکس کی اجازت ہے۔ خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
حکومت نے عوام کی سہولت کے لیے اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس اور الیکٹرک بسیں تین دن تک مفت چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ٹریفک کے دباؤ کو کم کرے گا اور لوگوں کو تقریبات میں آسانی سے شرکت کا موقع دے گا۔
بسنت کی تقریبات اور ثقافتی رنگ
بسنت صرف پتنگ بازی تک محدود نہیں۔ شہر بھر میں ثقافتی میلے، موسیقی کی محافل، فوڈ فیسٹیولز اور لائیو پرفارمنسز کا اہتمام کیا گیا ہے۔ گریٹر اقبال پارک اور دیگر مقامات پر خصوصی پروگرام منعقد ہو رہے ہیں۔ یہ تہوار نہ صرف خوشیاں لا رہا ہے بلکہ پنجاب کی روایتی ثقافت کو بھی زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بسنت منانے کے لیے حفاظتی ٹپس
- صرف سیفٹی راڈ استعمال کریں اور ہیلمٹ لازمی پہنیں۔
- کیمیکل یا دھاتی ڈور سے مکمل پرہیز کریں۔
- بچوں کو چھتوں پر بغیر نگرانی کے نہ چھوڑیں۔
- کٹی پتنگوں کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔
- ایمرجنسی میں فوری 15 یا 1122 پر کال کریں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی میڈیکل رپورٹ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. بسنت 2026 کب تک منایا جا رہا ہے؟
6 سے 8 فروری تک تین روزہ تہوار جاری رہے گا۔
2. پنجاب میں بسنت کی تعطیل کتنی دن ہے؟
6، 7 اور 8 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
3. حفاظتی اقدامات کیا ہیں؟
زون کی تقسیم، سیفٹی راڈ کی لازمیت، ڈور پر پابندی اور پولیس الرٹ۔
4. مفت ٹرانسپورٹ کون سی سروسز میں دستیاب ہے؟
اورنج لائن، میٹرو بس اور الیکٹرک بسیں تین دن تک مفت چلیں گی۔
5. بسنت کے دوران سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟
کٹی پتنگیں، غیر محفوظ ڈور اور چھتوں سے گرنا سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔
بسنت پنجاب کی ثقافت کا رنگین حصہ ہے۔ یہ تہوار خوشیوں، دوستی اور خاندانی اتحاد کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آپ اس تہوار کو کس طرح منا رہے ہیں؟ اپنے تجربات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔ اس آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور تازہ اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور براہ راست خبریں حاصل کریں—یہ مکمل مفت اور بہت آسان ہے!
(نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کر لیں۔)