ہماری تمہاری کھلی جنگ، اب دما دم مست قلندر ہوگا، خواجہ آصف کا افغان طالبان رجیم کو واضح پیغام

خواجہ آصف

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پر ایک انتہائی سخت اور براہ راست پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے افغان طالبان رجیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج اس وقت بھارت کی پراکسی طالبان اور افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ انشاء اللہ، شکست دشمن کا مقدر ہے۔

بیان کا مکمل متن

خواجہ آصف نے اپنے پیغام میں کہا کہ نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع تھی کہ افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقائی استحکام پر توجہ دیں گے۔ مگر افسوس کہ طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا۔

انہوں نے مزید کہا:

Latest Government Jobs in Pakistan
  • ساری دنیا کے دہشت گردوں کو افغانستان میں جمع کر لیا
  • دہشت گردی کو دوسرے ممالک کی طرف ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا
  • اپنے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا
  • خواتین کو اسلام کے دیے گئے حقوق بھی چھین لیے

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان نے براہ راست رابطوں اور دوست ممالک کی مدد سے حالات نارمل رکھنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ سفارتی سطح پر مکمل تعاون کیا گیا، مگر طالبان بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان کے خلاف جارحیت پر اتر آئے۔ آج جب پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو ہماری افواج نے فیصلہ کن اور سخت جواب دیا۔

طالبان کو سخت تنبیہ

خواجہ آصف نے طالبان کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا:

“پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہے، ہم تمہارے ہمسائے ہیں، تمہاری اوقات جانتے ہیں۔ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔”

یہ بیان پاک افغان سرحد پر جاری شدید کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پاک فوج نے سرحد پار سے آنے والے حملوں کے جواب میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ فضائی کارروائیوں، ڈرون حملوں اور توپ خانے کے ذریعے متعدد چوکیاں تباہ کی گئیں اور متعدد جنگجو ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائی “آپریشن غضب للحق” کے نام سے کی گئی جس میں پاک فضائیہ نے کابل اور قندھار کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا۔

پاکستان کا تاریخی موقف اور موجودہ چیلنجز

پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور انہیں تحفظ فراہم کیا۔ مگر اب سرحد پار سے مسلسل دہشت گردانہ حملوں اور جارحیت کے بعد صبر جواب دے چکا ہے۔ وزیر دفاع کے الفاظ میں یہ واضح ہے کہ پاکستان اب مزید برداشت نہیں کرے گا اور ہر جارحیت کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

اہم نکات:

  • طالبان نے خواتین کے حقوق ختم کر دیے
  • دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کی
  • پاکستان کے خلاف بھارت کی پراکسی کا کردار ادا کیا
  • سرحدی علاقوں میں مسلسل جارحیت جاری رکھی

یہ صورتحال علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان ہوش کے ناخن لیں ورنہ انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیں گے: گورنر سندھ

Latest Government Jobs in Pakistan

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

1. خواجہ آصف کا بیان کب جاری ہوا؟

27 فروری 2026 کو سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔

2. “دما دم مست قلندر ہوگا” سے کیا مراد ہے؟

یہ ایک جذباتی اور علامتی جملہ ہے جو شدید ردعمل اور فیصلہ کن کارروائی کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی اب صبر ختم ہو چکا ہے اور سخت جواب دیا جائے گا۔

3. پاکستان نے کون سا آپریشن شروع کیا؟

“آپریشن غضب للحق” کے تحت فضائی اور زمینی کارروائیاں کی گئیں جن میں متعدد چوکیاں تباہ کی گئیں۔

4. کیا یہ کھلی جنگ کا اعلان ہے؟

وزیر دفاع کے الفاظ میں “اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے” کہا گیا ہے، جو شدید کشیدگی اور ممکنہ مزید کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

5. پاکستان کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟

حکومت اور فوج کا موقف ہے کہ سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، مگر کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

Latest Government Jobs in Pakistan

کیا آپ کیا سوچتے ہیں؟

کیا پاکستان کا یہ سخت جواب درست اور ضروری ہے؟

اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔ اس بحث میں آپ کی رائے اہم ہے۔

یہ کھلی جنگ کا اعلان علاقے کو مزید غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ پاکستان کو سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ دفاعی تیاری بھی جاری رکھنی چاہیے۔

قارئین، اس اہم خبر کو شیئر کریں، کمنٹس میں اپنی رائے دیں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں۔ بائیں طرف موجود فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور بریکنگ نیوز فوری حاصل کریں – آپ کی آسانی ہماری ترجیح ہے!

Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے