CDA نے ٹیکس فنڈڈ سٹری ڈاگ شیلٹر میں عوامی داخلے کو کھلے عام انکار کر دیا

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) اسلام آباد، جو وفاقی دارالحکومت کی ترقی اور انتظامی امور کی ذمہ دار ہے، حال ہی میں ایک متنازعہ عدالتی مقدمے کی وجہ سے عوامی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 12 نومبر 2025 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سننے والا مقدمہ نیلوفر بمقابلہ چیف کمشنر، جانوروں کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اہم ہے۔ اس مقدمے میں ماحولیاتی اور جانوروں کے حقوق کے مشیران پاکستان کی جانب سے ایڈووکیٹ الطموش سعید نے دلائل پیش کیے، جو CDA کے سٹری ڈاگ مینجمنٹ پروگرام کی شفافیت اور انسانی طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہیں۔

عدالت میں پیش کی گئی تفصیلی سمریسیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی طرف سے جمع کرائی گئی "ابتدائی فریم ورک” کو دراصل فریم ورک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ 2020 میں تشکیل دی گئی پالیسی نفاذ کمیٹی کے بارے میں غلط معلومات ریکارڈ پر پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر غنی اکرم، جو اس کمیٹی کے کو چیئرمین اور پالیسی کے مصنف ہیں، نے عدالت کو بتایا کہ یہ کمیٹی 2020 کے بعد ایک بھی میٹنگ نہیں کر سکی اور اسے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا—ایک حقیقت جو 9 اکتوبر کی کارروائی میں عدالت نے تسلیم کی تھی۔

درخواست گزاروں نے کمیٹی کی دوبارہ تشکیل اور CDA کی جمع کرائی گئی دستاویزات کی دوبارہ جانچ کی درخواست کی۔ یہ مقدمہ CDA stray dog shelter کی شفافیت پر مرکوز ہے، جہاں ٹیکس فنڈڈ animal shelter Pakistan کی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

CDA animal shelter controversy: شیلٹر تک رسائی کیوں انکار؟

سُننے کی سب سے متنازعہ بحث CDA stray dog shelter تک عوامی رسائی کی درخواست پر تھی۔ درخواست گزاروں نے اسے معمول کی درخواست قرار دیا، مگر CDA کی جانب سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔ شیلٹر، جو barbed wire سے گھرا ہوا ہے اور مبصرین کے لیے مکمل طور پر بند ہے، ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلتا ہے۔ CDA کے وکیل نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو "ایکٹیوسٹ” قرار دیا اور کہا کہ جانوروں کے حقوق کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

درخواست گزاروں نے جوابی طور پر کہا کہ اگر شیلٹر درست طریقے سے کام کر رہا ہے تو عوامی داخلے میں کیا حرج ہے؟ انہوں نے CDA denies public entry کے الزامات لگاتے ہوئے ممکنہ بدعنوانیوں کا ذکر کیا، بشمول غیر قانونی طور پر کتوں کی ہلاکت۔ TNVR (Trap-Neuter-Vaccinate-Release) پروگرام کے تحت فی کتا 19,000 روپے مختص ہیں، مگر انسانی طریقہ کار پر صرف ایک چھوٹا حصہ خرچ ہوتا ہے—یہ سب کچھ شیلٹر کی سربستہ حالت کی وجہ سے تصدیق نہیں ہو سکتا۔

  • ممکنہ مسائل کی نشاندہی: شیلٹر کی عدم شفافیت سے غیر قانونی ہلاکت، خراب حالات، اور فنڈز کی غلط استعمال کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
  • عدالتی ردعمل: جسٹس خادم حسین سومرو نے 11 نومبر کے دھماکے کی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے کیس کو 20 نومبر تک ملتوی کر دیا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ مسلسل انکار "انتہائی تشویشناک” ہے۔

Islamabad dog shelter access issues: پس منظر اور اعداد و شمار

پاکستان میں سٹری کتوں کی تعداد تقریباً 30 لاکھ ہے، جبکہ ہر سال ایک ملین سے زائد کتا کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (2025 کی ابتدائی دو ماہ میں 10,000 سے زائد کیسز)۔ اسلام آباد میں یہ مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے، جہاں 2021 کے بعد شہری سطح پر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، مگر TNVR پروگرام کی ناکامی کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں ان 5 بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے بند کیں اپنی مینوفیکچرنگ آپریشنز

پنجاب میں TNVR پروگرام کو سٹری جانوروں کی آبادی کنٹرول کرنے اور فلاحِ جانور کے لیے مثبت قدم قرار دیا گیا ہے، مگر پاکستان میں اس کی آگاہی صرف 39.5% ہے (2025 کی ایک تحقیق کے مطابق)۔ CDA animal welfare issues اس تناظر میں مزید سنگین ہو جاتے ہیں، کیونکہ شیلٹر کی بند حالت سے پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ناممکن ہے۔

TNVR پروگرام کی افادیت: ایک جائزہ

  • فوائد: آبادی میں 70% کمی، rabies کی روک تھام، اور انسانی طریقہ کار۔
  • چیلنجز: کم آگاہی (صرف 1.42% طبی طلبہ کو TNVR کی معلومات)، فنڈز کی کمی، اور شفافیت کی عدم موجودگی۔
  • مثال: انڈیا کے ممبئی میں TNVR سے سٹری کتوں کی تعداد 50% کم ہوئی، جو پاکستان کے لیے سبق ہے۔

stray dog shelter transparency: عوام کیا کر سکتا ہے؟

یہ CDA animal shelter controversy نہ صرف جانوروں کے حقوق بلکہ عوامی فنڈز کی نگرانی کا معاملہ ہے۔ عوام کو درج ذیل اقدامات اٹھانے چاہییں:

  1. شکوک رجسٹر کریں: CDA یا مقامی کونسل کو شکایات بھیجیں۔
  2. آگاہی پھیلائیں: سوشل میڈیا پر TNVR کی فوائد شیئر کریں۔
  3. عدالتی مدد: جانوروں کے حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کریں، جیسے Environmental and Animal Rights Consultants۔

FAQs: عام سوالات

TNVR کیا ہے؟

Trap-Neuter-Vaccinate-Release، جو سٹری جانوروں کو پکڑ کر جراثیم کش، ویکسین لگا کر واپس چھوڑنے کا انسانی طریقہ ہے۔

CDA شیلٹر کیسے رسائی حاصل کریں؟

عدالت کے ذریعے درخواست دیں؛ عوامی دباؤ بڑھائیں۔

کیا CDA فنڈز کا غلط استعمال ہو رہا ہے؟

19,000 روپے فی کتا مختص، مگر اخراجات کی تفصیلات نہ ہونے سے شکوک ہیں۔

انٹرایکٹو پول: آپ کا کیا خیال ہے؟

کیا CDA کو stray dog shelter میں عوامی رسائی کی اجازت دینی چاہیے؟

  • ہاں، شفافیت ضروری ہے۔
  • نہیں، سیکیورٹی مسائل ہیں۔ (اپنے ووٹ کمنٹس میں دیں اور شئیر کریں!)

اختتام: شفافیت کی لڑائی جاری

یہ مقدمہ بتاتا ہے کہ ٹیکس فنڈڈ اداروں میں شفافیت کیسے انسانی اور ماحولیاتی اقدار کو مضبوط بناتی ہے۔ 20 نومبر کی سماعت سے قبل، عوامی دباؤ بڑھانا ضروری ہے۔ کیا CDA کچھ چھپا رہا ہے؟

کال ٹو ایکشن: اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں، اس آرٹیکل کو دوستوں تک پہنچائیں، اور تازہ اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو جوائن کریں! بائیں طرف فلوٹنگ WhatsApp بٹن پر کلک کریں—نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ذریعے فوری الرٹس حاصل کریں۔ ابھی جوائن کریں اور اس اہم مسئلے میں حصہ ڈالیں!

نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ کسی بھی قدم سے پہلے تصدیق کریں۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے