صحت کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ تین سالوں میں پانچ بڑی ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے پاکستان میں اپنی مینوفیکچرنگ یونٹس کو بند یا منتقل کر دیا ہے۔ صحت وزیر سید مصطفیٰ کمال نے جمعہ کو اسمبلی اجلاس میں تصدیق کی کہ بائر، آئی سی آئی پاکستان، سینوفی ایونٹس، پفائزر اور نووارٹس نے اپنی مقامی پروڈکشن سہولیات کو مقامی کمپنیوں کے حوالے کر دیا ہے۔ وزیر نے واضح کیا کہ یہ فیصلے پروڈکشن لائنز کی بندش نہیں بلکہ کمپنیوں کی اسٹریٹجک شفٹ کا حصہ ہیں، اور نئی ملکیت کے تحت سہولیات فعال ہیں تاکہ ضروری ادویات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
یہ خبر پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں گلوبل کمپنیوں کا انخلا (Pharma companies exit Pakistan) نہ صرف معاشی چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے بلکہ مقامی صنعت کی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
کمپنیوں کے انخلا کی تفصیلات
ان کمپنیوں نے اپنی مینوفیکچرنگ آپریشنز کو منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو پاکستان کی فارماسیوٹیکل مارکیٹ (Pharmaceutical companies shutting down Pakistan) میں تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔ یہاں اہم سہولیات کی فہرست ہے:
- بائر کا لاہور یونٹ: یہ پلانٹ اب مقامی کمپنی کے پاس ہے اور ادویات کی پیداوار جاری ہے (Bayer leaves Pakistan manufacturing)۔
- آئی سی آئی پاکستان کی ملٹی سٹی آپریشنز: متعدد شہروں میں پھیلی ہوئی سہولیات مقامی اداروں کو منتقل (ICI Pakistan divests pharma operations)۔
- سینوفی ایونٹس کا کورنگی انڈسٹریل پلانٹ: کراچی کی یہ فیسیلٹی نئی ملکیت میں فعال (Sanofi-Aventis Pakistan exit)۔
- پفائزر کا ایس آئی ٹی ای کراچی سائٹ: ضروری دوائیوں کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے مقامی ہینڈ اوور (Pfizer factory sold Pakistan)۔
- نووارٹس کا ویسٹ وارف فیسیلٹی: کراچی میں واقع یہ پلانٹ بھی ٹرانسفر ہو چکا ہے (Novartis divests in Pakistan)۔
یہ تبدیلیاں گزشتہ تین سالوں میں ہوئیں، اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ سپلائی چین متاثر نہیں ہوئی۔ تاہم، انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، یہ Multinational pharma companies leave Pakistan کا تسلسل ہے، جو معاشی اور ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
کیوں چھوڑ رہی ہیں گلوبل فارما کمپنیاں پاکستان؟ (Why pharma giants are leaving Pakistan)
حکومت کی بریفنگ میں وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا، مگر حالیہ رپورٹس اور تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلے کئی چیلنجز کا نتیجہ ہیں۔ ڈان نیوز اور کلینک سرچ آن لائن کی رپورٹس کے مطابق، کلیدی وجوہات یہ ہیں:
- ریگولیٹری رکاوٹیں: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی قیمتوں کی منظوری میں تاخیر اور پروموٹل ایتھکس کی کمی (Foreign pharmaceutical divestment Pakistan)۔
- معاشی عدم استحکام: روپے کی قدر میں کمی، امپورٹڈ خام مال کی مہنگائی، اور منافع کی منتقلی پر پابندیاں (Pakistan pharmaceutical industry challenges)۔
- ہائی کارپوریٹ ٹیکسز: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاروباری ماحول کی سختی کمپنیوں کو مجبور کر رہی ہے (Global pharma companies Pakistan shutdown)۔
ایک ریسرچ گیٹ سٹڈی (2025) کے مطابق، 48 سے کم ہو کر اب صرف 22 ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں فعال ہیں، جو انڈسٹری کی 97% مارکیٹ کو کنٹرول کرتی تھیں۔ یہ شفٹ Strategic shift pharma companies Pakistan کا حصہ ہے، جہاں کمپنیاں ایشیا کے دیگر ممالک کی طرف جا رہی ہیں۔
پاکستان کی دوا کی فراہمی پر اثرات (Impact of pharma exits on Pakistan drug supply)
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹرانسفرز کی وجہ سے ضروری ادویات کی سپلائی برقرار ہے، مگر PMC کی 2024 رپورٹ کے مطابق، یہ انخلاء ہیلتھ سسٹم پر بوجھ بڑھا رہا ہے۔ کلیدی اثرات:
- قیمتوں میں اضافہ: مقامی کمپنیوں کے کنٹرول میں آنے کے بعد ادویات کی قیمتیں 10-20% بڑھ گئیں، جیسا کہ پرو پاکستانی کے کمنٹس میں دیکھا گیا۔
- ہنر مند افرادی قوت کا نقصان: ملٹی نیشنلز کی روانگی سے تربیت یافتہ ورک فورس متاثر، جو انوویشن کو روک رہی ہے۔
- شاٹیز کا خطرہ: ڈبلیو ایچ او رپورٹس کے مطابق، امپورٹڈ خام مال (80%+) کی مہنگائی سے بعض دوائیں جیسے انسولین اور گلائمی پیرائیڈ کی سپلائی کم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کے ڈالر بانڈز مارکیٹ حالات بہتر ہونے سے ریلی کو مزید بڑھانے والے ہیں
پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری 90% مقامی ڈیمانڈ پوری کرتی ہے، مگر 4% ایکٹو انگریڈینٹس امپورٹ ہوتے ہیں۔ 2025 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان اور انڈیا کے ساتھ ٹریڈ مسائل سے $200 ملین کی ایکسپورٹس متاثر ہوئیں، جو مقامی سپلائی کو مزید چیلنج کر رہے ہیں۔
پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے چیلنجز اور حل
یہ صورتحال Multinational drug companies divest Pakistan operations کو اجاگر کرتی ہے، مگر مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ مقامی کمپنیاں جیسے گیٹز فورما اب عالمی معیار کی دوائیں بنا رہی ہیں۔ ایکشن ایبل ٹپس:
- حکومت کی جانب سے: DRAP کو تیز منظوریاں دیں اور ٹیکس انسینٹوز بڑھائیں۔
- انڈسٹری کے لیے: R&D میں انویسٹمنٹ بڑھائیں اور ایکسپورٹ فوکس کریں۔
- صارفین کے لیے: جعلی ادویات سے بچیں اور DRAP کی ویب سائٹ سے چیک کریں۔
فوری سوالات (FAQs)
کیا ادویات کی قیمتیں مزید بڑھیں گی؟
ہاں، مگر حکومت قیمت کنٹرول کی کوشش کر رہی ہے۔
کیا سپلائی متاثر ہو گی؟
نہیں، ٹرانسفرز کی وجہ سے جاری ہے، مگر مانیٹر کریں۔
مزید کمپنیاں چھوڑیں گی؟
ممکن، اگر ریگولیشنز نہ بہتر ہوں۔
مصروفیت بڑھائیں: ایک فوری پول
کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ انخلاء پاکستان کی ہیلتھ کیئر کو فائدہ دے گا یا نقصان؟ کمنٹ میں بتائیں: (A) فائدہ، (B) نقصان۔
یہ آرٹیکل آپ کو پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی تازہ ترین اپ ڈیٹس فراہم کرتا ہے۔ شیئر کریں، کمنٹ کریں، اور مزید نیوز کے لیے ہمارے ویب سائٹ کے متعلقہ سیکشنز ایکسپلور کریں۔ تازہ ترین الرٹس اور انسائٹس کے لیے، بائیں طرف کے فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کو آن کریں اور ہر اہم اپ ڈیٹ براہ راست آپ کے فون پر حاصل کریں! یہ مفت ہے اور آپ کی پرائیویسی محفوظ رہے گی – ابھی جوائن کریں اور انفارمد رہیں۔
Disclaimer: Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is based on public reports.