اسلام آباد پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ ٹریفک حمزہ ہمایوں نے بتایا کہ تشدد میں ملوث پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ سیکٹر آئی ایٹ مرکز میں پیش آیا جہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر روکے جانے والے ملزم نے اہلکاروں پر حملہ کیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا اور سنگین دفعات عائد کیں۔ یہ خبر سوشل میڈیا ویڈیو کی وجہ سے تیزی سے پھیل گئی۔
اسلام آباد پولیس نے ہفتے کو اعلان کیا کہ جمعے کی شب سیکٹر آئی ایٹ مرکز میں ٹریفک پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والے برٹش پاکستانی نوجوان عاقب نعیم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم پر تشدد، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاہ گاڑی میں سوار ملزم نے اہلکاروں کو گالیاں دیں، دھمکیاں دیں، تھپڑ مارا اور گاڑی چڑھانے کی کوشش کی۔
واقعہ کی تفصیلات
عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے ٹریفک سگنل توڑنے پر روکے جانے پر غصے کا اظہار کیا۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ:
ایس ایس پی ٹریفک حمزہ ہمایوں نے کہا: "ملزم عاقب نعیم کی گاڑی نمبر سے ٹریس کیا گیا۔ دو تین لوکیشنز کے بعد رات ڈھائی بجے پاکستان ٹاؤن کے فلیٹ سے گاڑی سمیت گرفتار کر لیا۔”
گرفتاری اور قانونی کارروائی
پولیس نے ملزم کو مجسٹریٹ عدالت پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہشت گردی کی دفعات اس لیے شامل کی گئیں کیونکہ:
- گاڑی میں غیر قانونی اسلحہ ملا۔
- اہلکاروں پر پستول تانا گیا۔
ایس ایس پی نے زور دیا: "پرتشدد رویوں کی کوئی اجازت نہیں۔ قانون کا احترام سب کے لیے لازم ہے۔” انہوں نے ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے عوام کا شکریہ بھی ادا کیا، جو پولیس کی فوری کارروائی کا سبب بنی.
ملزم کا ماضی
یہ بھی پڑھیں : پنجاب بار کونسل الیکشن 2025: راولپنڈی ڈویژن میں پرامن پولنگ اور ابتدائی نتائج
پولیس ریکارڈ کے مطابق عاقب نعیم نے ایک سال قبل پی ڈبلیو ڈی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک صحافی پر تشدد کیا تھا۔ تھانہ لوہی بھیر میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کروائی گئی تھی، جو اب نئے کیس سے منسلک ہو سکتی ہے۔
پولیس کی کارکردگی اور عوامی کردار
یہ کیس اسلام آباد پولیس کی تیزی دکھاتا ہے۔ گاڑی نمبر ٹریکنگ اور لوکیشن مانیٹرنگ سے چند گھنٹوں میں گرفتاری ممکن ہوئی۔ سوشل میڈیا ویڈیوز نے ثبوت فراہم کیے، جو جدید جرائم کی روک تھام میں اہم ہیں۔
اہم اعدادوشمار
- 2024 میں اسلام آباد میں ٹریفک خلاف ورزیاں: 1.2 ملین سے زائد۔
- تشدد کے کیسز پر گرفتاریاں: 85% فوری۔
- سوشل میڈیا کی مدد سے حل ہونے والے کیسز: 40% اضافہ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
ملزم پر کون سی دفعات لگائی گئیں؟
تشدد، اقدام قتل، انسداد دہشت گردی اور اسلحہ ایکٹ۔
گرفتاری کیسے ہوئی؟
گاڑی نمبر سے ٹریسنگ، پاکستان ٹاؤن سے رات ڈھائی بجے۔
کیا ملزم برٹش شہری ہے؟
جی ہاں، پاکستانی نژاد برطانوی شہری۔
ویڈیو کا کردار کیا تھا؟
ثبوت کے طور پر استعمال ہوئی، عوام کی مدد سے وائرل ہوئی۔
انٹرایکٹو عنصر: آپ کی رائے
کیا سوشل میڈیا جرائم روکنے میں پولیس کی مدد کرتا ہے؟
- ہاں، ثبوت فراہم کرتا ہے۔
- نہیں، پرائیویسی کا مسئلہ۔
- جزوی طور پر۔
(تبصرہ میں ووٹ دیں اور بحث کریں!)
یہ کیس قانون کی عملداری اور عوامی تعاون کی مثال ہے۔ تازہ اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں – بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور فوری خبریں حاصل کریں۔ یہ مفت ہے، آسان اور ہر لمحہ کی اپ ڈیٹس آپ کی جیب میں!