پنجاب بار کونسل پنجاب کے وکلاء کی اعلیٰ ترین نمائندہ تنظیم ہے جو قانونی پیشے کی نگرانی اور ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔ ہفتہ کو راولپنڈی ڈویژن میں آٹھ نشستوں کے لیے ہونے والی پولنگ پرامن اور منظم طریقے سے مکمل ہوئی۔ اب تک کی گنتی میں پانچ نشستوں پر واضح برتری سامنے آئی ہے جبکہ گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس میں ہزاروں وکلاء نے ووٹ ڈالے اور نتائج کے اعلان پر جشن کا ماحول دیکھا گیا۔
راولپنڈی ڈویژن میں پولنگ کا عمل صبح سے رات دیر گئے جاری رہا۔ 12,550 رجسٹرڈ وکلاء میں سے بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ 34 امیدوار آٹھ نشستوں کے لیے میدان میں تھے جن میں سے پانچ راولپنڈی، ایک ایک اٹک، جہلم اور چکوال کی تھیں۔ ہر ووٹر کو آٹھ ووٹ ڈالنے تھے جس سے پولنگ کا عمل قدرے سست رہا۔
ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس انتخابی میدان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وکلاء نے نتائج کے اعلان پر ناچ گانے اور نعرے لگائے۔ ماحول دوستانہ تھا جہاں مونگ پھلی، بھنے چنے، ریوڑی، بریانی، چکن پلاؤ، قہوہ اور چائے کی دعوت تھی۔ صبح کا آغاز حلوہ پوری سے ہوا۔ لاہور ہائیکورٹ نے بار الیکشن کی وجہ سے عدلیہ کے لیے عام چھٹی کا اعلان کیا تھا جو پنجاب میں وکلاء کے لیے سب سے بڑا انتخابی عمل ہے۔ اس کے باوجود وکلاء کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے آئی۔ چیمبرز ویران تھے جبکہ پولنگ سٹیشنز پر رونق تھی۔
خواتین وکلاء بھی فعال تھیں جن میں سے کئی شادی کے بعد پریکٹس سے دور ہوئیں تھیں۔ وہ پولنگ ایجنٹس کے طور پر بھی کام کر رہی تھیں۔ تمام بڑی سیاسی جماعتیں جیسے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی اپنے امیدواروں کی حمایت میں مصروف تھیں اور ووٹرز کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا۔
سینئر وکلاء نے بھی دن بھر مہم چلائی۔ ڈیوٹی ججز موجود تھے اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عابد رضوان عابد نے نگرانی کی۔ 20 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے۔ سیاسی شخصیات نے ووٹ ڈالے، کچھ امیدواروں کے سٹیکرز لگا کر جبکہ کچھ خاموشی سے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر فیصلہ کن ووٹرز نتائج کا فیصلہ کریں گے۔
ابتدائی نتائج کی تفصیلات
اب تک کی گنتی کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے نتائج یہ ہیں:
- ملک فخر حیات: 3415 ووٹ (سب سے آگے)
- سید حسن عباس ہمدانی: 2343 ووٹ
- فیصل ملک: 2048 ووٹ
- شاہد محمود عباسی: 2011 ووٹ
- قیصر مشتاق: 1850 ووٹ
- حیدر مرزا: 1477 ووٹ
یہ نتائج غیر حتمی ہیں اور مکمل گنتی کے بعد تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پنجاب بار کونسل الیکشن کی اہمیت
پنجاب بار کونسل وکلاء کی تربیت، اخلاقیات اور قانونی اصلاحات کی ذمہ دار ہے۔ یہ الیکشن پانچ سال کے لیے ہوتے ہیں اور مختلف ڈویژنز سے ارکان منتخب ہوتے ہیں۔ راولپنڈی ڈویژن میں راولپنڈی سے پانچ، اٹک، جہلم اور چکوال سے ایک ایک نشست ہے۔
دوسرے ڈویژنز کے نتائج کی جھلک
- سرگودھا: ارشد ہنجرا اور میاں عبدالقدیر جلیپ کامیاب
- حافظ آباد: شعیب بھٹی (تحریک انصاف کی حمایت سے) کامیاب
- مجموعی طور پر اعظم نذیر تارڑ اور احسن بھون گروپ نے 45 نشستیں جیتیں جبکہ تحریک انصاف کے امیدواروں نے 15 نشستیں حاصل کیں (گنتی جاری ہے 15 نشستوں پر)
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے طالبان حکومت کو استنبول مذاکرات پر ‘جان بوجھ کر حقائق مسخ کرنے’ کا الزام لگا دیا
FAQs
پنجاب بار کونسل کیا ہے؟
یہ پنجاب کے وکلاء کی نمائندہ باڈی ہے جو قانونی پیشے کو ریگولیٹ کرتی ہے۔
الیکشن کب ہوئے؟
1 نومبر 2025 کو راولپنڈی ڈویژن میں۔
کتنے امیدوار تھے؟
34 امیدوار آٹھ نشستوں کے لیے۔
نتائج کب فائنل ہوں گے؟
مکمل گنتی کے بعد، جلد متوقع۔
انٹرایکٹو پول
کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ نتائج پنجاب بار کونسل کو مزید موثر بنائیں گے؟
- ہاں، نئی قیادت مثبت تبدیلی لائے گی۔
- نہیں، مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
- غیر جانبدار، دیکھنا ہوگا۔
اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں تاکہ بحث مزید دلچسپ ہو!
یہ الیکشن قانونی برادری کے لیے اہم ہیں اور سیاسی جماعتوں کی دلچسپی اسے مزید اہم بناتی ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔ اپنے خیالات کمنٹ کریں، آرٹیکل شیئر کریں اور متعلقہ نیوز دیکھیں۔ ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشن آن کریں تاکہ تازہ ترین نیوز فوری ملے اور آپ کبھی پیچھے نہ رہیں!
Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is from public reports.