پاکستان نے پاسپورٹ کی اسرائیل شق میں تبدیلی اور غزہ میں 20 ہزار فوج بھیجنے کے بھارتی میڈیا دعووں کی تردید کردی۔ تفصیلات اور موقف جانیں۔
حکومت پاکستان نے جمعرات کو انڈین میڈیا کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر ’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق بدستور برقرار ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ پاسپورٹ پر اسرائیل سے متعلق شق میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ پر اب بھی درج ہے کہ ’یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے لیے قابلِ استعمال ہے۔‘
یہ تردید انڈین میڈیا، خاص طور پر رپبلک ٹی وی، کے ان دعووں کے جواب میں سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان مغربی ممالک اور اسرائیل کی نگرانی میں 20 ہزار فوجی غزہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے اور پاسپورٹ سے ’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق ختم کر دی گئی ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ان دعووں کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔
بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے بھارتی چینل کے گمراہ کن دعوؤں کی تردید کر دی۔ رپبلک ٹی وی نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ پاکستان مغربی ممالک اور اسرائیل کی نگرانی میں 20 ہزار فوجی غزہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ ’پاکستان کا اسرائیل سے متعلق مؤقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔ پاکستان نے نہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا نہ ہی کسی قسم کا فوجی تعاون زیرِ غور ہے۔‘
غزہ میں قیام امن کے لیے 20 نکاتی معاہدے کے مطابق ایک کثیر القومی فورس کی تعیناتی شامل ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’یہ معاملہ ابھی حتمی نہیں ہوا اور غور کے مرحلے میں ہے۔ حکومت تمام تقاضے پورے کرنے کے بعد فیصلہ کرے گی۔‘
پاکستان کا اصولی موقف
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا اصولی موقف رہا ہے کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ غزہ میں امن معاہدے کے بعد اسرائیل کی طرف سے فضائی کارروائیوں کی پاکستان نے رواں ہفتے شدید مذمت کی تھی۔
گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ اسرائیلی قابض افواج کے اس طرح کے جارحانہ اقدامات سے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔‘
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو فوری بند کرنے کو یقینی بنائے۔
پاسپورٹ شق اور غزہ فوج کی بحث
پاسپورٹ کی یہ شق پاکستان کے غزہ میں فوج بھیجنے کی خبروں پر زیر بحث آئی۔ مختلف سفارتی حکام سے بات چیت میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ اگر پاکستان اور دیگر افواج اقوام متحدہ کی چھتری تلے نہیں جاتیں تو انفرادی طور پر جانے کے کیا نقصانات ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد کا دل دہلا دینے والا واقعہ: ہوٹل مالک نے ذہنی معذور خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا — خاتون حاملہ ہوگئی
جیسا کہ پاکستان کا پاسپورٹ اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں، تو کیا پاسپورٹ کی اس شق کو تبدیل کیا جائے گا یا افواج کو خصوصی پرمٹ دیا جائے گا۔ سفارتی حکام کے مطابق، اقوام متحدہ کی حمایت کے ساتھ ہی یہ ممکن ہو گا اگر دیگر فریقین کو اقوام متحدہ کے کردار پر اعتراض نہ ہو۔ اگر پاسپورٹ میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہوئی تو پھر پارلیمان میں یہ معاملہ جائے گا اور متفقہ منظوری سے طے کیا جائے گا۔
- کلیدی نکات:
- پاسپورٹ شق میں کوئی تبدیلی نہیں۔
- اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا موقف برقرار۔
- غزہ فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔
- بھارتی میڈیا کے دعوے بے بنیاد۔
عمومی سوالات (FAQs)
- پاسپورٹ شق کیوں برقرار ہے؟
- یہ پاکستان کے اسرائیل نہ تسلیم کرنے کے اصولی موقف کی عکاسی کرتی ہے۔
- بھارتی میڈیا کیوں ایسے دعوے کرتا ہے؟
- یہ پروپیگنڈا کا حصہ ہے، جیسا کہ متعدد مواقع پر بے نقاب ہوا ہے۔
یہ مضمون اضافی سفارتی بصیرت شامل کر کے قارئین کو مکمل تصویر فراہم کرتا ہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھارتی میڈیا پروپیگنڈا پھیلاتا ہے؟ اپنے خیالات تبصرے میں شیئر کریں۔
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں تاکہ تازہ ترین خبریں، تجزیے اور اپ ڈیٹس براہ راست آپ کے فون پر پہنچیں۔ یہ آسان اور فوری ہے – صرف ایک کلک میں شامل ہوں اور معلومات کی دنیا سے جڑے رہیں!