اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے مظاہرے سے پہلے سڑکیں بند، موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل ہو گئیں

Crowd

وزارت داخلہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 3G اور 4G انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جو آج کے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج کی وجہ سے ہے۔ یہ اقدام وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان نے آج دوپہر 2 بجے فیض آباد سے امریکی سفارت خانے تک ایک بڑے مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مظاہرہ اسرائیل مخالف ہے اور فلسطینیوں کی حمایت میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ٹی ایل پی کے اسلام آباد زون کے نائب ناظم اعلیٰ راجہ عامر شہزاد نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو خط لکھ کر ریلی کے لیے سیکورٹی کی درخواست کی تھی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت سمیت کارکنان اور عوام ملک بھر سے شرکت کریں گے۔

یہ مظاہرہ فیض آباد انٹرچینج سے شروع ہو کر ریڈ زون میں واقع امریکی سفارت خانے تک جائے گا، جو ٹی ایل پی کی تاریخی احتجاجی جگہ ہے۔ پارٹی نے پرامن ریلی کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن حکام نے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔

سیکورٹی اقدامات اور روڈ بلاکس

اسلام آباد انتظامیہ نے فیض آباد انٹرچینج پر شپنگ کنٹینرز رکھنے شروع کر دیے ہیں۔ تقریباً 500 کنٹینرز ریڈ زون کو سیل کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں عطا ترک ایونیو، تھرڈ ایونیو، مارگلہ روڈ اور خیابان سہروردی شامل ہیں۔ دیگر مقامات جیسے سرینا چوک، ایکسپریس چوک، نادرا چوک، آغا خان روڈ اور فیصل ایونیو کے زیرو پوائنٹ پر بھی بلاکس لگائے گئے ہیں۔

  • راوت ٹی کراس، چونگی نمبر 26 اور فیض آباد کے داخلے اور خارجی راستے سیل۔
  • میٹرو بس اور الیکٹرک بس سروسز 21 روٹس پر معطل۔
  • بھاری گاڑیوں کی داخلہ پر پابندی، چھوٹی گاڑیوں کے لیے متبادل راستے۔

راولپنڈی میں سیکشن 144 نافذ ہے، جو 11 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ شہر میں 300 سے زائد کنٹینرز سے راستے بند کیے گئے ہیں۔

انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات کی معطلی

وزارت داخلہ کے 9 اکتوبر کے حکم نامے کے مطابق، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 3G/4G خدمات آدھی رات سے معطل ہیں۔ یہ حکم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو دیا گیا ہے۔ وجہ تو نہیں بتائی گئی، لیکن یہ ٹی ایل پی احتجاج سے متعلق ہے۔

یہ معطلی شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے، خاص طور پر کاروبار، تعلیم اور ایمرجنسی خدمات پر۔

گرفتاریاں اور سیکورٹی فورسز کی تعیناتی

اسلام آباد پولیس نے ٹی ایل پی کے مقامی لیڈروں اور کارکنان کو حراست میں لینا شروع کر دیا ہے۔ جمعرات کو کم از کم 280 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ شہر میں 7,000 سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں، جن میں 5,500 پولیس، 1,000 فرنٹیئر کانسٹیبلری اور 500 رینجرز شامل ہیں۔ اینٹی رائٹ گیئر، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں سے لیس گاڑیاں بھی موجود ہیں۔

راولپنڈی میں 6,500 پولیس اہلکار، پنجاب کانسٹیبلری اور ریوٹ مینجمنٹ پولیس تعینات ہے۔ پنجاب بھر میں سیکشن 144 نافذ ہے، جو دس دن تک جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے کا بیان اور خدشات

امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ لاہور، کراچی اور پشاور کے قونصل خانوں کو 10 اکتوبر کو پاکستان بھر میں احتجاج کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹریفک تاخیر اور بلاکڈ روڈز کا خدشہ ظاہر کیا اور امریکی شہریوں کو بڑے اجتماعات سے دور رہنے کی ہدایت کی۔

پنجاب میں تشدد اور دیگر اثرات

جمعرات کو لاہور میں ٹی ایل پی ہیڈ کوارٹر پر پولیس چھاپے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک درجن پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پنجاب ہوم ڈپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں سیکشن 144 نافذ کر دی ہے، جو عوامی اجتماعات، اسلحہ کی نمائش اور نفرت انگیز مواد کی اشاعت پر پابندی عائد کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چائے پینا پسند کرتے ہیں؟ تو اس سے صحت کو ہونیوالا یہ فائدہ ضرور پسند آئے گا!

کچھ تعلیمی اداروں نے احتجاج کی وجہ سے بندش کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی آج بند رہے گی، اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کی امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

احتجاج کے ممکنہ اثرات اور تجاویز

یہ احتجاج شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار اور مواصلات پر شدید اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر آپ اسلام آباد یا راولپنڈی میں ہیں تو:

  • متبادل راستوں کا استعمال کریں۔
  • ایمرجنسی کی صورت میں لینڈ لائن یا وائی فائی استعمال کریں۔
  • بڑے اجتماعات سے دور رہیں۔

یہ اقدامات حکومت کی جانب سے امن برقرار رکھنے کے لیے ہیں، لیکن شہریوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کیا انٹرنیٹ خدمات کب بحال ہوں گی؟

حکام نے مزید احکامات تک معطلی کا اعلان کیا ہے۔ عام طور پر احتجاج ختم ہونے کے بعد بحال ہوتی ہیں۔

کیا احتجاج پرامن رہے گا؟

ٹی ایل پی نے پرامن ریلی کی یقین دہانی کی ہے، لیکن ماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی خدشات موجود ہیں۔

کیا دیگر شہروں پر اثر پڑے گا؟

پنجاب بھر میں سیکشن 144 نافذ ہے، جو لاہور اور دیگر شہروں میں اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔

انٹرایکٹو پول: آپ کا خیال

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے احتجاج سے فلسطینی مسئلے پر توجہ مبذول ہوتی ہے؟

  • ہاں، یہ موثر ہے۔
  • نہیں، یہ مقامی مسائل بڑھاتا ہے۔
  • کوئی رائے نہیں۔

اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں!

اس آرٹیکل کو شیئر کریں، کمنٹ کریں یا متعلقہ مواد دیکھنے کے لیے سبسکرائب کریں۔ واٹس ایپ چینل فالو کریں، واٹس ایپ آئیکن پر کلک کرکے تاکہ تازہ ترین اپڈیٹس حاصل کریں۔

Disclaimer: All this information is provided from the public reports, for the accurate information please confirm all the proivded data. Don’t take any action without proper proofs.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے