اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کی تاریکی میں پاکستانی چوکیوں پر حملے انتہائی شرمناک اور بزدلانہ فعل ہیں۔
ایاز صادق نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ ان کے بقول افغانستان بھارت کی پراکسی بن چکا ہے اور بھارت کی ایما پر پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کر رہا ہے، جس سے خطے کا امن غیر مستحکم ہو رہا ہے۔
اسپیکر نے واضح کیا کہ پاک افواج کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مسائل کو سفارتی اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
آپریشن غضب للحق
پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کے جواب میں پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ پاک افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں:
- 133 افغان طالبان کارندے ہلاک
- 200 سے زائد زخمی
- 27 افغان چوکیاں مکمل طور پر تباہ
- متعدد فوجی تنصیبات، ٹینک اور توپ خانے کو شدید نقصان
یہ کارروائیاں مختلف سرحدی علاقوں میں کی گئیں جن میں پاک فضائیہ اور بری افواج نے درست اور مؤثر نشانہ بنایا۔
تنازع کی اہم وجوہات
یہ کشیدگی بنیادی طور پر درج ذیل عوامل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے:
- سرحد پار سے دہشت گردوں کی مسلسل دراندازی
- افغان سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال
- بھارت کی مبینہ پراکسی کے الزامات
- رات کی تاریکی میں شرمناک اور بزدلانہ حملوں کا سلسلہ
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف سرحدی علاقوں کی سلامتی بلکہ پورے خطے کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ سرحدی تجارت اور نقل و حرکت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
پول
کیا پاکستان کی جوابی کارروائی درست اور ضروری ہے؟
- ہاں، خودمختاری کا دفاع لازمی ہے
- نہیں، سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے
- کوئی اور رائے (تبصرے میں ضرور لکھیں)
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان ہوش کے ناخن لیں ورنہ انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیں گے: گورنر سندھ
عمومی سوالات (FAQs)
افغانستان پر بھارت کی پراکسی کا الزام کیوں لگایا جا رہا ہے؟
اسپیکر ایاز صادق کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں بھارت کی ایما پر ہو رہی ہیں۔
پاکستان نے اتنا صبر کیوں کیا؟
پاکستان نے مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن اب تحمل کی انتہا ہو چکی ہے۔
آپریشن غضب للحق کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
سرحدی جارحیت روکنا، دہشت گرد ٹھکانے تباہ کرنا اور پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ۔
یہ تنازع پاکستان کی دفاعی تیاری، عزم اور قومی یکجہتی کو واضح کر رہا ہے۔
اپنی رائے ضرور تبصرے میں شیئر کریں، مضمون کو دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کریں، اور تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور پاکستان افغانستان تنازع سمیت تمام بریکنگ نیوز فوری طور پر حاصل کریں – یہ مکمل طور پر مفت ہے اور آپ کو سب سے پہلے آگاہ رکھے گا!
Disclaimer: Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.