سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے سینیٹ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور حقوق کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے معزز شہری ہیں اور ان کی صحت سے متعلق شدید تحفظات ہیں۔ راجہ ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس کو حق ہے کہ پرامن مظاہرین کو ڈنڈے مارے اور تھانوں میں بند کرے؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں لوگوں کو حقوق دینے کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ ان سے چھیننے کے لیے۔
راجہ ناصر کا مکمل بیان
اپوزیشن لیڈر نے عمران خان کی طبی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی بیمار ہی نہیں ہیں، لیکن اب ان کی صحت سے متعلق سخت تحفظات ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ عمران خان سے ملاقات سے کیا ہو جائے گا؟ فیملی کا حق ہے کہ وہ ان سے مل سکیں۔ کسی سے نہ ڈریں، کیا ایک بزرگ سیاستدان کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے نہیں دیا تھا؟
راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ 8 فروری کو پرامن احتجاج ہوگا۔ ہم نے نہ تو ٹریفک بند کرنے کا کہا ہے اور نہ دکانیں بند کرنے کا۔ لوگوں کو کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ یہ فاشزم میں ہوتا ہے۔ حکومت سے پہلے بھی سوال کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ پارلیمنٹ کو غیر متعلقہ کر دیا گیا ہے جو عقلمندانہ نہیں۔ سیاستدانوں کو سیاست سے محروم کرنا اور بیان دینے سے روکنا بھی ظلم ہے۔ اگر نواز شریف کے ساتھ ایسا ہوتا تو میں ان کے حق میں بھی بولتا۔ چیئرمین صاحب، آپ حکومت کو حکم دیں کہ ایوان کو غیر متعلقہ نہ بنائیں۔
عمران خان کی صحت اور جیل میں صورتحال
عمران خان صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ راجہ ناصر عباس کے بیان کے مطابق عمران خان جیل میں صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ عمران خان میڈیکل رپورٹ کی شفافیت اور فوری طبی سہولیات کی طلب کی جا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم کی آنکھوں کی تکلیف اور دیگر صحت مسائل پر خاندان اور پارٹی ارکان کو فکر ہے۔
8 فروری احتجاج اور پرامن مظاہرے
اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا کہ 8 فروری کا احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا۔ پی ٹی آئی عمران خان صحت کے معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے یہ احتجاج کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ ڈنڈوں اور گرفتاریوں کا سلوک ناقابل قبول ہے۔ یہ بیان پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
سیاسی تناظر اور عوامی ردعمل
راجہ ناصر عباس پریس بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی لوگ عمران خان طبی صورتحال اور ان کے حقوق کی بات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ یہ بیان پارلیمنٹ کی اہمیت اور حکومت کی ذمہ داریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
عمران خان صحت سے متعلق اہم نکات
- عمران خان پاکستان کے معزز شہری ہیں اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔
- فیملی کو ملاقات کا حق حاصل ہے۔
- پرامن احتجاج کو دبانا فاشزم کی علامت ہے۔
- پارلیمنٹ کو فعال رکھنا ضروری ہے۔
- طبی رپورٹس کی شفافیت اور فوری علاج کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو آج یاد دہانی کی یادداشت پیش کرنےکا فیصلہ
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. راجہ ناصر عباس نے عمران خان کی صحت پر کیا کہا؟
انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پہلے بیماری سے انکار کیا گیا تھا۔
2. 8 فروری کو کیا ہوگا؟
پرامن احتجاج ہوگا جس کا مقصد عمران خان کی صحت اور حقوق کو اجاگر کرنا ہے۔
3. عمران خان سے ملاقات کا کیا حق ہے؟
یہ فیملی کا بنیادی حق ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔
4. راجہ ناصر عباس نے پولیس کے بارے میں کیا سوال اٹھایا؟
کیا پولیس کو پرامن مظاہرین پر ڈنڈے مارنے اور گرفتار کرنے کا حق ہے؟
5. پارلیمنٹ کی کیا حیثیت ہے؟
پارلیمنٹ کو غیر متعلقہ نہیں کیا جا سکتا، حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
راجہ ناصر عباس کا یہ بیان عمران خان کی صحت اور سیاسی حقوق کے معاملے کو مزید اہمیت دے رہا ہے۔ آپ اس بیان سے کس حد تک متفق ہیں؟ پول میں ووٹ دیں: مکمل اتفاق / جزوی اتفاق / اختلاف۔ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں اور آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں—بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور براہ راست معتبر خبریں حاصل کریں، یہ مکمل مفت اور بہت آسان ہے!
(نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کر لیں۔)