کراچی کے مصروف علاقے میں پیش آنے والا سانحہ گل پلازہ ایک دلخراش واقعہ ثابت ہوا جس نے شہریوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اس واقعے کے بعد جہاں جانی نقصان اور لاپتا افراد کی خبریں سامنے آئیں، وہیں ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریسکیو کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔ انہی الزامات کے تناظر میں سی او او ریسکیو ڈاکٹر عابد جلال الدین نے تفصیلی وضاحت پیش کی اور تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔
گل پلازہ میں آگ کی نوعیت
سی او او ریسکیو ڈاکٹر عابد جلال الدین کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ تیسرے درجے کی آگ تھی، جو نہایت خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ تیسرے درجے کی آگ میں نہ صرف آگ کی شدت زیادہ ہوتی ہے بلکہ دھواں، حرارت اور عمارت کے ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے حالات میں ریسکیو کارروائیاں انتہائی احتیاط اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کی جاتی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کے ساتھ ساتھ ریسکیو اہلکاروں کی جانوں کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔
ریسکیو کا بروقت رسپان
ڈاکٹر عابد جلال الدین نے واضح کیا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو کا رسپانس بروقت تھا اور کسی بھی مرحلے پر غیر ضروری تاخیر نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات میں ریسکیو ادارے طے شدہ ایس او پیز کے تحت کام کرتے ہیں، جن میں انسانی جانوں کو بچانا اولین ترجیح ہوتی ہے۔
سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی موجودہ صورتحال
سی او او ریسکیو کے مطابق اس وقت بھی گل پلازہ میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری اور تیسری منزل پر سرچنگ کی جا رہی ہے اور ہر ممکنہ جگہ کو مکمل طور پر چیک کیا جا رہا ہے۔ اب تک پلازہ کے تیسرے فلور سے کوئی ڈیڈ باڈی برآمد نہیں ہوئی، تاہم ریسکیو ٹیمیں مکمل تسلی تک سرچ آپریشن جاری رکھیں گی۔
ریسکیو 1122 کی تیاری اور سہولیات
ڈاکٹر عابد جلال الدین نے اس بات پر زور دیا کہ ریسکیو 1122 کے پاس تمام ضروری آلات موجود ہیں۔ ان میں جدید فائر فائٹنگ مشینری، حفاظتی لباس، سانس لینے کے آلات، سرچنگ ٹولز اور تربیت یافتہ عملہ شامل ہے۔ ان کے مطابق ریسکیو ٹیم کی کارکردگی بین الاقوامی ایمرجنسی رسپانس معیارات کے مطابق ہے۔
عملے کی سیفٹی کیوں ضروری ہے؟
ریسکیو حکام کے مطابق کسی بھی بڑے حادثے میں ریسکیو اہلکاروں کی حفاظت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عملہ خود غیر محفوظ ہو تو نہ صرف امدادی کارروائیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ مزید جانی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے گل پلازہ میں بھی عمارت کی حالت کو دیکھتے ہوئے سرچنگ کا عمل مرحلہ وار کیا جا رہا ہے۔
عمارتوں میں فائر سیفٹی نظام کی اہمیت
ڈاکٹر عابد جلال الدین نے زور دیا کہ ہر عمارت میں فائر الارم، فائر ایگزیکٹ اور اسپرنکل سسٹم کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ان حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی بڑے سانحات کا سبب بن سکتی ہے۔
عوام سے اپیل
ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے پھیلنے والی خبریں نہ صرف ریسکیو اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ عوام میں خوف و ہراس بھی پھیلاتی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا گل پلازہ واقعے میں ریسکیو کارروائیوں میں تاخیر ہوئی؟
جواب: ریسکیو حکام کے مطابق رسپانس بروقت تھا اور کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔
سوال 2: گل پلازہ میں آگ کس درجے کی تھی؟
جواب: آگ تیسرے درجے کی تھی، جو انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
سوال 3: کیا ابھی سرچ اینڈ ریسکیو جاری ہے؟
جواب: جی ہاں، دوسری اور تیسری منزل پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
سوال 4: کیا ریسکیو 1122 کے پاس مکمل سہولیات موجود تھیں؟
جواب: سی او او ریسکیو کے مطابق تمام ضروری آلات اور تربیت یافتہ عملہ موجود تھا۔
سوال 5: عمارتوں میں فائر سیفٹی نظام کیوں ضروری ہے؟
جواب: فائر الارم اور اسپرنکل سسٹم بروقت آگاہی دے کر قیمتی جانیں بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
گل پلازہ واقعہ: ایک سبق
ماہرین کے مطابق گل پلازہ کا سانحہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ شہری علاقوں میں حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کتنا ضروری ہے۔ اگر عمارتوں میں فائر سیفٹی نظام مکمل ہو تو ایسے سانحات میں جانی نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ متعلقہ اداروں اور عمارت مالکان دونوں کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔
مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے
- باقاعدہ فائر ڈرلز کا انعقاد کیا جائے
- شہریوں کو آگ سے بچاؤ کی تربیت دی جائے
- متعلقہ ادارے عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ کریں
ان اقدامات سے مستقبل میں بڑے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔
نتیجہ
سی او او ریسکیو ڈاکٹر عابد جلال الدین کے مطابق گل پلازہ واقعے میں ریسکیو کا رسپانس بروقت تھا اور کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوئی۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ جاری ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ریسکیو اداروں کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سبق ہے کہ ہنگامی حالات میں منظم اور بروقت ردعمل کس قدر اہم ہوتا ہے۔