گل پلازہ کے 2 فلور کلیئر، اب تک 26 لاشیں برآمد، 81 لاپتا افراد کی تلاش جاری

گل پلازہ

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا اور مصروف ترین شہر، جہاں لاکھوں لوگ روزانہ اپنی روزگار اور تجارت کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، وہاں ایک بار پھر ایک شدید آگ کے سانحے نے پورے ملک کو گہرے صدمے میں ڈال دیا ہے۔ گل پلازہ، جو ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک بڑا تجارتی مرکز ہے، میں ہفتہ کی رات لگنے والی آگ نے متعدد خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیں۔ اب تک 26 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 80 سے زائد افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ شہری عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیوں اور لاپرواہی کی ایک واضح مثال ہے۔

حادثے کا آغاز اور ابتدائی حالات

گل پلازہ ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جس میں تقریباً ایک ہزار دو سو دکانیں موجود ہیں۔ یہاں کپڑے، جوتے، گھریلو اشیاء، پلاسٹک کے سامان، کھلونے، الیکٹرانکس اور دیگر اشیاء کی ہول سیل اور ریٹیل تجارت ہوتی ہے۔ عمارت شہر کے مرکزی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے شام کے اوقات میں یہاں دکاندار، ملازمین، ورکرز اور خریداروں کی بھرمار رہتی ہے۔

حادثہ ہفتہ کی رات تقریباً دس بجے کے قریب شروع ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شاید الیکٹریکل شارٹ سرکٹ یا کسی اور وجہ سے لگی۔ آگ چند لمحوں میں ہی تیزی سے پھیل گئی اور پوری عمارت میں دھواں بھر گیا۔ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے بجلی بھی بند ہو گئی، جس سے اندھیرا چھا گیا اور لوگوں کو صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا۔ بھگدڑ مچ گئی، لوگ ایک دوسرے کے اوپر گرتے چلے گئے اور دھوئیں کی وجہ سے سانس لینا انتہائی مشکل ہو گیا۔

Latest Government Jobs in Pakistan

متاثرہ دکانداروں کے مطابق عمارت میں کل 26 داخلی اور خارجی دروازے تھے، لیکن رات دس بجے کے بعد صرف دو دروازے کھلے رکھے جاتے تھے۔ کوئی مناسب ایمرجنسی ایگزٹ کا انتظام نہیں تھا۔ آگ لگنے کے بعد لوگوں کو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔ کئی افراد نے بتایا کہ آگ کے چند منٹ بعد ہی لوگ بے ہوش ہو کر گرنے لگے۔ دھوئیں کی کثافت اتنی زیادہ تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا اور سانس لینے میں شدید تکلیف ہو رہی تھی۔

ریسکیو آپریشن کی تفصیلات

فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، سندھ رینجرز اور دیگر ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ تاہم عمارت کی پیچیدہ ساخت، شدید دھواں اور گرمی کی وجہ سے ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل ہو گیا۔ آگ پر مکمل قابو پانے میں تقریباً 33 گھنٹے لگے۔ آگ بجھنے کے بعد کولنگ کا عمل شروع کیا گیا اور پھر ملبہ ہٹا کر لاشوں اور لاپتا افراد کی تلاش شروع ہوئی۔

گراؤنڈ فلور اور پہلا فلور مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے۔ اب دوسرے اور تیسرے فلور تک رسائی کے لیے کٹر مشینوں کی مدد سے گرلیں کاٹی جا رہی ہیں۔ رات کے وقت مزید لاشیں برآمد ہوئیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد 26 تک پہنچ گئی۔ لاپتا افراد کی تعداد 83 تک بتائی جا رہی ہے جن میں سے تقریباً 74 کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ریسکیو ٹیمیں دن رات ایک کر کے کام کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے اور مکمل تلاشی میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ہلاکتوں کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شناخت کا عمل اور ڈی این اے ٹیسٹنگ

اس سانحے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت سی لاشیں شدید طور پر جھلس گئی ہیں جس کی وجہ سے بصری شناخت تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔ سول ہسپتال میں اب تک 20 سے زائد لاشیں منتقل کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 14 لاشوں کے نمونے لیے گئے ہیں اور 7 کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔ ایک شناخت قومی شناختی کارڈ کی مدد سے ہوئی۔

متاثرین کے اہل خانہ سے 48 ڈی این اے نمونے جمع کیے جا چکے ہیں جو سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ یہ ٹیسٹ جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز میں کیے جا رہے ہیں۔ جائے حادثہ سے حاصل کردہ انسانی اعضاء پر بھی کام جاری ہے تاکہ شناخت کا عمل جلد از جلد مکمل ہو سکے۔ لواحقین ہسپتالوں کے باہر دن رات بیٹھے اپنے پیاروں کی اطلاع کا انتظار کر رہے ہیں۔ کئی خاندانوں کے متعدد افراد لاپتا ہیں اور ان کا دکھ ناقابل بیان ہے۔

دل دہلا دینے والے انکشافات

متاثرہ دکانداروں نے بتایا کہ عمارت میں ایمرجنسی ایگزٹ کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ رات کے وقت گیٹ بند کر دینے کی روایت عام ہے لیکن یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوئی۔ آگ لگنے کے بعد لوگوں کو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔

دکانداروں کے مطابق:

  • آگ تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے چند منٹوں میں ہی حالات بے قابو ہو گئے۔
  • بجلی کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
  • دھوئیں کی کثافت کی وجہ سے لوگ سانس نہ لے سکے اور بے ہوش ہو گئے۔
  • کئی دکانداروں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں کو باہر نکالا، لیکن بہت سے لوگ اندر پھنس گئے۔

یہ تمام تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی معیارات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔ پاکستان میں ماضی میں بھی متعدد ایسے حادثات ہو چکے ہیں، لیکن افسوس کہ اب تک کوئی ٹھوس سبق سیکھا نہیں گیا۔

Latest Government Jobs in Pakistan

عوامی ردعمل

گل پلازہ سانحے نے پورے ملک میں غم اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ کاروباری برادری نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی ہے کہ ابتدائی امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔ لواحقین کا الزام ہے کہ ریسکیو آپریشن سست تھا۔

یہ حادثہ شادیوں کے موسم میں پیش آیا جب لوگ بڑی تعداد میں خریداری کے لیے مارکیٹ آتے ہیں۔ اس سے خاندانوں پر دوہرا صدمہ پڑا ہے۔ کئی خاندانوں کے بھائی، بیٹے، باپ اور دیگر افراد لاپتا ہیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ اس کے بھائی نے آخری فون کال میں کہا تھا کہ "میں مر جاؤں گا، مجھے بچا لو”۔ ایسے بیانات سن کر دل دہل جاتا ہے۔

مستقبل کے لیے سبق

اس سانحے سے سبق سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔ تجارتی عمارتوں کے مالکان کو فائر سیفٹی کے سخت معیارات اپنانے چاہییں۔ شہریوں کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ اہم اقدامات یہ ہیں:

  • کسی بھی عمارت میں داخل ہوتے وقت ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر ایلیویٹر ضرور چیک کریں۔
  • آگ لگنے کی صورت میں دھوئیں سے بچنے کے لیے نیچے جھک کر چلیں۔
  • فائر الارم کی آواز سن کر فوری طور پر عمارت خالی کریں۔
  • دکانوں اور گھروں میں فائر ایکسٹنگوشر رکھیں اور اس کا استعمال سیکھیں۔
  • عمارتوں میں باقاعدہ فائر ڈرلز کا انعقاد لازمی کیا جائے۔

حکومت کو فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔ باقاعدہ انسپکشنز اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

گل پلازہ سانحے پر مختصر FAQs

سوال 1: گل پلازہ میں آگ کی اصل وجہ کیا ہے؟

ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کا شبہ ہے، لیکن مکمل رپورٹ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔

سوال 2: اب تک کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور لاپتا افراد کی تعداد کیا ہے؟

26 ہلاکتیں تصدیق شدہ ہیں جبکہ 83 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔

سوال 3: شناخت کا عمل کیسے جاری ہے؟

ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے شناخت کی جا رہی ہے۔ اہل خانہ کے نمونے لیے جا چکے ہیں اور ٹیسٹ جاری ہیں۔

Latest Government Jobs in Pakistan

سوال 4: حکومت نے لواحقین کے لیے کیا اعلان کیا ہے؟

وزیر اعلیٰ سندھ نے ہر ہلاکت کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

سوال 5: اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد، باقاعدہ انسپکشنز، عوامی آگاہی اور ایمرجنسی ایگزٹ کا لازمی بندوبست انتہائی ضروری ہے۔

یہ سانحہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے گہری تعزیت اور دعائیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صبر عطا فرمائے اور لاپتا افراد کو سلامت نکالے۔ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں اور تازہ خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشن آن کریں۔

Disclaimer: The provided information is published through public reports. Confirm all details before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے