وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، جو پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں، نے حال ہی میں اپنے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات منعقد کیں۔ یہ تقریبات جاتی عمرہ اور لاہور میں منعقد ہوئیں جن میں مہندی، بارات اور ولیمہ کے مراحل شامل تھے۔ یہ ایک ذاتی خوشی کا موقع تھا، مگر اس موقع پر ہونے والی نمود و نمائش، مہنگے لباس، قیمتی زیورات اور ون ڈش پالیسی کی مبینہ خلاف ورزی نے پورے ملک میں شدید بحث کو جنم دیا۔
یہ محض ایک شادی کی تقریب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑے سماجی اور سیاسی پیغام کا مسئلہ بن گیا ہے۔ پاکستان اس وقت ایسی معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ ایسے میں حکمران طبقے کی طرف سے دکھائی جانے والی اسراف اور دکھلاوا عوام کے لیے ایک تکلیف دہ تضاد بن جاتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال
پاکستان معاشی طور پر انتہائی کمزور دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح برسوں سے بلند ہے۔ اشیائے خوردونوش، ایندھن، بجلی اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ متوسط طبقہ تیزی سے سکڑ رہا ہے جبکہ غریب طبقہ خطِ افلاس سے نیچے جا رہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح نے نوجوانوں کو مایوس کر دیا ہے۔ لاکھوں گھرانے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ایسے حالات میں شادی جیسا سماجی فریضہ بھی ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے۔ لوگ اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ خرچ کرتے ہیں کیونکہ معاشرتی دباؤ بہت شدید ہے۔ "لوگ کیا کہیں گے” کا خوف اتنا گہرا ہے کہ لوگ زمینیں رہن رکھتے ہیں، زیور بیچتے ہیں، بینکوں سے بھاری قرضے لیتے ہیں اور برسوں تک اس قرض کی قسطیں ادا کرتے رہتے ہیں۔
حکمران طبقہ اگر اس موقع پر سادگی کا مظاہرہ کرے تو یہ محض ذاتی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ایک قومی پیغام بن جاتا ہے۔ مریم نواز کے پاس یہ سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی کو ایک سماجی مثال میں تبدیل کر دیں۔ افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔
ون ڈش پالیسی
پنجاب حکومت نے ون ڈش پالیسی کو سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ شادی ہالز سیل کیے گئے، جرمانے عائد کیے گئے اور تقاریر میں اسے کفایت شعاری کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ مگر جب بات خود وزیراعلیٰ کے خاندان کی آئی تو یہی پالیسی نظر انداز ہو گئی۔
مہندی کی تقریب کے مینو کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں واضح طور پر متعدد اقسام کے کھانے، مختلف ڈشز، مٹھائیاں اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔ یہ مناظر دیکھ کر عام آدمی کا یہی سوال تھا کہ جب عام شہریوں پر یہ پابندی نافذ کی جا رہی ہے تو حکمران خاندان اس سے مستثنیٰ کیوں ہے؟
یہ دوہرا معیار نہ صرف اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ حکمرانوں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب قانون سب کے لیے برابر نہ ہو تو اس کی پاسداری کا دعویٰ بے معنی ہو جاتا ہے۔
ملبوسات اور زیورات: لاکھوں روپے کا دکھلاوا
شادی کی تقریبات میں مریم نواز، ان کی بیٹیوں اور جنید صفدر کے لباس اور زیورات بھی شدید تنقید کا نشانہ بنے۔ فیشن اور قیمتوں سے واقف حلقوں کا کہنا تھا کہ ان کے جوڑوں، جواہرات اور دیگر لوازمات کی مالیت کروڑوں روپے تک پہنچتی ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب عام خاندان اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے ایک سادہ جوڑا بنوانے میں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں حکمران خاندان کا یہ مظاہرہ ایک طرح سے عوام کے درد کو نظر انداز کرنے کے مترادف تھا۔
مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی میں ایک بڑی غلطی
مریم نواز کی سیاست میں عوامی رابطہ اور ہمدردی کا بیانیہ بہت اہم رہا ہے۔ وہ اکثر غریب طبقے کے مسائل کی بات کرتی ہیں، سادگی اور کفایت شعاری کی تلقین کرتی ہیں۔ مگر جب خود کے خاندان کی بات آئی تو وہی اصول پسِ پشت ہو گئے۔
یہ ایک بہت بڑی سیاسی غلطی تھی۔ اگر وہ اپنے بیٹے کی شادی کو سادہ رکھتیں، محدود مہمان بلاتیں، ون ڈش پر عمل کرتیں اور مہنگے لباس اور زیورات سے گریز کرتیں تو یہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت مثال بنتی۔ لوگ کہتے کہ "دیکھو، وزیراعلیٰ خود سادگی اپنا رہی ہیں تو ہمیں بھی معاشرتی دباؤ کو نظرانداز کرنا چاہیے۔”
یہ موقع ضائع ہونے سے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ مسلم لیگ ن کی مجموعی قیادت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ عوام میں یہ تاثر پھیل گیا کہ حکمران طبقہ کے لیے الگ قوانین ہیں اور عام آدمی کے لیے الگ۔
معاشرتی دباؤ اور شادیوں کا کلچر
پاکستانی معاشرے میں شادیوں پر غیر معمولی سماجی دباؤ موجود ہے۔ لوگ اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ مہنگے بینکوٹ ہال، سینکڑوں مہمان، مہنگے جوڑے، بھاری زیورات اور آتش بازی – یہ سب کچھ صرف اس لیے کہ "سماج کیا کہے گا”۔
اس کلچر نے لاکھوں خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ بہت سے گھرانے برسوں تک قرضوں میں ڈوبے رہتے ہیں۔ لڑکیوں کے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے زمینیں بیچ دیتے ہیں یا بھاری قرض لیتے ہیں۔ یہ ایک سماجی مرض ہے جسے ختم کرنے کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری حکمران طبقے پر عائد ہوتی ہے۔
اگر مریم نواز اس موقع پر سادگی کا مظاہرہ کرتیں تو یہ مرض کمزور ہونے کی طرف ایک اہم قدم ہوتا۔ بدقسمتی سے یہ قدم نہ اٹھایا گیا۔
سوشل میڈیا پر شدید تنقید
سوشل میڈیا پر اس تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ردعمل بہت شدید رہا۔ لوگوں نے لکھا:
- "عوام کو سادگی کا درس دیتے ہیں اور خود شاہانہ تقریبات کرتے ہیں۔”
- "یہ دوہرا معیار کب تک چلے گا؟”
- "عام آدمی کی شادی تو ون ڈش پر ہوتی ہے، وزیراعلیٰ کی شادی میں کئی کورس۔”
یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ عوام اب محض تقاریر سے مطمئن نہیں رہا۔ وہ عملی نمونے دیکھنا چاہتا ہے۔
کیا مریم نواز قیادت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں؟
مریم نواز کی سیاسی ترقی تیزی سے ہوئی ہے۔ وہ فعال ہیں، تقریریں کرتی ہیں، عوامی مسائل اٹھاتی ہیں۔ مگر قیادت صرف تقریروں سے نہیں بنتی۔ قیادت عملی نمونوں، اصولوں پر عمل اور عوام کے ساتھ یکجہتی سے بنتی ہے۔
اس واقعے سے یہ سوال اٹھا کہ کیا وہ سماجی اور سیاسی قیادت دونوں کے لیے تیار ہیں؟ اگر قیادت صرف اقتدار اور تقریروں تک محدود رہے گی تو عوام کا اعتماد کھو جائے گا۔
FAQs
مریم نواز نے موقع کیوں ضائع کیا؟
سادگی کا پیغام نہ دے کر نمود و نمائش کی۔
سب سے بڑی غلطی کیا تھی؟
عوامی مسائل کے دور میں ذاتی تقریب میں اسراف۔
ن لیگ کو نقصان؟
عوام میں دوہرے معیار کا تاثر پھیلا۔
حکمت عملی ناکام کیوں؟
عوامی توقعات سے مطابقت نہ رکھی۔
کیا مریم قیادت کے لیے تیار؟
عملی نمونوں کی کمی ہے۔
نتیجہ
آج پاکستان کو نعروں، تقاریر اور وعدوں سے زیادہ عملی نمونوں کی ضرورت ہے۔ اگر حکمران طبقہ خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کا مظاہرہ کرے تو معاشرہ بھی اسی سمت چل پڑے گا۔
مریم نواز کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ ایک تاریخی مثال قائم کر دیں۔ افسوس کہ یہ موقع ضائع ہو گیا۔ اب وقت ہے کہ حکمران طبقہ غور کرے کہ ان کے ذاتی فیصلے بھی قومی پیغام بنتے ہیں۔ اگر وہ اس ذمہ داری کو تسلیم کریں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا جائے گا اور اس کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔