‘بھارت صرف فلموں میں ہی بدلہ لیتا ہے‘، ورون دھون پاکستان مخالف بیان پر ٹرولنگ کا شکار

ورون دھون

بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار ورون دھون حال ہی میں اپنی آنے والی فلم بارڈر 2 کے ایک گانے کی رونمائی تقریب میں دیے گئے بیان کی وجہ سے شدید تنازع کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس تقریب کے دوران ورون دھون نے پاکستان کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے ایک اشتعال انگیز بیان دیا جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔ پاکستانی صارفین نے اداکار کو خوب ٹرول کیا اور ان کے بیان کو پروپیگنڈا قرار دیا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان فلمی سطح پر جاری تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔

ورون دھون نے تقریب میں کہا کہ بارڈر 2 جیسی فلمیں بنانا اس لیے ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ بھارت اپنے ملک کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امن اور محبت کی بات کرنے والا ملک ہیں، لیکن ضرورت پڑنے پر جواب دینا بھی جانتے ہیں۔ 1971 میں ہم نے ایک ملک کو آزادی تحفہ میں دی، اس بار ہم بارڈر میں گھسیں گے نہیں بلکہ بارڈر ہی بدل دیں گے۔ یہ ڈائیلاگ فلم سے لیا گیا تھا اور اسے 1971 کی پاک بھارت جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بولا گیا۔

ورون دھون کا بیان

ورون دھون کے الفاظ تھے: "اسٹیج پر کھڑے ہو کر بارڈر 2 اور آپریشن سندور کے پوسٹرز دیکھ کر تو بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ زبردست ہے۔ ہم امن اور محبت پھیلانے والا ملک ہیں، لیکن بارڈر 2 جیسی فلمیں اس لیے ضروری ہیں کہ نئی نسل کو یہ بتایا جا سکے کہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس جواب دینے کا حوصلہ اور روح ہے۔ 1971 میں ہم نے ایک ملک کو آزادی دی، اس بار بارڈر میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ بارڈر ہی تبدیل کر دیں گے۔”

یہ بیان فلم کے پروموشن کا حصہ تھا، لیکن پاکستانی صارفین نے اسے براہ راست پاکستان مخالف قرار دیا۔ خاص طور پر حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اس بیان نے شدید ردعمل پیدا کیا۔

سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور پاکستانی صارفین کا ردعمل

ورون دھون کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرولنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستانی یوزرز نے طنزیہ اور سخت تبصرے کیے:

  • ایک یوزر نے لکھا: "بھارت صرف فلموں میں ہی بدلہ لیتا ہے، حقیقت میں تو الٹا ہوا۔”
  • دوسرے نے کہا: "تم لوگ پاکستان سے اتنا جنون کیوں رکھتے ہو؟ ہر بات پاکستان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی؟”
  • کئی نے بھارتی سنیما کو پروپیگنڈے کا آلہ قرار دیا اور کہا کہ یہ فلمیں صرف جذباتی استحصال کرتی ہیں۔
  • ایک تبصرہ تھا: "جب حملہ ہو گا تو جواب بالی ووڈ کی فلموں سے دو گے؟”

یہ ردعمل نہ صرف ورون دھون بلکہ پوری فلم بارڈر 2 کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستانی صارفین کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ بار بار پاکستان کو منفی انداز میں پیش کر کے قومی جذبہ ابھارتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف باکس آفس کی کمائی کا ذریعہ ہے۔

بارڈر 2 فلم کی تفصیلات اور کاسٹ

بارڈر 2 1997 کی سپر ہٹ فلم بارڈر کا سیکوئل ہے، جو 1971 کی پاک بھارت جنگ پر مبنی تھی۔ یہ فلم بھی اسی جنگ کی حقیقی کہانیوں اور بہادری کو اجاگر کرتی ہے۔ فلم کی ہدایات انوراگ سنگھ نے کی ہیں جبکہ پروڈیوسر بھوشن کمار، کرشن کمار، جے پی دتا اور ندھی دتا ہیں۔

فلم کی مرکزی کاسٹ میں شامل ہیں:

  • سنی دیول (لیفٹیننٹ کرنل فتح سنگھ کالر کا کردار دوبارہ ادا کر رہے ہیں)
  • ورون دھون (میجر ہوشیار سنگھ دہیا)
  • دلجیت دوسنجھ (فلائنگ آفیسر نرمل جیت سنگھ سیکھوں)
  • آہن شیٹی (لیفٹیننٹ کمانڈر جوزف نورونہا)

اس کے علاوہ مونا سنگھ، سونم باجوہ، میدھا رانا اور انیا سنگھ بھی اہم کرداروں میں ہیں۔ فلم 23 جنوری 2026 کو ریلیز ہو چکی ہے، جو یوم جمہوریہ کے ویک اینڈ پر تھی۔ فلم کی لمبائی تقریباً 200 منٹ ہے اور یہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی مشترکہ کہانی پیش کرتی ہے۔

بالی ووڈ میں پاکستان مخالف فلمیں: ایک جاری رجحان

بالی ووڈ میں پاکستان اور بھارت کی کشیدگی پر مبنی فلمیں کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں غدر 2، دی کشمیر فائلز، دی کیرالا سٹوری اور دیگر جیسی فلمیں بھی شدید تنازع کا شکار ہوئیں۔ یہ فلمیں بھارتی ناظرین میں قومی فخر جگاتی ہیں اور باکس آفس پر کامیاب ہوتی ہیں، لیکن پاکستان میں انہیں پروپیگنڈا قرار دیا جاتا ہے۔

بارڈر 2 بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 1997 کی اصل فلم بارڈر پر پاکستان میں پابندی لگائی گئی تھی، لیکن اس کے گانے جیسے "سندیسے آتے ہیں” آج بھی دونوں ملکوں میں مقبول ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی فلمیں سیاسی بیانیہ کو فروغ دیتی ہیں اور عوامی سطح پر تناؤ بڑھاتی ہیں۔ دوسری طرف بھارتی فلم ساز انہیں تاریخی حقائق کی عکاسی قرار دیتے ہیں۔

یہ رجحان بالی ووڈ کی کمرشل حکمت عملی کا حصہ ہے، جہاں جنگی اور قومیت پرستی کی تھیمز بڑی کامیابی دیتی ہیں۔ تاہم، سوشل میڈیا کے دور میں یہ فلمیں اب صرف بھارت تک محدود نہیں رہتیں بلکہ پاکستان میں بھی شدید بحث چھیڑ دیتی ہیں۔

تنازع کے اثرات اور ورون دھون کی خاموشی

ورون دھون کے بیان کے بعد جہاں پاکستانی یوزرز نے ٹرولنگ کی، وہیں بھارتی ناظرین نے اداکار کی حمایت بھی کی۔ کچھ نے کہا کہ یہ فلم کا پروموشن ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ ورون دھون نے ابھی تک اس ٹرولنگ پر کوئی براہ راست ردعمل نہیں دیا، لیکن ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شور شرابے کو نظر انداز کرکے سامعین سے جڑنا چاہیے۔

یہ تنازع فلم کی پبلسٹی کا بھی حصہ بن گیا ہے۔ بارڈر 2 پہلے ہی سب سے زیادہ متوقع فلموں میں شامل تھی اور یہ تنازع اس کی ہائپ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

ورون دھون نے بارڈر 2 ایونٹ پر کیا بیان دیا؟

انہوں نے کہا کہ ایسی فلمیں نئی نسل کو دفاع کی صلاحیت کا پیغام دیتی ہیں اور 1971 کا حوالہ دیتے ہوئے ڈائیلاگ بولا کہ "اس بار بارڈر ہی بدل دیں گے”۔

پاکستانی صارفین نے ورون دھون کو کیوں ٹرول کیا؟

انہوں نے بیان کو پاکستان مخالف قرار دیا اور حالیہ کشیدگی کا حوالہ دے کر طنز کیا کہ بھارت صرف فلموں میں بدلہ لیتا ہے۔

بارڈر 2 فلم کب ریلیز ہوئی؟

23 جنوری 2026 کو۔

بارڈر 2 کی کاسٹ کون کون ہے؟

سنی دیول، ورون دھون، دلجیت دوسنجھ، آہن شیٹی، مونا سنگھ، سونم باجوہ وغیرہ۔

کیا بارڈر 2 پاکستان میں ریلیز ہوئی؟

ایسی فلموں پر پاکستان میں اکثر پابندی لگ جاتی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ نہ ہوئی ہو۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بالی ووڈ کو پاکستان بھارت کشیدگی پر فلمیں بنانی چاہییں یا یہ تناؤ بڑھاتی ہیں؟ کیا ورون دھون کا بیان مناسب تھا؟ کمنٹس میں ضرور اپنی رائے کا اظہار کریں، آرٹیکل شیئر کریں اور مزید تازہ بالی ووڈ اور انٹرٹینمنٹ خبریں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں – بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کرکے نوٹیفکیشن آن کریں تاکہ ہر اپ ڈیٹ براہ راست آپ تک پہنچے!

All discussed information is based on public reports. Please verify before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے