کراچی کی سیشن عدالت جنوبی نے بھارتی فلم دھرندھر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے اس درخواست کو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پاکستان کی علاقائی حدود میں کوئی جرم ثابت نہیں کرتا۔ یہ فیصلہ 2 جنوری 2026 کو تیسری سماعت پر سنایا گیا۔
عدالت کا تفصیلی فیصلہ اور ریمارکس
کراچی کی سیشن عدالت جنوبی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ فلم میں پیپلز پارٹی کی ریلیاں، پارٹی پرچم اور شہید بینظیر بھٹو کی تصاویر کو غیر مجاز طور پر استعمال کیا گیا ہے، جس سے پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس بنیاد پر فلم کے رائٹر، پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور اداکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ:
- فلم مکمل طور پر بھارت میں بنائی، ریکارڈ اور ریلیز کی گئی ہے۔
- پاکستان میں اس فلم کی اسکریننگ، ترسیل یا نمائش کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
- علاقائی حدود میں کوئی قابل گرفت جرم ثابت نہیں ہوتا، اس لیے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری نہیں کی جا سکتی۔
- نامزد ملزمان بھارتی شہری ہیں اور پاکستان میں ان کی کوئی رہائش، کاروبار یا قانونی موجودگی نہیں ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ ریاستی سطح کا ہے اور اسے وزارت خارجہ یا سرکاری فورمز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ درخواست کا بنیادی مقصد میڈیا کی توجہ حاصل کرنا تھا، نہ کہ کوئی قانونی جرم ثابت کرنا۔ درخواست گزار اگر چاہے تو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) یا وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں سے رجوع کر سکتا ہے۔
یہ فیصلہ دھرندھر فلم تنازعہ کی قانونی صورتحال کو واضح کرتا ہے کہ ذاتی سطح پر ایسی درخواستوں سے بین الاقوامی فلموں کے خلاف کارروائی ممکن نہیں۔ عدالت کا یہ موقف قانونی دائرہ کار کی حدود کو بھی اجاگر کرتا ہے، کیونکہ بین الاقوامی مواد پر مقامی عدالتوں کی براہ راست دست اندازی محدود ہوتی ہے۔
دھرندھر فلم کا تعارف اور کہانی کا خلاصہ
دھرندھر ایک بھارتی جاسوسی ایکشن تھرلر فلم ہے جو 5 دسمبر 2025 کو ریلیز ہوئی۔ اسے آدتیہ دھر نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ فلم کی پروڈکشن معروف اسٹوڈیوز نے کی۔ مرکزی کرداروں میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، سنجے دت، آر مادھون اور ارجن رامپال شامل ہیں۔
فلم کی کہانی حقیقی واقعات سے متاثر ہے، جن میں مختلف دہشت گردی کے واقعات شامل ہیں۔ کہانی کراچی کے لیاری علاقے میں گینگ وار اور خفیہ آپریشنز پر مبنی ہے، جہاں ایک بھارتی انٹیلی جنس ایجنٹ پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گرد نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلم میں لیاری کو جرائم کا گڑھ دکھایا گیا ہے۔
ٹریلر اور فلم میں پیپلز پارٹی کی ریلیاں، پرچم اور شہید بینظیر بھٹو کی تصاویر کے استعمال نے پاکستان میں شدید تنازعہ کھڑا کر دیا۔ یہ عناصر فلم کی کہانی کو مزید ڈرامائی بنانے کے لیے استعمال کیے گئے، مگر انہیں پاکستان میں پروپیگنڈا اور منفی تصویر کشی قرار دیا گیا۔
فلم کا باکس آفس پرformance اور عالمی ردعمل
ریلیز کے فوراً بعد دھرندھر نے بھارت میں باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی۔ فلم نے پہلے ہفتے میں 200 کروڑ روپے سے زائد کمائی کی اور مجموعی طور پر 1000 کروڑ روپے کا ہندسہ عبور کر لیا۔ یہ 2025 کی کامیاب بھارتی فلموں میں سے ایک ہے۔
تاہم، فلم کو بعض ممالک میں پاکستان مخالف مواد کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں بھارتی فلموں پر پابندی کے باوجود فلم کو غیر قانونی طور پر دیکھا گیا، جو اس کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے مگر ساتھ ہی تنازعہ کو بڑھاتا ہے۔
تنقید کاروں نے فلم کو مکس ریویوز دیے۔ کچھ نے ایکشن سیکوئنسز، اداکاری اور پروڈکشن ویلیوز کو سراہا، جبکہ دوسروں نے پاکستان کی تصویر کشی اور کہانی کی سادہ لوحانہ تشریح پر تنقید کی۔ فلم نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی کہ سنیما میں سیاسی اور تاریخی موضوعات کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔
دھرندھر فلم تنازعہ کیسے شروع ہوا؟
فلم کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی پاکستان میں احتجاج شروع ہو گیا۔ پیپلز پارٹی نے فلم کو پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ یہ پارٹی کو منفی طور پر پیش کرتی ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد نے لیاری کی تصویر کشی کو غلط اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
تنازعہ نے سوشل میڈیا پر بھی زور پکڑا، جہاں فلم کی حمایت اور مخالفت دونوں دیکھنے میں آئیں۔ کراچی میں قانونی درخواست دائر ہونے کے بعد سماعتیں ہوئیں، پولیس نے رپورٹ میں کہا کہ مقدمہ درج کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں کیونکہ جرم پاکستان میں نہیں ہوا۔ آخر کار عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔
یہ تنازعہ بھارتی سنیما اور پاکستانی سیاست کے درمیان حساس روابط کو بھی اجاگر کرتا ہے، جہاں فلموں کو اکثر سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔
عدالت ریمارکس دھرندھر فلم: اہم نکات
- دھرندھر فلم عدالت مقدمہ: پاکستان میں جرم کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقدمہ ممکن نہیں۔
- دھرندھر فلم خلاف درخواست: میڈیا ٹرائل اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش۔
- دھرندھر فلم تنازعہ: ٹریلر سے شروع ہوا، مگر قانونی ثبوت ناکافی۔
- عدالت نے دھرندھر فلم پر کیا کہا؟: ریاستی معاملہ، ذاتی درخواست سے حل نہیں ہو سکتا۔ پیمرا یا وزارت خارجہ سے رجوع کریں۔
یہ ریمارکس قانونی اصولوں کی پاسداری کو ظاہر کرتے ہیں کہ عدالت صرف اپنے دائرہ کار میں ہی کارروائی کر سکتی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
دھرندھر فلم کے خلاف مقدمہ کیوں مسترد ہوا؟
عدالت کے مطابق فلم پاکستان میں ریلیز نہیں ہوئی، ملزمان بھارتی ہیں اور کوئی جرم یہاں ثابت نہیں۔
درخواست گزار اب کیا کر سکتا ہے؟
پیمرا، وزارت اطلاعات یا وزارت خارجہ سے شکایت کر سکتا ہے۔
دھرندھر فلم خبر کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
2 جنوری 2026 کو کراچی عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔
فلم پاکستان میں کیوں متنازع ہے؟
پیپلز پارٹی اور لیاری کی منفی تصویر کشی کی وجہ سے۔
کیا یہ تنازعہ مزید بڑھے گا؟
یہ منحصر ہے کہ متعلقہ فورمز سے کیا کارروائی ہوتی ہے۔
آپ اس فیصلے پر کیا رائے رکھتے ہیں؟ کیا عدالت کا فیصلہ درست ہے یا تنازعہ مزید بڑھے گا؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور خبر شیئر کریں!
تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشنز آن کر لیں۔
The information in this article is based on public reports. Readers are advised to verify details independently, especially regarding political figures or parties.