وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران پاک فوج کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے بھی کئی مواقع پر فوج پر تنقید کی، لیکن کبھی بھی ”سرخ لکیر“ کو عبور نہیں کیا۔
سرخ لکیر کیا ہے؟
خواجہ آصف کے مطابق فوج پر تنقید جمہوری حق ہے، مگر ادارے کی سالمیت، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شہدا کی قربانیوں پر سوال اٹھانا سرخ لکیر پار کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف اسی سرخ لکیر کو بار بار عبور کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی قیادت پر براہ راست تنقید
وزیر دفاع نے کہا:
- گزشتہ چار پانچ سال میں ملک کے بگڑتے حالات کی ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے
- عمران خان کی ہمشیرہ کا بھارتی میڈیا کو کشیدگی کے وقت انٹرویو دینا جان بوجھ کر کیا گیا
- پی ٹی آئی دہشت گردی کی جنگ کو اپنا نہیں سکی اور شہدا کے جنازوں سے گریز کیا
- پارٹی کے اندر بیرسٹر گوہر سمیت سینئر رہنما ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں
- وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ کردار ادا نہیں کر رہے
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پی ٹی آئی نے کبھی سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف چلنے والی مہم کی مذمت کی؟
یہ بھی پڑھیں: طلال چوہدری کا بیان: پی ٹی آئی سیاسی جماعت کے زمرے میں نہیں آتی، اقدامات ملک مخالف ہیں
”یہی زبان سننی پڑے گی“
خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھارتی میڈیا کو انٹرویو دے کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے میں حصہ ڈالے گا تو پھر وہی سخت زبان سننے کو ملے گی جو حال ہی میں سنی گئی۔ انہوں نے اسے ”فطری اور قدرتی ردعمل“ قرار دیا۔
اہم نکات ایک نظر میں
- فوج پر تنقید جمہوری حق ہے مگر حدود میں رہ کر
- سرخ لکیر: شہدا اور دہشت گردی کی جنگ پر تنقید
- پی ٹی آئی کا رویہ: جنگ سے لاتعلقی اور بھارتی میڈیا سے رابطے
- موجودہ صورتحال: پارٹی میں انتشار اور سوشل میڈیا مہم جاری
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر کا افسوسناک بیان: اداروں اور سیاسی قیادت کا ذہنی مریض کہنا ملک کے لیے نقصان دہ
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
۱. خواجہ آصف کے مطابق “سرخ لکیر” کیا ہے؟
سرخ لکیر سے مراد پاک فوج کی سالمیت، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شہدا کی قربانیوں پر سوال اٹھانا ہے۔ اسے عبور کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
۲. خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر کون سے الزامات لگائے؟
پی ٹی آئی دہشت گردی کی جنگ کی مخالفت کرتی ہے، شہدا کے جنازوں میں شریک نہیں ہوتی، بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتی ہے اور سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف مہم کی مذمت نہیں کرتی۔
۳. کیا مسلم لیگ (ن) نے کبھی فوج پر تنقید کی؟
جی ہاں، خواجہ آصف کے مطابق ان کی جماعت نے بھی تنقید کی مگر کبھی سرخ لکیر پار نہیں کی۔
۴. حالیہ سخت بیانات کو خواجہ آصف نے کیسے جواز دیا؟
انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کو انٹرویو اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈا پر سخت ردعمل فطری اور قدرتی ہے۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
آپ کو خواجہ آصف کا ”سرخ لکیر“ والا بیان کیسا لگا؟ کیا سیاسی جماعتیں فوج پر تنقید کے دوران حدود کا خیال رکھتی ہیں؟ نیچے کمنٹ باکس میں ضرور لکھیں، مضمون شیئر کریں اور تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل ابھی جوائن کریں – روزانہ براہ راست نوٹیفکیشنز آپ کے فون پر!
Disclaimer: All information in this article is based on public reports and statements. Readers are advised to verify details independently before forming final opinions.