پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 5 دسمبر 2025 کو سوشل میڈیا پر جاری کردہ پیغام میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی جیل میں ہیں، ان سے ملاقاتوں کی اجازت مل جائے تو تناؤ کم ہوگا اور معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ ریاستی ادارے اور سیاسی لوگ ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہیں یا خطرہ سمجھیں تو یہ افسوسناک ہے، کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے، فوج بھی ہماری ہے۔ انہوں نے تمام جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کریں، کیونکہ ملک انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بیرسٹر گوہر کے اہم نکات
- ریاستی ادارے اور سیاسی لوگ ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہیں تو افسوسناک ہے
- عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے
- پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن نہیں تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
- پاکستان ہمارا ہے، فوج ہماری ہے، سب ایک دوسرے کو تسلیم کریں
- اعتماد کے فقدان کو ختم کریں، ملک تناؤ کا متحمل نہیں
بیان کا پس منظر
یہ بیان ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد آیا، جس میں عمران خان کو ذہنی مریض اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ بیرسٹر گوہر نے اسے تناؤ بڑھانے والا قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رانا ثنا اللہ کا حتمی اعلان: پی ٹی آئی سے اب مذاکرات کے کوئی امکانات نہیں رہے
سوشل میڈیا پر ردعمل
- #ذہنی_مریض_نامنظور ٹاپ ٹرینڈ بن گیا
- کئی صارفین نے بیرسٹر گوہر کی حمایت میں پوسٹس کیں
- کچھ نے فوج کی حمایت میں لکھا کہ اداروں کی عزت ضروری ہے
سیاسی صورتحال کا نتیجہ
- اداروں اور پی ٹی آئی کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی
- مذاکرات کی تمام راہیں بند
- ملک میں سیاسی پولرائزیشن عروج پر
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بیرسٹر گوہر نے بیان کب دیا؟
5 دسمبر 2025 کو سوشل میڈیا پر
انہوں نے ملاقاتوں کی اجازت کیوں مانگی؟
تناؤ کم کرنے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کا تاریخی بیان: عمران خان کو ذہنی مریض قرار دے دیا
پی ٹی آئی کا بیانیہ کیا ہے؟
ملک دشمن نہیں، ہمیشہ قومی مفادات پر مبنی
کیا اب مذاکرات ممکن ہیں؟
بیرسٹر گوہر کے مطابق ملاقاتوں سے ہی راستہ نکل سکتا ہے
نتیجہ
بیرسٹر گوہر کا بیان ایک واضح پیغام ہے کہ اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان ذہنی مریض جیسے الفاظ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ سب ایک دوسرے کو تسلیم کریں، اعتماد بحال کریں اور مل کر انتشار روکیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے، فوج بھی ہماری ہے۔
کال ٹو ایکشن: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ملاقاتوں کی اجازت سے تناؤ کم ہو سکتا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور آرٹیکل شیئر کریں! تازہ ترین سیاسی خبروں اور بیرسٹر گوہر کے بیانات کی اپ ڈیٹس فوراً حاصل کرنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں — بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں۔ بالکل مفت!
ڈس کلیمر: This information is based on public reports. Verify before taking any actions.