وزیراعظم شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے ذمہ دارانہ کردار میں ایک اہم باب کا اضافہ ہوا ہے جب انہوں نے برطانیہ اور بحرین کے 6 روزہ سرکاری دورے کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے پیر کی صبح لندن سے وطن واپس پہنچ گئے۔ یہ دورہ پاکستان کی معاشی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کا خصوصی طیارہ لاہور انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی اعلیٰ حکومتی افسران اور وفد کے ارکان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
شہباز شریف وطن واپسی کے موقع پر لاہور ائیرپورٹ پر موجود صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف واپس آگئے، یہ خبر سیاسی حلقوں سمیت عام عوام میں بھی خوشی کی لہر دوڑا رہی ہے۔
دورے کا مختصر جائزہ: بحرین سے لندن تک کا سفر
وزیراعظم شہباز شریف 26 نومبر کو اسلام آباد سے بحرین پہنچے، جہاں معاشی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ بحرین دورہ کے اگلے ہی روز وہ برطانیہ روانہ ہوگئے اور لندن میں 4 مصروف ترین دن گزارے۔ شہباز شریف لندن سے واپسی کے دوران برطانوی قیادت اور کاروباری شخصیات سے اہم ملاقاتیں کی گئیں۔
- بحرین دورہ کی اہم نشانیاں:
- بحرینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں کثیر الجہتی تعاون پر اتفاق
- اسلامی بینکنگ اور مالیاتی خدمات میں نئے مواقع کی بنیاد
- لندن دورے کی کلیدی کامیابیاں:
- توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے
- پاکستانی ڈائسپورہ سے ملاقات اور فلاح و بہبود کے نئے منصوبے
یہ بھی پڑھیں: گلشن اقبال نیپا کے قریب مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ، لاش 14 گھنٹے بعد برآمد
یہ دورہ پاکستان وزیراعظم کی وطن واپسی کو ایک مثبت موڑ دیتا ہے اور شہباز شریف آج کی خبر کی صورت میں سرخیاں بنا رہے ہیں۔
دورے سے پاکستان کو ملنے والے فوائد
اس 6 روزہ دورے نے معیشت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بحرین سے ملنے والے معاہدوں سے توانائی کے شعبے میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جبکہ برطانیہ سے فوری امداد اور تجارت کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ یہ معاہدے برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بنیں گے۔
شہباز شریف کی سفارتی مہارت
وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی مہارت کو ان کے سابقہ کامیاب دوروں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ہر دورے میں وہ پاکستان کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور معاشی استحکام کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم کسی سے نہیں ڈرتے، ہمت ہے تو صوبے میں گورنر راج لگا کر دکھائیں: سہیل آفریدی کا چیلنج
FAQs: وزیراعظم کے دورے سے متعلق عام سوالات
وزیراعظم کا دورہ کب شروع ہوا؟
26 نومبر 2025 کو بحرین سے۔
لندن میں کون سی ملاقاتیں ہوئیں؟
برطانوی قیادت اور ڈائسپورہ رہنماؤں سے۔
دورے سے کیا فوائد حاصل ہوئے؟
نئے معاہدے، سرمایہ کاری اور امداد کے وعدے۔
یہ دورہ کتنا اہم ہے؟
معاشی بحالی اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے انتہائی اہم۔
پڑتال اور مشورہ
وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ دورہ معیشت کو مضبوط بنائے گا؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور خبر کو شیئر کریں!
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں اور ہر اہم خبر کی نوٹیفکیشن فوراً حاصل کریں! (بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – ایک سیکنڈ میں جوائن ہو جائیں!)
نوٹ : یہ معلومات عوامی رپورٹس اور سرکاری اعلانات پر مبنی ہیں۔ کسی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سرکاری ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔