وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنما ہیں، نے وفاقی حکومت کو کھلے عام چیلنج دیا ہے۔ ان کا بیان صوبائی خودمختاری اور عوامی حکمرانی کے حق میں ہے اور خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کو مزید گرم کر رہا ہے۔ 2 دسمبر 2025 کو سامنے آنے والے اس بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ "ہم کسی سے نہیں ڈرتے، ہمت ہے تو صوبے میں گورنر راج لگا کر دکھائیں”۔ یہ سہیل آفریدی بیان پاکستان میں آئینی بحران اور صوبائی حقوق کے تنازعے کو واضح کرتا ہے۔
سہیل آفریدی کا بیان
سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پہلے ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا راج ہے، لہذا کسی اور راج کی ضرورت نہیں۔ "اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں”، یہ الفاظ صوبائی خودمختاری کی مضبوطی کی علامت ہیں۔
امن و امان کے سوال پر انہوں نے کہا کہ بند کمروں کی پالیسیاں نافذ کرنے والوں کو احساس کرنا چاہیے۔ یہ بیان خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ہے۔
گورنر راج خیبر پختونخوا
پاکستان کے آئین کے تحت گورنر راج صرف اس صورت میں نافذ کیا جا سکتا ہے جب صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو جائے۔ پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آئین صاف کہتا ہے کہ صوبے میں حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کی ہوگی۔ موجودہ وقت میں صوبائی کابینہ اور اسمبلی مکمل طور پر فعال ہیں۔
- آئینی شرائط: صوبائی اسمبلی کی ناکامی یا ایمرجنسی کی صورت میں۔
- ممکنہ اثرات: گورنر راج سے صوبائی خودمختاری ختم ہو سکتی ہے اور سیاسی کشیدگی پاکستان میں مزید بڑھ سکتی ہے۔
- ماضی کی مثالیں: پنجاب اور سندھ میں سابقہ کوششیں ناکام رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا بڑا فیصلہ: ہر گاؤں سے افراد کو اڈیالہ جیل لانے کا حکم — سیاسی صورتحال میں نئی گرمی
پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی اور ان کا کردار
پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی ضلع خیبر سے تعلق رکھتے ہیں اور بڑی اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ ان کا "ہم کسی سے نہیں ڈرتے” بیان صوبائی حکومت بمقابلہ مرکز کے تنازعے کو اجاگر کرتا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی کہا کہ صوبہ گورنر راج کا متحمل نہیں ہو سکتا، جبکہ اسد قیصر نے خبردار کیا کہ گورنر راج لگا تو حالات سنبھالنا مشکل ہو جائیں گے۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال: اعداد و شمار اور تجزیہ
| پہلو | تفصیل |
|---|---|
| این ایف سی حصہ | 2018-2025 تک 1350 ارب روپے واجب الادا |
| صوبائی اسمبلی | 90 ووٹوں سے سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب |
| گورنر راج کیسز | ماضی میں محدود مدت تک نافذ |
یہ اعداد و شمار پاکستان میں آئینی بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
سیاسی کشیدگی پاکستان
گورنر راج کی آئینی حیثیت واضح ہے: صرف مکمل ناکامی پر ممکن۔ سہیل آفریدی کی حکومت فعال ہے، اس لیے یہ اقدام غیر آئینی ہوگا۔ یہ تنازعہ صوبائی حقوق اور وفاقی مداخلت کے درمیان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلشن اقبال نیپا کے قریب مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ، لاش 14 گھنٹے بعد برآمد
FAQs: قارئین کے سوالات
گورنر راج کب لگایا جا سکتا ہے؟
صرف صوبائی حکومت کی مکمل ناکامی پر۔
سہیل آفریدی کا چیلنج کیا ہے؟
وفاق کو صوبائی خودمختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ۔
پی ٹی آئی کا موقف کیا ہے؟
گورنر راج غیر آئینی اور عوام مخالف ہے۔
نتیجہ اور کال ٹو ایکشن
سہیل آفریدی کا یہ بیان خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کو نئی سمت دے رہا ہے۔ آپ اس سیاسی چیلنج پاکستان پر کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں رائے دیں، آرٹیکل شیئر کریں اور مزید خبریں پڑھیں۔
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں! تازہ ترین خبریں، لائیو اپ ڈیٹس اور خصوصی انسائٹس براہ راست آپ کے فون پر۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور ہر اہم خبر سے پہلے آگاہ رہیں – بالکل مفت!
Disclaimer: The provided information is based on public reports. For any political or advisory steps, confirm with official sources before proceeding.