راولپنڈی کی ضلعی عدالت میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ اس کیس میں سرکاری وکیل نے دلائل پیش کرنے کے لیے وقت کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے 1 دسمبر تک سماعت ملتوی کر دی اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے جواب طلب کر لیا۔
یہ کیس پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا اہم حصہ ہے، جہاں عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں پر پابندیوں نے تنازع پیدا کیا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جیل حکام سے تفصیلی جواب لینا باقی ہے، اس لیے اضافی وقت درکار ہے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا قبول کرتے ہوئے سماعت مؤخر کر دی۔
عمران خان ملاقات کیس اپ ڈیٹ
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے کہا کہ "میری تیسری نہیں، مجھے وقت دیا جائے۔ جیل حکام سے جواب بھی لینا ہے۔” عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے اگلے مرحلے کے لیے تیاری کا موقع دیا۔
- سرکاری وکیل کو 1 دسمبر تک مہلت
- اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ سے تحریری جواب طلب
- ملاقات کی درخواست پر حتمی فیصلہ ملتوی
راولپنڈی عدالت عمران خان: کیس کا پس منظر
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں ہیں۔ ملاقات کا موجودہ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے مارچ 2025 کے حکم سے شروع ہوا تھا، جس میں خاندان اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم جیل انتظامیہ نے عمل درآمد روک دیا۔ حال ہی میں علیمہ خان نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے بھی ملاقات کی کوشش ناکام ہونے پر احتجاج کیا۔
سرکاری وکیل نے مہلت مانگ لی: اگلے دلائل کیا ہو سکتے ہیں؟
- امن و امان کے خدشات
- جیل کے اندرونی قوانین کا حوالہ
- ملاقاتوں کے ممکنہ سیاسی استعمال کا خطرہ
یہ دلائل 1 دسمبر کو پیش کیے جائیں گے۔
عمران خان کیس تازہ صورتحال
یہ کیس صرف ملاقات کا نہیں، بلکہ سیاسی قیدیوں کے حقوق اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا امتحان ہے۔ پی ٹی آئی اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومتی حلقے جیل قوانین کی پاسداری کا موقف رکھتے ہیں۔
عمران خان ملاقات کی اجازت
- جولائی 2024 میں بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی اجازت ملی تھی
- جی ایچ کیو کیس میں ویڈیو لنک پیشی کا حکم ہوا
- متعدد مقدمات میں ملاقات کی حد ایک گھنٹہ مقرر کی گئی
یہ بھی پڑھیں: ”والد کس حال میں ہیں؟“ — عمران خان کے بیٹے قاسم کی ہنگامی اپیل جو دنیا ہلا کر رکھ دی
عمران خان قانونی کارروائی: اہم اعداد و شمار
| مقدمہ کی قسم | تعداد | موجودہ صورتحال |
|---|---|---|
| توشہ خانہ | 2 | سماعت ملتوی |
| جی ایچ کیو حملہ | 1 | ویڈیو لنک پیشی جاری |
| ملاقات کیس | 1 | 1 دسمبر تک مؤخر |
FAQs
کیا 1 دسمبر کو ملاقات کی اجازت مل جائے گی؟
جیل رپورٹ پر منحصر ہے، حتمی فیصلہ اسی سماعت میں متوقع ہے۔
پی ٹی آئی کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
اگر اجازت نہ ملی تو توہین عدالت کی کارروائی تیز ہو گی۔
کیا عام شہری بھی عمران خان سے مل سکتے ہیں؟
نہیں، فی الحال صرف خاندان اور وکلا کے لیے درخواست زیر غور ہے۔
Disclaimer: This information is based on public reports. Regarding any personality or political figure, confirm all details before taking any steps.