عمران خان کی عدم تعمیل پر مسترد پٹیشن کو ہائی کورٹ نے بحال کر دیا: سماعت کا حکم، چیف جسٹس کے طنز آمیز ریمارکس

imran khan

لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قانونی درخواستوں کے سلسلے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عمران خان کے خلاف درج متعدد مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست، جو عدم تعمیل پر مسترد ہو چکی تھی، کو عدالت نے بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی کہ یہ پٹیشن 25 نومبر 2025 کو سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔

یہ فیصلہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں ہوا۔ مقدمہ کی بحالی سے عمران خان کے وکلا کو نئی امید ملی ہے، خاص طور پر جب کہ سرکاری وکیل نے ابتدائی طور پر 107 مقدمات کی تفصیلات پیش کیں۔

عدالت میں کیا ہوا: کلیدی واقعات کی جھلک

  • پٹیشن کی بحالی: لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کو واپس لے لیا اور سماعت کی تاریخ طے کی۔
  • وکلا کی عدم پیشی: وکیل انتظار پنجوتھا پر عدالت کے بارے منفی ریمارکس دینے کا الزام لگا، چیف جسٹس نے استفسار کیا اور انہیں روسٹرم چھوڑنے کا حکم دیا۔
  • سردار لطیف کھوسہ کی دلائل: انہوں نے اطلاع نہ ملنے کا بتایا اور ہڑتال عدلیہ کی عزت کے لیے ہونے کی وضاحت کی۔ انتظار پنجوتھا نے معذرت کی۔
  • سرکاری وکیل کا بیان: 107 مقدمات کی ابتدائی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں۔

چیف جسٹس کے ریمارکس: عدالتی غیر جانبداری کا درس

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فرمایا:

“عدالت کو کسی کیس سے سروکار نہیں ہوتا۔ جتنا ریلیف اس عدالت نے آپ کو دیا، کسی نے شاید دیا ہو۔ ہم نے کوئی فلٹر نہیں لگایا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ وکلا کو میسج ملے اور کچھ کو نہ ملے۔ جس دن آپ ہڑتال پر تھے، اس دن بھی عدالت نے کام کیا۔ اگر ایمانداری سے چلیں گے تو بہت بہتر ہے۔”

عمران خان کی قانونی حکمت عملی: یکجا مقدمات کا مقصد

عمران خان نے تمام مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ وقت بچے اور الزامات کی یکساں جانچ ہو سکے۔ یہ 107 مقدمات مختلف نوعیت کے ہیں جن میں فساد، توشہ خانہ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔

قانونی نتائج اور ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق یکجا سماعت سے عمران خان کو ریلیف ملنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کیونکہ الزامات کی کمزوریاں زیادہ واضح ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: خود کو آگ لگانے کا خواب دیکھ کر شہری نے حقیقت میں خودسوزی کرلی

عموماً پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

عمران خان کی درخواست پہلے کیوں مسترد ہوئی تھی؟

وکلا کی عدم پیشی اور اطلاع نہ ملنے کی وجہ سے۔

اب سماعت کب ہوگی؟

25 نومبر 2025 کو۔

کل کتنے مقدمات ہیں؟

107 مقدمات۔

چیف جسٹس نے وکلا کو کیا تلقین کی؟

ایمانداری سے چلنے اور عدالت کی غیر جانبداری پر یقین رکھنے کی۔

قارئین کی رائے

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو ان مقدمات میں انصاف ملے گا؟

  • ہاں، عدلیہ آزاد ہے
  • نہیں، سیاسی دباؤ ہے
  • دیکھتے ہیں

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں!

کال ٹو ایکشن

یہ تازہ ترین عدالتی اپ ڈیٹ آپ کو کیسا لگا؟ کمنٹ کریں، شیئر کریں، اور مزید خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور فوری الرٹس حاصل کریں۔ ابھی جوائن کریں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے