پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خوفناک خودکش دھماکے: تین اہلکار شہید، تین حملہ آور ہلاک

فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) پاکستان کی ایک اہم پیرامیٹری فورس ہے جو خیبر پختونخوا میں سرحدی حفاظت، اندرونی امن اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی اور یہ ملک کی سیکیورٹی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ آج 24 نومبر 2025 کو صبح 8 بجکر 10 منٹ پر پشاور کے صدر علاقے میں واقع ایف سی ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں دو خودکش دھماکے ہوئے۔ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے حملے کی فوری تصدیق کی اور بتایا کہ سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ ٹریفک کو صدر روڈ کی جانب ڈائی ورٹ کیا جا رہا ہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے جیو نیوز کو انٹرویو میں تفصیلات بتائیں کہ ایک دھماکہ مین گیٹ پر اور دوسرا موٹر سائیکل اسٹینڈ پر ہوا، جو ہیڈ کوارٹر کے اندر واقع ہے۔ فائرنگ کے شدید تبادلے میں تین حملہ آور مارے گئے، جبکہ تین ایف سی اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ علاقہ مکینوں نے مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں اور بھاری پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔

حملے کی تفصیلات: کیا ہوا؟

  • وقت اور مقام: صبح 8:10 بجکر، پشاور صدر میں ایف سی ہیڈ کوارٹر، جو ڈینز ٹریڈ سینٹر کے قریب واقع ہے۔
  • حملہ آوروں کی تعداد: ابتدائی رپورٹس کے مطابق تین دہشت گرد، جن میں سے ایک نے مین گیٹ پر خود کو اڑا لیا، جبکہ دوسرے اندر داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہوئے۔
  • دھماکوں کی نوعیت: دو خودکش دھماکے، ایک مرکزی گیٹ پر اور دوسرا اندرونی موٹر سائیکل اسٹینڈ پر۔ دھماکوں سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔
  • نقصانات: تین ایف سی جوان شہید، کئی زخمی (بشمول دو شدید)۔ شہر کے ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

[تصویر: پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر کے باہر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی – فاسٹ لوڈنگ امیج برائے موبائل]

پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر دھماکہ: علاقائی سیاق و سباق

پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر یہ حملہ 2025 کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر کا حصہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس سال اب تک 782 سے زائد افراد دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں، جن میں سے 40 فیصد سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے تھے۔ پشاور خودکش حملہ ایف سی جیسے واقعات سے متاثر ہو رہا ہے، جہاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کی اتحادی تنظیموں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ پچھلے مہینوں میں کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹر کے باہر کار بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ پاکستان پارامیلیٹری ہیڈکوارٹر حملہ کی صورتحال کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان ضمنی الیکشن 2025: قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی کا جوشیلا انتظار

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرحد سے ملنے والے دباؤ نے ان حملوں کو تیز کر دیا ہے۔ دو حملہ آور ہلاک پشاور جیسے واقعات میں فورسز کی تیزی سے ردعمل نے بڑے نقصان کو روکا، لیکن یہ پشاور سیکیورٹی فورسز حملہ کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی بہادری: حقیقی مثالیں

ایف سی جوانوں نے فوری طور پر فائرنگ کا جواب دیا، جس سے حملہ آوروں کو اندر داخل ہونے کا موقع نہ ملا۔ ایک ایف سی اہلکار نے بتایا کہ "ہم نے بروقت الرٹ ہوتے ہوئے گیٹ کو سیل کر دیا، جس سے مزید دھماکے روکے گئے۔” یہ Peshawar paramilitary headquarters attack کی روایتی کہانی ہے، جہاں فورسز کی تربیت نے جانوں کی حفاظت کی۔

  • فوری اقدامات: علاقہ گھیرے میں لیا گیا، تمام انٹری/ایگزٹ پوائنٹس سیل۔
  • امدادی کارروائیاں: زخمیوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
  • ٹریفک انتظام: سنہری مسجد روڈ بند، الٹرنیٹ روٹس فعال۔

پشاور فرنٹیئر کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر بلاسٹ جیسی صورتحال میں، فورسز کی کارکردگی نے 2025 کی دیگر حملوں (جیسے اسلام آباد کورٹ بلاسٹ) سے سبق سیکھا ہے۔

[ویڈیو ایمبیڈ: سکیورٹی فورسز کی کلیئرنس آپریشن کی فوٹیج – آپٹمائزڈ برائے کور ویب ویٹلز]

پشاور دہشت گردی کی خبر: 2025 کی اعداد و شمار

واقعہتاریخہلاکتیںزخمی
پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر دھماکہ24 نومبر 20253 (ایف سی) + 3 (حملہ آور)5+
کوئٹہ ایف سی بلاسٹستمبر 20251040+
وانا کیڈٹ کالج حملہنومبر 202502

یہ اعداد و شمار خیبر پختونخوا سیکیورٹی واقعہ کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، 2025 میں دہشت گردی کے واقعات 30% بڑھ گئے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

پشاور FC HQ under attack کیسے ہوا؟

حملہ آوروں نے خودکش ویسٹس استعمال کیے، لیکن فورسز نے فوری ردعمل دیا۔

علاقے کی موجودہ صورتحال؟

کلیئرنس مکمل، ٹریفک بحال ہونے والی ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے نیوز چینلز دیکھیں۔

کیا یہ حملہ ٹی ٹی پی کا ہے؟

ابتدائی تحقیقات جاری، ماضی کے واقعات کی بنیاد پر ممکنہ طور پر۔

انٹرایکٹو پول: آپ کی رائے

کیا آپ کو لگتا ہے کہ پشاور میں بلاسٹ رپورٹ جیسی خبرز کے بعد سیکیورٹی بڑھانے کی ضرورت ہے؟

  • ہاں، فوری اقدامات درکار ہیں۔
  • نہیں، موجودہ فورسز کافی ہیں۔ (ووٹ کریں اور اپنی رائے شیئر کریں – ٹائم آن سائٹ بڑھائیں!)

یہ Peshawar paramilitary force news ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن کی جنگ جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔ اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں، اس آرٹیکل کو شیئر کریں تاکہ لوگ آگاہ رہیں، اور متعلقہ خبروں کے لیے ہمارے چینلز فالو کریں۔

واٹس ایپ چینل جوائن کریں: تازہ ترین اپ ڈیٹس، لائیو الرٹس اور خصوصی انسائٹس کے لیے بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کو آن کریں اور ہر اہم خبر کا فوری نوٹس پائیں! (آسان، محفوظ اور انفارمیٹو – ابھی جوائن کریں!)

The provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے