پاکستان ضمنی الیکشن 2025: قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی کا جوشیلا انتظار

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے منعقدہ ضمنی انتخابات میں آج ایک اہم موڑ آیا جب قومی اسمبلی کے چھ اور پنجاب اسمبلی کے سات حلقوں میں پولنگ کا عمل شام پانچ بجے ختم ہو گیا۔ یہ انتخابات مختلف نااہلیوں اور سزاؤں کی وجہ سے خالی ہونے والی نشستوں کو بھرنے کے لیے ہوئے، جو پاکستان کی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، میانوالی، مظفر گڑھ اور ہری پور جیسے شہروں میں ووٹنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل فوری طور پر شروع ہو گیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی جمہوری روایات کی مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ضمنی انتخابات ووٹوں کی گنتی: دلچسپ واقعات اور عوامی جوش

پاکستان ضمنی الیکشن رزلٹ کے منتظر ووٹروں کے لیے آج کا دن یادگار رہا۔ پولنگ کے دوران کئی ایسے لمحات رونما ہوئے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔ مثال کے طور پر، فیصل آباد کے حلقہ این اے 104 میں ایک معذور میاں بیوی نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچ کر سب کو متاثر کیا۔ ان کی یہ شرکت معذور افراد کی سیاسی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

اسی طرح، سرگودھا میں ایک دلہا اپنی بارات سمیت ووٹ ڈالنے پہنچ گیا۔ اس نے اسسٹنٹ کمشنر کوٹ مومن کے دفتر میں ووٹ کاسٹ کیا اور کہا کہ "بارات لے جانے سے پہلے ووٹ ڈالنا میری ترجیح ہے۔” یہ واقعہ جمہوریت کے جذبے کی خوبصورت مثال ہے، جو عوام کی سیاسی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم، تمام چیزیں ہموار نہ تھیں۔ پی پی 269 کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کرم داد پولنگ اسٹیشن میں ووٹنگ کے دوران بے نظمی پھیل گئی۔ پیپلز پارٹی اور آزاد امیدوار کے حامیوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے، جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے پولنگ روک دی گئی۔ ایسی صورتحال میں انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانا چیلنج بن جاتا ہے۔

سکیورٹی اور انتظامات: پولنگ ختم ضمنی انتخابات کی کامیابی کی ضمانت

الیکشن کمیشن پنجاب کے ترجمان نے واضح کیا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ تمام حلقوں کے 2792 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 408 انتہائی حساس اور 1032 حساس قرار دیے گئے، جبکہ 20 ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے۔

  • موبائل فون پابندی: پولنگ اسٹیشنز پر موبائل فون لے جانے کی اجازت نہ تھی، جو دھاندلی کی روک تھام کے لیے اہم قدم تھا۔
  • کنٹرول رومز: الیکشن کمیشن اسلام آباد اور پنجاب میں کنٹرول روم قائم کیے گئے، جہاں شکایات کی فوری نگرانی کی جاتی رہی۔
  • حساس حلقوں کی تعداد: 1440 حساس اور انتہائی حساس اسٹیشنز پر اضافی فورسز تعینات تھیں۔

یہ اقدامات ضمنی انتخابات کی شفافیت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جو ای سی پی کی پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔

الیکشن 2025 ضمنی انتخابات: حلقوں کی تفصیل اور امیدواروں کا جائزہ

قومی اسمبلی ضمنی انتخاب اور پنجاب اسمبلی ضمنی انتخاب میں مختلف حلقوں میں سخت مقابلے دیکھنے کو ملے۔ یہاں کلیدی حلقوں کی جھلک:

  • این اے 18 ہری پور: 9 امیدواروں میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد شہرناز، ن لیگ کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ کے درمیان تگڑم متوقع۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی 9 مئی کیس میں سزا کی وجہ سے خالی ہوئی۔
  • این اے 96 فیصل آباد: 16 امیدواروں میں ن لیگ کے طلال بدر چوہدری کا مقابلہ آزاد امیدواروں سے۔ نشست رائے حیدر علی کھرل کی نااہلی پر خالی۔
  • این اے 104 فیصل آباد: ن لیگ کے راجہ دانیال اور 4 آزاد امیدواروں کا مقابلہ۔ نشست سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا کی سزا کی وجہ سے خالی۔
  • این اے 185 ڈیرہ غازی خان: 8 امیدواروں میں ن لیگ کے محمود قادر لغاری اور پیپلز پارٹی کے سردار دوست محمد کھوسہ کا کڑا مقابلہ۔ نشست زرتاج گل وزیر کی نااہلی پر خالی۔

یہ مقابلے پاکستان کی سیاسی تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان براہ راست ٹکراؤ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 9 مئی کیس سے متعلق نااہلیاں سیاسی منظرنامے کو بدلنے میں اہم رہیں۔

ووٹوں کی گنتی تازہ نتائج: کیا توقع کی جائے؟

ووٹوں کی گنتی جاری ہے، اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 40-50% رہا۔ ن لیگ کو شہری حلقوں میں برتری کا امکان ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار دیہی علاقوں میں مضبوط۔ یہ نتائج پاکستان کی سیاسی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر 2025 کے عام انتخابات کی بنیاد رکھتے ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : یوٹیوب میں ایسے فیچر کا اضافہ جس کا مطالبہ صارفین کی جانب سے سب سے زیادہ کیا جا رہا تھا

دلچسپ حقیقت: ماضی کے ضمنی انتخابات میں 60% سے زائد نشستوں پر آزاد امیدواروں نے حیران کن جیت حاصل کی، جو اس بار بھی ممکن ہے۔

FAQs: ضمنی انتخابات کے بارے میں جاننے لائق

ووٹوں کی گنتی کب تک مکمل ہوگی؟

ابتدائی نتائج شام 8 بجے تک، مکمل رپورٹ رات گئے تک متوقع۔

دھاندلی کی شکایات کا کیا کیا جائے؟

کنٹرول رومز پر رابطہ کریں یا ای سی پی کی ہاٹ لائن استعمال کریں۔

حساس حلقوں میں سکیورٹی کیسے یقینی بنائی گئی؟

اضافی پولیس اور آرمی دستوں کی تعیناتی سے۔

پول: آپ کا خیال؟

کیا ن لیگ ضمنی انتخابات میں برتری حاصل کرے گی؟ ہاں/نہیں – کمنٹ میں بتائیں!

اختتام: جمہوریت کا جشن منائیں اور اپنی رائے دیں

یہ ضمنی انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم باب ہیں، جو عوامی شرکت اور شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ تازہ نتائج کا انتظار کرتے ہوئے، آپ بھی اس بحث میں شامل ہوں۔ اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں، آرٹیکل کو لائک اور شیئر کریں، اور مزید اپڈیٹس کے لیے ہمارے ویب سائٹ پر واپس آئیں۔

فوری اپڈیٹس کے لیے واٹس ایپ جوائن کریں! ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں – بائیں سائیڈ پر فلوٹنگ بٹن کلک کریں۔ نوٹیفکیشن پاپ اپ آن کریں اور ہر بریکنگ نیوز کا فوری الرٹ حاصل کریں۔ یہ مفت ہے اور آپ کو ہمیشہ آگے رکھے گا – ابھی جوائن کریں اور ضمنی الیکشن رزلٹس کی لائیو اپڈیٹس حاصل کریں!

The provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے