وزیر اعلیٰ کے پی کے علاقے میں منشیات کے کارخانے ہیں اور پی ٹی آئی کے لوگ اس دھندے میں ملوث ہیں: اختیار ولی

وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے 23 نومبر 2025 کو جاری ویڈیو بیان میں خیبر پختونخوا میں منشیات کے کارخانوں اور اسمگلنگ کے بارے میں تفصیلی الزامات عائد کیے۔ ان کا بیان پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی قیادت اور صوبائی حکومت پر براہ راست حملہ ہے، جو ضلع خیبر اور وادی تیراہ کو منشیات کے مراکز قرار دیتا ہے۔ یہ الزامات صوبائی سطح پر منشیات کے بحران کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں ضبط شدہ منشیات کی مقدار اور دہشت گردی سے روابط سالانہ بنیاد پر بڑھ رہے ہیں۔

KPK drugs factories news: الزامات کی تفصیلات

اختیار ولی خان نے واضح طور پر کہا کہ وادی تیراہ میں منشیات کے کارخانے فعال ہیں، جہاں سے ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء کی تیاری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، ضلع خیبر سے یہ منشیات پورے ملک میں اسمگل کی جاتی ہیں، اور PTI کے رہنما اس دھندے میں ملوث ہیں۔

  • منشیات کی اسمگلنگ کا راستہ: سرحد پار افغانستان سے منشیات داخل ہوتی ہیں اور خیبر کے ذریعے ملک بھر میں پھیلائی جاتی ہیں۔
  • مالی فوائد کا استعمال: منشیات کا پیسہ دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کو فنڈ کرتا ہے، جو سالانہ اربوں روپے کا کاروبار ہے۔
  • وزیر اعلیٰ کا کردار: سہیل آفریدی، جو خود ضلع خیبر سے تعلق رکھتے ہیں، نے منشیات کی موجودگی کی تردید کی، لیکن اختیار ولی نے ان سے کارروائی اور استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

یہ بیان Akhtar Wali statement کے طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جہاں صارفین PTI drug trade allegations پر بحث کر رہے ہیں۔

PTI leadership accusations: سیاسی اور سماجی اثرات

PTI کی قیادت پر منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کا الزام KP drug factories controversy کو نئی بلندیوں پر لے گیا ہے۔ اختیار ولی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔

حال ہی میں صحافیوں کی تحقیقات، جیسے علی اکبر یوسفزئی اور فہیم اختر کی دستاویزی فلم، نے سہیل آفریدی کے بھتیجوں کو کینabis کی کاشت اور چنائی کرتے دکھایا، جو PTI کے دور میں منشیات کی صنعت کو اربوں ڈالر کا کاروبار قرار دیتی ہے۔ X پر پوسٹس میں 12,000 ایکڑ پر کاشت کا ذکر ہے، جس سے 1.8 سے 2.5 بلین روپے کی آمدنی ہوتی ہے، اور یہ فنڈز دہشت گردوں تک پہنچتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان اب دنیا کی تیز ترین زیر بحری کیبلز میں سے ایک سے باضابطہ طور پر منسلک ہو گیا

خیبر پختونخوا منشیات اسکینڈل کے تحت، KP میں نشہ آور اشیاء کا استعمال 11 فیصد آبادی تک ہے، جو ملک کا سب سے زیادہ تناسب ہے۔ پاکستان بھر میں 6.7 ملین افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں، جن میں سے 4.25 ملین شدید طور پر منحرف ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے پی کے منشیات معاملہ: حکومتی ردعمل اور کارروائیاں

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ خیبر میں منشیات کی کوئی موجودگی نہیں۔ تاہم، 13 نومبر 2025 کو ان کی زیر صدارت اجلاس میں منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا اعلان کیا گیا، جس میں ضبط شدہ منشیات کی فوری تلفی کی ہدایت شامل ہے۔

  • حکومتی اقدامات: ANF اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں، جن میں 2025 میں ہزاروں کلو منشیات ضبط کی گئیں۔
  • چیلنجز: سیاسی مداخلت اور سرحدی مسائل کی وجہ سے مکمل کامیابی مشکل ہے۔

یہ KP government drug issue کو حل کرنے کے لیے ایک قدم ہے، لیکن الزامات نے صوبائی سیاست کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔

منشیات کے بحران سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات

صوبائی سطح پر منشیات کے خلاف جدوجہد کو مضبوط بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں:

  1. سرحدی نگرانی بڑھائیں: جدید ٹیکنالوجی سے اسمگلنگ روکیں۔
  2. قانونی کارروائیاں: ملوث سیاستدانوں کے خلاف فوری تحقیقات شروع کریں۔
  3. آگاہی مہم: نوجوانوں کو نشہ سے بچانے کے لیے سکولوں میں پروگرام چلائیں۔
  4. بین الاقوامی تعاون: افغانستان کے ساتھ مشترکہ آپریشنز بڑھائیں۔

یہ اقدامات ڈیٹا پر مبنی ہیں اور مستند رپورٹس سے لیے گئے ہیں۔

سوالات و جوابات (FAQs)

Q: خیبر پختونخوا میں منشیات کی کتنی مقدار ضبط ہوئی ہے؟

A: 2025 میں ANF نے ہزاروں کلو ہیروئن اور کینabis ضبط کی، جو اربوں روپے کی مالیت کی ہے۔

Q: PTI کے الزامات کی تصدیق کیسے ہو سکتی ہے؟

A: آزاد تحقیقات اور صحافتی دستاویزات، جیسے X پر وائرل ویڈیوز، اس کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

Q: منشیات دہشت گردی سے کیسے منسلک ہیں؟

A: فنڈز دہشت گرد گروپوں کو جاتے ہیں، جو KP میں 198 افراد کی شہادت کا سبب بنے۔

Q: صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟

A: بڑے آپریشنز اور تلفی کی ہدایات جاری ہیں، لیکن الزامات جاری ہیں۔

پڑھیں اور حصہ لیں: ایک پول

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ PTI رہنماؤں پر منشیات کے الزامات درست ہیں؟

  • ہاں، تحقیقات کی ضرورت ہے۔
  • نہیں، یہ سیاسی انتقام ہے۔ (اپنا ووٹ دیں اور نیچے کمنٹ کریں!)

کال ٹو ایکشن

اس اہم موضوع پر آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے شیئر کریں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور تازہ ترین سیاسی اپڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کو آن کریں اور ہر بریکنگ نیوز کی فوری اطلاع حاصل کریں! یہ مفت ہے اور آپ کو ہمیشہ آگے رکھے گا۔

Disclaimer: This information is based on public reports. Please verify before taking any actions regarding personalities or parties mentioned.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے