پاکستان اب دنیا کی تیز ترین زیر بحری کیبلز میں سے ایک سے باضابطہ طور پر منسلک ہو گیا

وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان نے SEA-ME-WE 6 (جنوبی مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ، مغربی یورپ 6) زیر بحری کیبل سسٹم کو فعال کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر شازی فاطمہ خرانہ نے لنکڈ ان پر اس ترقی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے عالمی کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنانے اور قومی انٹرنیٹ کی گنجائش بڑھانے کی اہم پیش رفت قرار دیا۔ یہ کیبل پاکستان کی ڈیجیٹل توسیع کا تیسرا بڑا سنگ میل ہے، جو گزشتہ ایک سال میں افریقہ-1 اور 2افریقہ کیبلوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان کی زیر بحری انفراسٹرکچر میں غیر معمولی تیزی کی عکاسی کرتی ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (TWA)، جو SEA-ME-WE 6 کی لینڈنگ پارٹنر ہے، ابتدائی طور پر 4 ٹیری بٹس پر سیکنڈ (Tbps) کی گنجائش شامل کر رہی ہے، جس سے پاکستان کی موجودہ 13.2 Tbps بینڈوتھ میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ یہ کیبل 21,700 کلومیٹر لمبی ہے اور سنگاپور سے فرانس تک پھیلے ممالک کو جوڑتی ہے، جو دنیا کی جدید ترین ہائی کیپیسٹی نیٹ ورکس میں شمار ہوتی ہے۔

SEA-ME-WE 6 کی تکنیکی خصوصیات اور فوائد

SEA-ME-WE 6 دنیا کی جدید ترین زیر بحری کیبلوں میں سے ایک ہے، جس کی کم از کم ڈیزائن کیپیسٹی 132 Tbps ہے اور یہ 10 فائبر پیئرز پر مشتمل ہے۔ یہ سسٹم پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، بین الاقوامی کاروبار، اور کلاؤڈ بیسڈ پلیٹ فارمز کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا فلوز کو سپورٹ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

  • عالمی کنیکٹیویٹی کا اضافہ: یہ کیبل پاکستان کو جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ، اور یورپ سے کم لیٹنسی روٹس فراہم کرے گی، جو انٹرنیٹ سپیڈ اپ گریڈ کو ممکن بنائے گی۔
  • قومی انٹرنیٹ سپیڈ میں بہتری: صارفین کو تیز ویب براؤزنگ، اسٹریمنگ، اور آن لائن گیمنگ کا تجربہ ملے گا، خاص طور پر شام 7 سے 11 بجے کے ہائی ٹریفک اوقات میں۔
  • ڈیجیٹل لچک: یہ کیبل پاکستان کی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو مزید محفوظ اور مستحکم بنائے گی، جو سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا ریزائلینس کو بڑھاوا دے گی۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق، یہ کیبل نہ صرف انٹرنیٹ سپیڈ کو بڑھائے گی بلکہ ٹورزم اور ای کامرس جیسے شعبوں کو بھی فروغ دے گی، جہاں تیز کنیکٹیویٹی کاروباری مواقع کھولے گی۔

کراچی میں نیا ٹائر III ڈیٹا سینٹر: AI کے لیے تیار

TWA SEA-ME-WE 6 کے ساتھ ساتھ کراچی میں ایک ٹائر III سرٹیفائیڈ ڈیٹا سینٹر کا بھی قیام عمل میں لا رہی ہے، جو جنوری 2026 میں کھلنے والا ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ایسا ڈیٹا سینٹر ہوگا جو ہائی ڈینسٹی ریکس کے ذریعے AI ورک لوڈز کو سپورٹ کرے گا۔

یہ سہولت براہ راست SEA-ME-WE 6، SMW-5، TW1، اور 2افریقہ جیسے بڑے زیر بحری سسٹمز سے منسلک ہوگی، جو کلاؤڈ انفراسٹرکچر، انٹرپرائز نیٹ ورکس، اور کنٹینٹ ڈلیوری سروسز کو مضبوط بنائے گی۔ ٹائر III سرٹیفیکیشن ریڈنڈنسی، ہائی دستیابیت، اور فالٹ ٹالرینس کی ضمانت دیتا ہے، جو قومی اور بین الاقوامی آپریشنز کے لیے محفوظ ہوسٹنگ فراہم کرے گا۔

  • AI اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم: ہائی ڈینسٹی AI ورک لوڈز کے لیے ڈیزائن، جو پاکستان کو AI فوکسڈ ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جائے گا۔
  • کاروباری فوائد: اندرونی اور بیرونی کاروباروں کے لیے اسکیل ایبل ہوسٹنگ، جو ای کامرس اور کلاؤڈ سروسز کو تیز کرے گی۔

پاکستان کی انٹرنیٹ سپیڈ اپ گریڈ: کیا توقعات ہیں؟

پاکستان کی زیر بحری کیبلوں کی حالیہ توسیع سے انٹرنیٹ صارفین کو فوری فوائد حاصل ہوں گے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، SEA-ME-WE 6 کی فعال ہونے سے پاکستان کی کل بینڈوتھ 18 Tbps تک پہنچ جائے گی، جو عالمی معیار کے قریب لے جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب کی 12 اور ہری پور کی این اے 18 پر پولنگ جاری، ن لیگ بمقابلہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار

حقیقی دنیا کے مثالیں: سنگاپور اور فرانس جیسے ممالک میں اس جیسی کیبلوں نے انٹرنیٹ سپیڈ 30-50% بڑھا دی ہے، جو پاکستان میں بھی اسٹریمنگ سروسز جیسے نیٹ فلکس اور یوٹیوب کو بہتر بنائے گی۔

FAQs: SEA-ME-WE 6 کے بارے میں جاننے لائق

SEA-ME-WE 6 کب فعال ہو جائے گی؟

ابتدائی 4 Tbps کیپیسٹی ابھی فعال ہے، جبکہ مکمل سسٹم Q1 2026 تک۔

یہ انٹرنیٹ سپیڈ کو کیسے بڑھائے گی؟

کم لیٹنسی روٹس اور اضافی بینڈوتھ سے، خاص طور پر انٹرنیشنل ڈیٹا ٹریفک میں۔

AI ڈیٹا سینٹر کا کیا فائدہ؟

مقامی AI تربیت اور کلاؤڈ سروسز کو تیز اور محفوظ بنائے گا، جو کاروباروں کے لیے لاگت کم کرے گا۔

کیا صارفین کو فوری تبدیلی نظر آئے گی؟

ہاں، خاص طور پر ہائی ٹریفک اوقات میں، لیکن ISP کی اپ گریڈ پر منحصر ہے۔

عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا پر جوش

سوشل میڈیا پر صارفین اس خبر پر پرجوش ہیں۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹس میں لوگ تیز انٹرنیٹ کی امید ظاہر کر رہے ہیں، جیسے "یہ ڈیجیٹل پاکستان کا مستقبل ہے!”۔ تاہم، کچھ شکایات بھی ہیں کہ موجودہ سپیڈ ابھی سست ہے۔ ایک پول: کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ کیبل آپ کی انٹرنیٹ سپیڈ بہتر بنائے گی؟ (ہاں/نہیں) – کمنٹس میں بتائیں!

نتیجہ: ڈیجیٹل پاکستان کا نیا دور

SEA-ME-WE 6 پاکستان کی عالمی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی، جو نئی زیر بحری کیبل پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا عکاس ہے۔ یہ نہ صرف تیز انٹرنیٹ بلکہ AI اور کاروباری مواقع بھی لائے گی۔

کیا آپ اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہیں گے؟ کمنٹس میں اپنے خیالات شیئر کریں، آرٹیکل کو شیئر کریں، اور متعلقہ مواد کے لیے سبسکرائب کریں۔ فوری اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن پاپ اپ کو قبول کریں۔ یہ مفت ہے اور آپ کو پاکستان کی تازہ ترین ٹیک نیوز کی براہ راست رسائی دے گا – ابھی جوائن ہوں اور ڈیجیٹل انقلاب کا حصہ بنیں!

نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے