اسلام آباد ہائیکورٹ کے 4 ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا

سلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار سینئر ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ درخواست کا ڈرافٹ مکمل ہو چکا ہے اور آج ہی دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

درخواست گزار ججز

  • جسٹس محسن اختر کیانی
  • جسٹس بابر ستار
  • جسٹس ثمن رفعت امتیاز
  • جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان

یہ چاروں ججز عدالتی آزادی اور آئینی بالادستی کے حوالے سے پہلے بھی واضح موقف رکھ چکے ہیں۔

اہم نکات

  • پٹیشن کا ڈرافٹ تیار، آج دائر ہو سکتی ہے
  • سپریم کورٹ رجسٹری میں اب تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی
  • وفاقی آئینی عدالت میں بھی اب تک کوئی کیس دائر نہیں ہوا
  • بنیادی اعتراض: ترمیم عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کرتی ہے

ممکنہ دلائل

  • آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ
  • عدالتی تقرریوں میں سیاسی مداخلت کا راستہ کھلنا
  • سپریم جوڈیشل کونسل کے اختیارات میں غیر آئینی کمی

عدالتی تاریخ میں یہ پہلا موقع

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار ایک ہائیکورٹ کے چار بیٹھے ہوئے ججز نے مل کر آئینی ترمیم کو براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹرک ٹاپر ابوذر ایک دن کے لیے پنجاب کا وزیر تعلیم بن گیا، مکمل پروٹوکول ملا

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا پٹیشن آج دائر ہو جائے گی؟

ڈرافٹ تیار ہے، آج ہی دائر کرنے کی تیاری ہے۔

کیا ججز خود درخواست گزار ہوں گے؟

ہاں، چاروں ججز ذاتی حیثیت میں درخواست گزار ہیں۔

ترمیم کا بنیادی مقصد کیا تھا؟

عدالتی تقرریوں اور جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں تبدیلی۔

کیا اس سے عدالتی بحران بڑھے گا؟

ماہرین کے مطابق ہاں، کیونکہ یہ براہ راست عدلیہ بمقابلہ پارلیمنٹ کا معاملہ ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ 27ویں ترمیم عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں!

تازہ ترین عدالتی اپڈیٹس، آئینی ترامیم اور سپریم کورٹ کی ہر اہم پیش رفت سب سے پہلے جاننے کے لیے ابھی ہمارا WhatsApp چینل جوائن کریں۔ بائیں طرف واٹس ایپ آئیکن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں — اب کوئی قانونی خبر مس نہیں ہوگی!اپنی رائے ضرور دیں اور شیئر کریں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے