پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے شائع کردہ آرٹیکل کو بشریٰ بی بی کی کردارکشی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے جھوٹا اور شر انگیز بیان کرتے ہوئے جریدے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بیان جیو نیوز سے گفتگو کے دوران سامنے آیا، جہاں بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ یہ آرٹیکل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
بیرسٹر گوہر کا مکمل بیان
جیو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں چیئرمین پی ٹی آئی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیان کو تفصیل سے بیان کیا:
- یہ آرٹیکل شر انگیز اور جھوٹ پر مبنی ہے، بشریٰ بی بی بہادری سے جیل میں برداشت کر رہی ہیں۔
- مقصد بشریٰ بی بی اور بانی PTI کی کردار کشی ہے، جو سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔
- پہلے عدت جیسے گھٹیا الزامات لگائے گئے جو جھوٹے ثابت ہوئے، یہ بھی من گھڑت کہانی ہے۔
- ایسے ہتھکنڈوں سے بشریٰ بی بی کو نہیں توڑا جا سکتا، وہ عمران خان کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے نشانہ بن رہی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ جیل میں قید ہونے کے اس وقت ایسے آرٹیکلز کی اشاعت قابل مذمت ہے۔
دی اکانومسٹ آرٹیکل: الزامات اور PTI کا ردعمل
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے بشریٰ بی بی کے کردار پر تفصیلی رپورٹ شائع کی، جس میں عمران خان بشریٰ بی بی خبر کا ذکر ہے:
- بشریٰ بی بی عمران خان کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہوتی تھیں، سرکاری امور میں بھی رہنمائی دیتی تھیں۔
- بنی گالہ میں عجیب و غریب رسومات: روزانہ کالے بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھینکے جاتے، عمران خان کے سر پر کچا گوشت گھمایا جاتا، لال مرچیں جلائی جاتیں۔
آرٹیکل پر ردعمل پی ٹی آئی شدید ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا:
- یہ آرٹیکلز اسپانسرڈ ہوتے ہیں، فیک نیوز اور کردارکشی کا ذریعہ ہیں۔
- PTI پی ٹی آئی لیگل نوٹس جاری کرے گی، وقت غلط بیانی کو بے نقاب کرے گا۔
یہ واقعہ بین الاقوامی جریدہ تنازع کو جنم دے رہا ہے، جہاں پاکستانی سیاست میں میڈیا کی مداخلت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پاکستانی سیاست تازہ خبر
موجودہ سیاسی ماحول میں یہ آرٹیکل میڈیا رپورٹنگ اسکینڈل کا اضافی باب لگتا ہے۔ PTI کی جانب سے اعلان کردہ قانونی چارہ جوئی اعلان کے تحت:
- جریدے کو نوٹس بھیجا جائے گا۔
- برطانوی عدالتوں میں مقدمہ درج کروایا جائے گا۔
- عوامی مہم چلائی جائے گی تاکہ فیک نیوز کی حقیقت سامنے آئے۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس (15 نومبر 2025):
- PTI وکلا کا اعلان: 48 گھنٹوں میں قانونی کارروائی شروع۔
- بشریٰ بی بی کی عدالت میں پیشی، جہاں انہوں نے الزامات مسترد کیے۔
- سوشل میڈیا پر #JusticeForBushra ٹرینڈنگ، 5 لاکھ سے زائد پوسٹس۔
تاریخی تناظر: PTI اور میڈیا تنازعات
PTI کی تاریخ میں ایسے واقعات کی مثالیں:
| واقعہ | تاریخ | PTI ردعمل | نتیجہ |
|---|---|---|---|
| عدت الزامات | 2023 | قانونی چیلنج | بری الذمہ |
| Toshakhana کیس | 2022 | میڈیا کوریج تنقید | جاری مقدمات |
| دی اکانومسٹ آرٹیکل | 2025 | قانونی نوٹس | زیر التوا |
یہ جدول PTI کی قانونی چارہ جوئی کی مستقل حکمت عملی کو اجاگر کرتا ہے۔
سیاسی بحران میں کردار کشی
بشریٰ بی بی کردار کشی جیسے الزامات پاکستانی سیاست میں عام ہیں، جہاں ذاتی حملے سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق:
- 70% سیاسی کیسز میں میڈیا الزامات شامل ہوتے ہیں۔
- بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ اکثر مقامی سیاست سے متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب بھی عمران خان اقتدار میں آئے، 26 ویں اور 27 ویں ترامیم واپس کریں گے، اسد قیصر
آپ کا خیال کیا ہے؟ (انٹرایکٹو پول)
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دی اکانومسٹ کا آرٹیکل فیک نیوز ہے؟
- ہاں، مکمل طور پر جھوٹا
- جزوی طور پر غلط
- درست معلوم ہوتا ہے
- کوئی رائے نہیں
نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں!
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
دی اکانومسٹ آرٹیکل میں کیا الزامات ہیں؟
بشریٰ بی بی کے فیصلہ سازی پر اثر اور عجیب رسومات کا ذکر، جو PTI جھوٹا قرار دے رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر کون ہیں؟
PTI کے موجودہ چیئرمین، قانونی ماہر اور عمران خان کے قریبی ساتھی۔
قانونی چارہ جوئی کیسے ہوگی؟
برطانوی عدالتوں میں مقدمہ، نوٹس جاری، عوامی مہم۔
آخری الفاظ: اب آپ کی باری!
یہ تنازعہ پاکستانی سیاست تازہ خبر کا اہم حصہ ہے، جو میڈیا کی ذمہ داری پر سوال اٹھاتا ہے۔ کیا PTI کامیاب ہوگی؟
ابھی کمنٹ کریں، اپنی رائے دیں، اور یہ خبر اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!
ہمارا WhatsApp چینل جوائن کریں – تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس، براہ راست نوٹیفکیشنز، اور خصوصی انسائڈر رپورٹس آپ کے فون پر فوری دستیاب! بائیں جانب گرین WhatsApp بٹن پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں – بالکل مفت، اور کبھی کوئی اہم خبر miss نہ کریں!