پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ جب بھی بانی PTI عمران خان اقتدار میں واپس آئیں گے، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو فوری طور پر واپس لیا جائے گا۔ یہ بیان موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ لے کر آیا ہے جہاں آئینی اصلاحات پر شدید تنازعہ جاری ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کے پاس قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں، اور یہ ترامیم غیر آئینی طریقے سے منظور کی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین میں ترمیم اس طرح ہوتی ہے کہ ایک بار منظور کر کے پھر کہا جائے کہ یہ درست نہیں؟
اسد قیصر کا مکمل بیان اور PTI کا لائحہ عمل
اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
- موجودہ اسمبلی غیر قانونی ہے اور اس کے پاس قانون سازی کا کوئی جواز نہیں۔
- 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کو جب عمران خان اقتدار میں آئیں گے، فوری واپس لیا جائے گا۔
- نواز شریف "ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے، کل اچانک آگئے۔
- جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے مستعفی ہونے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
- وکلا، مزدور تنظیموں کو انصاف کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ PTI کا اہم اجلاس جلد ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
27 ویں آئینی ترمیم
یاد رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا تھا۔ وزیر قانون کی جانب سے ترمیم پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا:
- ڈیسک بجانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
- شق وار منظوری کے دوران نعرے بازی کی گئی۔
- PTI ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
یہ ترامیم عدلیہ کی ساخت، ججوں کی تقرری اور پارلیمانی اختیارات سے متعلق ہیں جن پر PTI نے شروع دن سے تحفظات کا اظہار کیا۔
عمران خان اقتدار واپسی
تحریک انصاف مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ:
- موجودہ حکومت غیر قانونی ہے۔
- عمران خان کو جیل میں رکھ کر سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔
- اگلے مرحلے میں PTI اقتدار میں واپس آئے گی اور تمام "جعلی” ترامیم واپس لے گی۔
تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس (14 نومبر 2025):
- PTI کی جانب سے 26 نومبر کو اسلام آباد میں بڑا دھرنا دینے کا اعلان۔
- عمران خان کی رہائی کے لیے عدالتی اور عوامی دباؤ میں اضافہ۔
- 27 ویں ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر۔
آئینی ترامیم پاکستان: ایک جائزہ
| ترمیم | سال | اہم شقیں | PTI موقف |
|---|---|---|---|
| 26 ویں | 2024 | عدلیہ میں تبدیلیاں، ججز کی مدت | غیر آئینی، واپس لینا ضروری |
| 27 ویں | 2025 | پارلیمانی اختیارات میں اضافہ | مکمل منسوخی کا اعلان |
سیاسی بحران پاکستان: کیا ہوگا آگے؟
موجودہ صورتحال میں چند اہم سوالات ہیں:
- کیا PTI واقعی اقتدار میں واپس آسکتی ہے؟
- کیا 26 ویں اور 27 ویں ترامیم واپس لی جاسکتی ہیں؟
- عدلیہ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کہاں جا کر رکے گا؟
عمران خان آئندہ حکومت کے حوالے سے PTI کے اندر مکمل اتفاق رائے ہے کہ وہ واحد لیڈر ہیں جو ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد خودکش حملے میں ملوث پورا سیل پکڑا گیا
آپ کا خیال کیا ہے؟ (انٹرایکٹو پول)
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ PTI اقتدار میں واپس آکر 26 ویں اور 27 ویں ترامیم واپس لے سکتی ہے؟
- ہاں، مکمل طور پر
- جزوی طور پر
- ناممکن
- کوئی رائے نہیں
نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں!
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
27 ویں آئینی ترمیم کیا ہے؟
یہ ترمیم پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافے، عدلیہ کی ساخت میں تبدیلی اور ججوں کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔
اسد قیصر کون ہیں؟
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور PTI کے سینئر رہنما، عمران خان کے قریبی ساتھی۔
کیا ترامیم واپس لی جاسکتی ہیں؟
جی ہاں، نئی حکومت دو تہائی اکثریت سے آئینی ترامیم واپس لے سکتی ہے۔
آخری الفاظ: اب آپ کی باری!
یہ خبر آپ کے لیے کیوں اہم ہے؟ کیونکہ پاکستان کی سیاسی سمت بدل رہی ہے۔ اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ کیا عمران خان واپس آئیں گے؟ ابھی کمنٹ کریں، اپنی رائے دیں، اور یہ خبر اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!
💬 ہمارا WhatsApp چینل جوائن کریں – تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس، براہ راست نوٹیفکیشنز، اور خصوصی رپورٹس آپ کے فون پر! بائیں جانب گرین WhatsApp بٹن پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں – بالکل مفت!