بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن علیمہ خان نے 9 جنوری 2026 کو راولپنڈی کی ایک عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی سخت اور جذباتی بیان دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم انہیں جیل سے نکالیں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو پورا پاکستان بند کریں گے اور حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔ یہ علیمہ خان کا عمران خان کے لیے بڑا اعلان ہے جو پی ٹی آئی کی جاری احتجاجی تحریک کو نئی شدت دینے کا اشارہ ہے۔ علیمہ خان نے عدالت کے باہر اپنے گرفتاری وارنٹس کا ذکر کیا اور کہا کہ جج خود چھٹی پر چلے گئے جبکہ انہیں پیر تک مہلت مانگی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اڈیالہ جیل کے باہر ملاقات کے لیے نہیں بلکہ رہائی کے لیے بیٹھتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک بھر میں پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ زور پکڑ رہی ہے اور عمران خان رہائی تحریک عوام میں مقبول ہو رہی ہے۔
علیمہ خان کا یہ بیان نہ صرف پارٹی کارکنان بلکہ عام عوام میں بھی جوش پیدا کر رہا ہے، کیونکہ وہ عمران خان کو عوام کی آواز قرار دے رہی ہیں۔
علیمہ خان کا تفصیلی بیان
علیمہ خان نے عدالت کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بس بہت ہو گیا، عمران خان کو رہا کیا جائے، یہ قوم کی آواز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے گئے، سماعت ہوئی مگر جج چھٹی پر چلے گئے اور ان کی پیر تک مہلت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے لیے نہیں بلکہ ان کی رہائی کے لیے دھرنے دیتے ہیں اور بیٹھتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 13 جنوری منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر ختم قرآن پاک کا اہتمام کیا جائے گا۔ ہزاروں قرآن پاک کے ساتھ کارکنان جیل کے باہر جمع ہوں گے، قرآن خوانی کریں گے اور اس کے بعد شہیدوں، سیاسی قیدیوں اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگی جائیں گی۔ یہ پروگرام پرامن اور روحانی نوعیت کا ہوگا، جو تحریک کو مزید عوامی حمایت دلانے میں مدد دے گا۔
علیمہ خان نے سندھ حکومت کی تعریف کی کہ وہ سمجھدار ہے اور جلسوں کی اجازت دے کر اچھا اقدام کیا، جس کا پی ٹی آئی خیر مقدم کرتی ہے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت کو مینڈیٹ چور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ظلم کرتی ہے اور راستے روکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاہور میں ایک کارکن کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے قتل کر دیا گیا۔
عمران خان کی قید تنہائی اور عدالتی کیسز پر تنقید
علیمہ خان نے عمران خان کی موجودہ حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی قید تنہائی میں رکھے گئے ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ حکومت عدالتی احکامات ماننے کو تیار نہیں۔ بشریٰ بی بی اور بانی کے کیسز کو جان بوجھ کر نہیں لگایا جا رہا تاکہ ضمانت نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی فورم نہیں جہاں جا کر اپنا کیس رکھ سکیں۔ عمران خان کے خلاف کرپشن کیسز سراسر مذاق ہیں۔ پولیس، فوج، عوام اور بیوروکریسی سب بانی کے ساتھ ہیں۔ علیمہ خان نے محمود خان اچکزئی کی 8 فروری کی کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم پورا پاکستان بند کریں گے اور حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔
ماضی کے احتجاج اور حکومت پر الزامات
علیمہ خان نے 26 نومبر کے احتجاج کا ذکر کیا کہ پی ٹی آئی پرامن تھی مگر حکومت نے گولیاں چلائیں۔ اگر حکومت دوبارہ دہشت گردی کرے گی تو خود ذمہ دار ہوگی۔ عوام احتجاج کریں گے اور انہیں چھیڑنا نہیں چاہیے۔ سندھ حکومت راستے نہیں روک رہی جو اچھی بات ہے، جبکہ پنجاب میں عوامی مینڈیٹ والی حکومت نہیں اس لیے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اللہ سے دعا کریں کیونکہ اللہ کے پلان کے آگے کوئی پلان نہیں چلتا۔ پی ٹی آئی کی تحریک پرامن ہے مگر اگر حکومت تشدد کرے گی تو اس کی ذمہ داری خود حکومت پر ہوگی۔
عمران خان رہائی تحریک کا پس منظر اور موجودہ صورتحال
عمران خان رہائی تحریک 2023 سے جاری ہے جب سے انہیں متعدد کیسز میں گرفتار کیا گیا۔ پی ٹی آئی احتجاجی تحریک نے ملک کے مختلف شہروں میں بڑے مظاہرے کیے۔ نومبر 2025 کا اسلام آباد مارچ اس کا سب سے بڑا مثال تھا جہاں ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔ اب جنوری 2026 میں اڈیالہ جیل کے باہر قرآن خوانی اور دعائیں تحریک کا نیا مرحلہ ہیں۔
پی ٹی آئی کارکنان کا جوش دیکھتے ہوئے یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ عوام عمران خان کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور ان کی رہائی کے بغیر ملک میں استحکام نہیں آ سکتا۔
پورا پاکستان بند کرنے کا اعلان اور ممکنہ نتائج
علیمہ خان کا پورا پاکستان بند کرنے کا اعلان ایک سنگین دھمکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوم کی آواز ہے اور ہم عمران خان کو جیل سے نکال کر رہیں گے۔ یہ اعلان پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کو ملک گیر بنا سکتا ہے۔
ممکنہ نتائج میں شامل ہیں:
- معاشی نقصان: بندش سے کاروبار، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی متاثر ہوگی۔
- عوامی حمایت: اگر تحریک پرامن رہی تو مزید لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔
- قانونی پیچیدگیاں: گرفتاریاں اور کیسز بڑھ سکتے ہیں۔
- سیاسی دباؤ: حکومت پر مذاکرات کا دباؤ بڑھے گا۔
پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ یہ احتجاج جمہوری حق ہے اور عمران خان کی رہائی آئینی تقاضا ہے۔
سیاسی احتجاج تازہ خبر اور آگے کی راہ
سیاسی احتجاج تازہ خبر یہ ہے کہ سندھ میں پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت مل رہی ہے مگر پنجاب اور دیگر صوبوں میں رکاوٹیں ہیں۔ علیمہ خان نے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کی۔
آگے کی راہ میں پرامن احتجاج، قانونی جنگ اور عوامی حمایت شامل ہے۔ اگر حکومت بات چیت کرے تو تنازع کم ہو سکتا ہے، ورنہ تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
مختصر FAQs
علیمہ خان نے پورا پاکستان بند کرنے کی دھمکی کیوں دی؟
عمران خان کی رہائی کے لیے، جو ان کے مطابق قوم کی آواز ہے۔
13 جنوری کا پروگرام کیا ہے؟
اڈیالہ جیل باہر قرآن خوانی اور دعائیں۔
عمران خان کی موجودہ حالت کیا ہے؟
علیمہ خان کے مطابق قید تنہائی میں، ملاقات محدود۔
سندھ اور پنجاب حکومت میں فرق کیا ہے؟
سندھ جلسوں کی اجازت دے رہی، پنجاب رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
یہ آرٹیکل علیمہ خان کے بیان اور پی ٹی آئی تحریک کو جامع طور پر بیان کرتا ہے۔ کمنٹ کریں، شیئر کریں، اور تازہ خبروں کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں۔ بائیں فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں – فوری اپ ڈیٹس مفت اور مفید!
The provided information is based on public reports; confirm details before any actions.