|

مولانا طارق جمیل کو خاتون کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا: بیٹے یوسف جمیل کی ڈاکٹر نبیہا علی پر کڑی تنقید

مولانا طارق جمیل . یوسف جمیل

معروف اسلامی سکالر مولانا طارق جمیل کے بیٹے یوسف جمیل نے 10 نومبر 2025 کو سوشل میڈیا پر جاری تنازع پر خاموشی توڑ دی۔ انہوں نے ڈاکٹر نبیہا علی کے نکاح کی ویڈیو پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے والد کی دینی خدمات کا دفاع کیا اور شرعی اصولوں کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا۔ یہ بیان مولانا طارق جمیل کی 50 سالہ دینی جدوجہد کے تناظر میں سامنے آیا، جہاں انہوں نے ہزاروں نکاح پڑھائے ہیں۔

نکاح کی ویڈیو کیسے وائرل ہوئی؟

حال ہی میں مولانا طارق جمیل نے ڈاکٹر نبیہا علی کا نکاح پڑھایا، جو ایک دوست کی درخواست پر ان کے گھر میں منعقد ہوا۔ نکاح کے دوران بنائی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جہاں مولانا کو خاتون کے ساتھ بیٹھے دیکھا گیا۔ یہ منظر شرعی اصولوں کی خلاف ورزی سمجھا گیا، جس پر تنقید کی لہر اٹھی۔ سوشل میڈیا پر طارق جمیل ویڈیو تنازعہ نے #TareeqJameelControversy جیسے ہیش ٹیگز جنم دیے، جہاں صارفین نے مولانا کی سادگی اور نرم مزاجی کا غلط فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا۔ ابتدائی طور پر، 500 سے زائد پوسٹس میں یہ بحث ہوئی کہ مذہبی شخصیات کو ایسے مواقع میں احتیاط برتنی چاہیے۔

یوسف جمیل کا ردعمل: والد کی خدمات اور شرعی اصول

یوسف جمیل نے وضاحت کی کہ مولانا طارق جمیل ڈاکٹر نبیہا علی کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے اور یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ ایک دوست کی درخواست پر نکاح پڑھایا گیا، جو مولانا کی زندگی کا معمول ہے۔ انہوں نے کہا:

"مولانا طارق جمیل کی شخصیت اور دینی خدمات سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کے پیغام کو پھیلانے اور معاشرتی اصلاح کے لیے وقف کر دی ہے۔”

تاہم، یوسف جمیل نے شرعی نقطہ نظر سے غلطی کا اعتراف کیا:

  • شرعی اصول کی خلاف ورزی: مولانا کو خاتون کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا، جو ایک بڑی لاپرواہی تھی۔
  • عمر کا پہلو: "مولانا 72 سال کے بزرگ ہیں، نہ وہ نوجوان ہیں اور نہ ہی خواہشات کی عمر میں ہیں۔ جن خواتین کے نکاح وہ پڑھاتے ہیں، وہ ان کی بیٹیوں کے برابر ہوتی ہیں۔”

یہ بیان عوام سے اپیل کرتا ہے کہ مولانا طارق جمیل پر تنقید کی بجائے ان کی خدمات کو سمجھا جائے۔

ڈاکٹر نبیہا علی پر تنقید

یوسف جمیل نے ڈاکٹر نبیہا علی پر براہ راست تنقید کی، کہتے ہوئے کہ انہوں نے نکاح کے تقدس کا خیال نہیں رکھا۔ کلیدی نکات:

  • ویڈیوز اور موسیقی: نکاح کی ویڈیوز بنائی گئیں جن میں موسیقی شامل تھی، جو مذہبی موقع کے لیے نامناسب تھی۔
  • خوشی کا غلط اظہار: "خوشی منانا فطری ہے، لیکن مذہبی تناظر کا احترام ضروری ہے۔”
  • غلط فائدہ: ڈاکٹر نبیہا علی نے مولانا کی نرم مزاجی کا فائدہ اٹھایا، جس سے تنازع جنم لیا۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ "اگر والد کو علم ہوتا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے تو وہ ہرگز اپنے گھر میں ایسی اجازت نہ دیتے۔” یہ تنقید سوشل میڈیا پر ڈاکٹر نبیہا علی تنازعہ کو مزید ہوا دیتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر طارق جمیل پر تنقید نے تیزی سے پھیلاؤ پایا، جہاں 10 ہزار سے زائد شیئرز ہوئے۔ کئی صارفین نے مولانا کی دینی خدمات کا دفاع کیا، جبکہ دوسرے نے شرعی حدود کی خلاف ورزی پر سوال اٹھائے۔

مثالیں:

  • حامی پوسٹس: "مولانا طارق جمیل نے لاکھوں لوگوں کو ہدایت دی، ایک غلطی ان کی خدمات کو کم نہیں کر سکتی۔”
  • تنقیدی پوسٹس: "مذہبی سکالر ہونے کے باوجود حدود کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔”

2024-2025 میں پاکستان میں مذہبی شخصیات پر سوشل میڈیا تنازعات 40 فیصد بڑھے ہیں، جیسا کہ ڈیجیٹل رائٹس فورم کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اسی تسلسل کا حصہ ہے۔

ماہرین کے مشورے: مذہبی تقریبات میں احتیاط کیسے کریں؟

مذہبی سکالر تنازعہ سے سبق سیکھنے کے لیے ماہرین کے مشورے یہ ہیں:

  • احترام کا خیال: مذہبی مواقع پر حدود کا خیال رکھیں، خاص طور پر بزرگ شخصیات کے ساتھ۔
  • سوشل میڈیا کی حکمت عملی: ریکارڈنگ سے پہلے اجازت لیں اور مواد کو فلٹر کریں تاکہ غلط فہمیاں نہ ہوں۔
  • ماحول کی وقار: تقریبات میں موسیقی یا غیر رسمی عناصر سے گریز کریں۔

سٹیپ بائی سٹیپ گائیڈ:

  1. منصوبہ بندی: تقریب سے پہلے شرعی اصولوں کی فہرست تیار کریں۔
  2. ریکارڈنگ کنٹرول: صرف مجاز افراد کو اجازت دیں، اور مواد کی جانچ کریں۔
  3. بعد کی نگرانی: وائرل ہونے پر فوری وضاحت دیں تاکہ تنازع کم ہو۔

یہ مشورے عوامی اور مذہبی شخصیات دونوں کے لیے مفید ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک فون چارجر نے پورے خاندان کی جان لے لی: دل دہلا دینے والا سانحہ

سوالات اور جوابات (FAQs)

مولانا طارق جمیل کا تنازع کیا ہے؟

نکاح کی ویڈیو میں خاتون کے ساتھ بیٹھنے پر شرعی خلاف ورزی کا الزام۔

یوسف جمیل کا موقف کیا ہے؟

شرعی غلطی کا اعتراف، مگر والد کی خدمات کا دفاع اور ڈاکٹر نبیہا علی پر تنقید۔

سوشل میڈیا کا کردار کیا ہے؟

ویڈیوز وائرل ہونے سے تنازع بڑھا، جو 40 فیصد کیسز میں ہوتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

کیا مذہبی شخصیات کو سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی رائے شیئر کریں اور پول میں ووٹ دیں: "ہاں، احتیاط ضروری” یا "خدمات کو ترجیح دیں”۔

یہ مضمون تازہ ترین رپورٹس پر مبنی ہے اور سماجی آگاہی کو فروغ دیتا ہے۔

کال ٹو ایکشن: کیا یہ تنازع مولانا طارق جمیل کی خدمات کو متاثر کرے گا؟ اپنے خیالات کمنٹ کریں، دوستوں سے شیئر کریں، اور متعلقہ مضامین پڑھیں۔ فوری اپ ڈیٹس اور بحثوں کے لیے بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں، ہر تازہ خبر اور سماجی ایشوز کی نوٹیفکیشن حاصل کریں! یہ مفت ہے اور آپ کی رائے کو قدر دیتا ہے۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے