مصر کے شہر قاہرہ کے قریب شبرا الخیمہ علاقے میں واقع بیجام کے ایک اپارٹمنٹ میں 7 نومبر 2025 کو ایک دلخراش حادثہ پیش آیا، جس نے ایک خاندان کی پوری زندگی اجاڑ دی۔ ایک موبائل فون چارجر کے شارٹ سرکٹ سے بھڑکنے والی آگ نے ماں، اس کی بہن اور چار بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف مقامی سطح پر سوگ کی لہر دوڑا دیا بلکہ عالمی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر بھی حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کر گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ناقص معیار کا چارجر اس سانحے کی بنیادی وجہ بنا۔
سانحہ کیسے پیش آیا: آگ کی ابتدائی وجوہات
رات کے سناٹے میں ایک کمرے میں موبائل فون چارج پر لگا ہوا تھا جب چارجر میں شارٹ سرکٹ ہو گیا۔ چنگاریاں نکلنے لگیں اور قریبی کپڑوں، پردوں اور فرنیچر نے فوری طور پر آگ پکڑ لی۔ دھوئیں کی شدید آڑ نے خاندان کو باہر نکلنے سے روک دیا، اور چند منٹوں میں پورا اپارٹمنٹ شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، بچوں کی رونے کی آوازیں سنائی دیں مگر دھوئیں کی وجہ سے مدد نہ پہنچ سکی۔ پڑوسیوں نے فوری طور پر ایمرجنسی سروسز کو کال کی، لیکن فائر بریگیڈ کی ٹیمیں پہنچنے تک آگ ناقابل کنٹرول ہو چکی تھی۔ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ بجھائی گئی، مگر تب تک سب کچھ تباہ ہو چکا تھا۔
جاں بحق افراد: ایک خاندان کی تلخ کہانی
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک 35 سالہ ماں، اس کی بہن اور چار کم عمر بچے شامل تھے۔ بچوں کی عمریں بالترتیب 7 سال (بیٹی)، 5 سال (بیٹا)، 3 سال اور 2 سال (ایک خاص ضروریات والا بچہ) تھیں۔ تمام افراد موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے، اور ان کی لاشیں قریبی ہسپتال منتقل کی گئیں جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد خاندان کے حوالے کر دی گئیں۔ یہ سانحہ شبرا الخیمہ کے بیجام علاقے کے ایک 7ویں منزل پر واقع اپارٹمنٹ میں پیش آیا، جہاں خاندان عام زندگی گزار رہا تھا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ رات گئے پیش آیا، جب سب سو رہے تھے۔
ریسکیو آپریشن اور ابتدائی تحقیقات
فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کی ٹیموں نے فوری رسپانس دیا مگر دھوئیں اور گرمی کی شدت نے کام کو مشکل بنا دیا۔ حکام نے بتایا کہ چارجر مقامی مارکیٹ سے سستے داموں خریدا گیا تھا، جو غیر تصدیق شدہ اور ناقص پرزوں پر مشتمل تھا۔ ابتدائی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اوور ہیٹنگ اور شارٹ سرکٹ اس کی بنیادی وجوہات تھیں۔ پولیس اور فائر انویسٹی گیٹرز نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور مارکیٹوں سے مزید نمونوں کی جانچ کا حکم دیا۔ مصری وزارت داخلہ نے ملک بھر میں غیر معیاری الیکٹرانکس کی فروخت پر کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔
عالمی اور مقامی اعداد و شمار: ناقص چارجرز کا خطرہ
عالمی سطح پر، نیشنل فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن (NFPA) کے مطابق، سیل فون فائرز کا 24 فیصد ناقص یا نامناسب چارجرز کی وجہ سے ہوتا ہے۔ برطانیہ میں 2022-2023 کے دوران 13 فیصد الیکٹریکل فائرز چارجرز یا بیٹریوں سے منسلک تھے، جہاں 9 فیصد لوگ چارجنگ کے دوران گھر سے باہر چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ 2024 میں جموں و کشمیر کے رامبن میں ایک حاملہ خاتون کی موت چارجر پھٹنے سے ہوئی، جبکہ انڈیا کے ایک بس حادثے میں 234 موبائل فونز کی بیٹریوں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا، جس سے 20 افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستان میں بجلی کے شارٹ سرکٹس سے سالانہ 500 سے زائد گھریلو آگ لگتی ہیں، جن میں سے 15 فیصد الیکٹرانکس سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ سستے چارجرز ایک خاموش قاتل بن چکے ہیں۔
ماہرین کی رائے
الیکٹریکل سیفٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص چارجرز میں استعمال ہونے والے سستے پرزے زیادہ چارجنگ کے دوران گرم ہو جاتے ہیں، جو آگ کا سبب بنتے ہیں۔ خاص طور پر رات بھر چارجنگ خطرناک ہے، کیونکہ 32 فیصد لوگ مینوفیکچرر کے چارجر استعمال نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، برطانیہ میں ایک فون چارجر کی وجہ سے کمرے میں 3 منٹ میں آگ پھیل گئی، جیسا کہ نارتھ ویلز فائر سروس کی ویڈیو میں دکھایا گیا۔ پاکستان میں بھی، ایئرپورٹ پر پاور بینک پھٹنے سے مسافر جھلس گئے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سرٹیفائیڈ پروڈکٹس استعمال کریں اور باقاعدہ چیک کریں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہوئی، جہاں ہزاروں صارفین نے متاثرہ خاندان کے لیے تعزیت کی اور حکومتی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ٹوئٹر اور فیس بک پر #فونچارجر_خطرہ ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں لوگ اپنی کہانیاں شیئر کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ چھوٹی لاپرواہی پوری زندگی چھین سکتی ہے۔” یہ ردعمل ناقص الیکٹرانکس کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
فون چارجنگ کے دوران احتیاط کی سٹیپ بائی سٹیپ گائیڈ
ایک فون چارجر حادثہ سے بچنے کے لیے یہ اقدامات کریں:
- سرٹیفائیڈ چارجر خریدیں: صرف UL یا CE مارکی والے استعمال کریں، سستے کاپی پروڈکٹس سے گریز کریں۔
- رات بھر چارجنگ نہ کریں: 80 فیصد چارج ہونے پر ہٹا دیں، اور نگرانی میں رکھیں۔
- محفوظ جگہ منتخب کریں: بستر، صوفہ یا کپڑوں سے دور، ہارڈ سطح پر چارج کریں۔
- گرمی چیک کریں: اگر چارجر گرم ہو یا بو آئے تو فوراً ہٹائیں اور تبدیل کریں۔
- بچوں کی نگرانی: انہیں اکیلے الیکٹرانکس نہ استعمال کرنے دیں، اور سموک الارم انسٹال کریں۔
یہ ٹپس ناقص چارجر کے نقصانات سے بچا سکتی ہیں، جیسا کہ عالمی اعداد و شمار سے ثابت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرد آہن جب جیل سے نکلا تو یہ عدالتیں ختم کردیں گے: چیئرمین پی ٹی آئی
سوالات اور جوابات (FAQs)
فون چارجنگ سے آگ کیسے لگتی ہے؟
ناقص چارجر میں شارٹ سرکٹ یا اوور ہیٹنگ سے چنگاریاں نکلتی ہیں، جو کپڑوں کو آگ لگا دیتی ہیں۔
پاکستان میں ایسے حادثات کتنے ہوتے ہیں؟
سالانہ 500 سے زائد بجلی کی آگ، جن میں 15 فیصد الیکٹرانکس سے جڑے۔
کیا سستا چارجر خریدنا خطرناک ہے؟
ہاں، یہ 24 فیصد فون فائرز کا سبب بنتے ہیں؛ ہمیشہ برانڈڈ استعمال کریں۔
آپ کی حفاظت کیسے یقینی بنائیں؟
کیا آپ رات بھر فون چارج کرتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں اور پول میں ووٹ دیں: "ہمیشہ سرٹیفائیڈ چارجر استعمال کرتا ہوں” یا "اب سے احتیاط کروں گا”۔ یہ مضمون عوامی رپورٹس پر مبنی ہے اور حفاظت کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
کال ٹو ایکشن: کیا یہ سانحہ آپ کو احتیاط کی یاد دلا گیا؟ اپنے تجربات کمنٹ کریں، دوستوں سے شیئر کریں، اور مزید حفاظتی مضامین پڑھیں۔ فوری اپ ڈیٹس اور ٹپس کے لیے بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں، ہر اہم خبر اور لائف سیونگ ایڈوائس کی نوٹیفکیشن حاصل کریں! یہ مفت ہے اور آپ کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے۔