پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 11 نومبر 2025 کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم پر بحث کرتے ہوئے سخت بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں قید PTI بانی عمران خان، جو "مرد آہن” کے نام سے مشہور ہیں، جب رہا ہوں گے تو موجودہ عدالتی نظام ختم کر دیں گے۔ یہ بیان ترمیم کی مخالفت میں دیا گیا، جو سینیٹ سے منظور ہو چکی ہے اور اب قومی اسمبلی میں پیش کی جا رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے ترمیم کو جمہوریت کے لیے زہر قرار دیا اور ایلیٹ کلاس کی تشکیل کی تنقید کی۔
27ویں آئینی ترمیم کا پس منظر: کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں؟
27ویں آئینی ترمیم کا بل 7 نومبر 2025 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو 10 نومبر کو 64 ووٹوں سے منظور ہو گیا۔ یہ ترمیم عدلیہ اور فوج کی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں لاتی ہے، جیسے وفاقی آئینی عدالت کا قیام، سپریم کورٹ کو صرف سول اور فوجداری مقدمات تک محدود کرنا، اور آرٹیکل 243 میں ترمیم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ بنانا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ 2006 کے چارٹر آف ڈیموکریسی کا تسلسل ہے، مگر PTI اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اسے عدلیہ کی آزادی اور صوبائی حقوق پر حملہ قرار دے رہی ہیں۔ سینیٹ میں PTI نے احتجاج کیا، جبکہ بل قومی اسمبلی میں 11 نومبر کو پیش ہوا، جہاں دو تہائی اکثریت (224 ووٹ) درکار ہے۔ حکومت کے پاس 237 ارکان کی حمایت ہے، جو منظوری کی امید رکھتی ہے۔
بیرسٹر گوہر کے بیان کی کلیدی باتیں
قومی اسمبلی میں قانون وزیر اعظم نذیر تارڑ کے بعد تقریر کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے ترمیم کو "ہاؤس پر حملہ” قرار دیا۔ ان کے اہم نکات یہ ہیں:
- عمران خان کی رہائی کا وعدہ: "مرد آہن جب جیل سے نکلے گا تو یہ عدالتیں ختم کردیں گے۔” انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی پر ان کی ہر بات آئین بن جائے گی۔
- ایلیٹ کلاس کی تنقید: "ہم قانون بنائیں اور استثنیٰ لے لیں؟ کیا ہم ایلیٹ کلاس بنائیں جو قانون سے بالاتر ہو؟” آصف زرداری پر کرپشن کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ الزامات کی تردید کیوں نہیں کرتے۔
- ترمیم کا غلط عمل: "آئین کی تبدیلی اتفاق رائے سے ہوتی ہے، آپ نے دو لوٹوں کے ووٹ سے پاس کروائی۔” چیف جسٹس کو ختم کرکے "چیف جسٹس آف سپریم کورٹ” بنایا، جو پاکستان کی عالمی نمائندگی کو متاثر کرے گا۔
- جمہوریت کے لیے خطرہ: وزیراعظم کو آئینی عدالت لگانے کا اختیار دینا "زہر قاتل” ہے، جو لوٹوں کی بنیاد پر عوام کی خدمت نہیں کر سکے گی۔
- حکومت کا ڈر: "آپ کی سوچ اور ڈر کو سلام، اتنا بھیانک ڈر کہ دروازہ نہ کھلے، کوئی نہ ملے، کہیں میسج نہ آجائے۔”
یہ بیان PTI کی 2025 کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جہاں گوہر عمران خان کی رہائی کو مرکزی نکتہ بنا رہے ہیں۔
ترمیم پر تاریخی تناظر: ماضی کی مثالیں
پاکستان کا آئین 1973 سے 26 ترامیم کا شکار رہا، جن میں 26ویں ترمیم (اکتوبر 2024) نے چیف جسٹس کی تقرری میں پارلیمنٹ کا کردار بڑھایا، جو عدلیہ کی آزادی پر تنقید کا باعث بنا۔ 27ویں ترمیم اس تسلسل کی ہے، جو فوج کے آرٹیکل 243 کو تبدیل کرکے آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بناتی ہے، جس کا عہدہ 27 نومبر 2025 تک ختم ہونے والا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی جگہ لے گا۔
مثالیں:
- 18ویں ترمیم (2010): صوبائی اختیارات بڑھائے، جو اب 27ویں سے کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔
- 26ویں ترمیم: عدلیہ کو کمزور کیا، جیسا کہ 38 سابق ججز نے خبردار کیا۔
- PTI کی مخالفت: گوہر نے 5 نومبر کو اسے "ہاؤس پر حملہ” کہا، جو پارٹی کی 2023 سے جاری جدوجہد کا حصہ ہے۔
یہ ترامیم طاقت کی تقسیم پر اثرات ڈالتی ہیں، جہاں 2025 میں 10 سے زائد قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کو "ذیلی عدالت” بننے کا خطرہ بتایا۔
ممکنہ اثرات: PTI اور جمہوریت پر کیا پڑے گا؟
اگر ترمیم منظور ہوئی تو عدلیہ کی آزادی کمزور ہوگی، صوبائی حقوق (جیسے NFC ایوارڈ) متاثر ہوں گے، اور فوج کا کردار بڑھے گا۔ PTI کے لیے یہ سیاسی دباؤ بڑھائے گا، مگر عوامی حمایت میں اضافہ کر سکتا ہے، جیسا کہ گوہر نے بازاروں اور نمازوں میں PTI کی مقبولیت کا حوالہ دیا۔ ممکنہ نتائج:
- عدلیہ پر: سپریم کورٹ کی آئینی اختیار ختم، جو 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ سے بھی بڑا حملہ ہے۔
- سیاسی سطح: PTI کی مزاحمت بڑھے گی، عمران خان کی رہائی کی تحریک تیز ہوگی۔
- عالمی اثرات: چیف جسٹس کی حیثیت کمزور، پاکستان کی نمائندگی متاثر۔
حکومت اسے اصلاحات قرار دیتی ہے، مگر PTI اسے "لوٹوں کی بنیاد” کہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر عدالت برہم، سیکرٹری داخلہ اور جیل حکام کو نوٹس جاری
سوالات اور جوابات (FAQs)
27ویں ترمیم کیسے منظور ہوگی؟
سینیٹ سے منظور، اب قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت (224 ووٹ) درکار۔
مرد آہن سے مراد کون ہے؟
عمران خان، جنہیں PTI کارکن "مرد آہن” کہتے ہیں، اور گوہر نے ان کی رہائی پر عدالتی نظام ختم ہونے کی پیشگوئی کی۔
ترمیم کے فوائد کیا ہیں؟
حکومت کے مطابق عدلیہ کی لوڈ کم اور فوج کی کمانڈ واضح، مگر ناقدین اسے طاقت کی غلط تقسیم کہتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
کیا عمران خان کی رہائی عدالتی نظام بدل دے گی یا یہ سیاسی بیان ہے؟ کمنٹس میں رائے دیں اور پول میں ووٹ کریں: "PTI کی جیت یقینی” یا "ترمیم ضروری”۔ یہ مضمون تازہ ترین رپورٹس پر مبنی ہے اور قومی سیاست کی بحث کو فروغ دیتا ہے۔
کال ٹو ایکشن: کیا گوہر کا بیان 27ویں ترمیم روک دے گا؟ اپنے خیالات کمنٹ کریں، دوستوں سے شیئر کریں، اور متعلقہ خبروں کی تلاش کریں۔ فوری اپ ڈیٹس کے لیے بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں، ہر بریکنگ نیوز کی نوٹیفکیشن حاصل کریں! یہ مفت ہے اور آپ کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔