پی ٹی آئی کے سابق رکن اور پارلیمانی امور میں سرگرم موجودہ آزاد سینیٹر سینیٹر فیصل واوڈا نے 27ویں آئینی ترمیم کی ممکنہ منظوری سے قبل مٹھائیوں کی ٹوکری لے کر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ کر شاندار اشارہ کیا۔ یہ واقعہ 10 نومبر 2025 کو سینیٹ کے اجلاس سے پہلے پیش آیا جہاں ترمیم پیش کیے جانے کی توقع تھی، جب انہوں نے حکومت کی کامیابی کے جشن میں صحافیوں میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔
میٹھی تقسیم: واوڈا کا طنزیہ انداز
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ میں پہلے سے مٹھائی کھانے آیا ہوں، آپ اپنی نوکری کے ساتھ رویہ نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا، "ہمیں دفاعی لائن کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ معمول سے باہر نہیں ہے۔ جو کچھ اس صدر کے لیے کیا گیا ہے وہ مستقبل کے لیے بھی ہو گا۔” طنزیہ لہجے میں، اس نے نتیجہ اخذ کیا، "27ویں ترمیم کے لیے مٹھائی کھائیں اور 28ویں کی تیاری کریں۔”
یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، صارفین نے اسے "حکومتی اعتماد” اور "اپوزیشن کی تنقید” کے تناظر میں دیکھا۔
27ویں ترمیم کا پس منظر: کیا بدل رہا ہے؟
10 نومبر کو سینیٹ میں پیش کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ اور دفاعی ڈھانچے میں تبدیلیاں متعارف کراتی ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 9 نومبر کو تمام 48 شقوں کی منظوری دی تھی، جن میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام اور فوجی صفوں کے لیے تحفظ شامل تھا۔ حکومت اسے "ادارہ جاتی اصلاحات” کہتی ہے، لیکن اپوزیشن اسے "آئینی تحریف” کا نام دیتی ہے۔
- اہم تبدیلیاں: ازخود اختیارات کا خاتمہ، سپریم کورٹ سے برتر وفاقی عدالت، تاحیات فوجی عہدے (مثلاً، فیلڈ مارشل)۔
- حکومتی اعتماد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اتحادیوں سے مشاورت کا ذکر کیا۔ واوڈا نے اعلان کیا کہ "نمبر مکمل ہیں۔”
- واوڈا کا کردار: انہوں نے ترمیمی شقوں پر بات چیت کے لیے جے یو آئی-ف کے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ صدارتی استثنیٰ کی شق واپس لے لی گئی، شفافیت کا اشارہ ہے۔
سوشل میڈیا ردعمل: تنقید اور طنز
واوڈا کی میٹھی تقسیم کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جس میں صارفین #AmendmentNotPersonalGain اور #IDoNotAcceptSuchConstitution جیسے ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے اسے "ذاتی مفاد میں ترمیم” قرار دیا جبکہ حامیوں نے اسے "جمہوریت کو مضبوط کرنے” کے طور پر سراہا ہے۔
تاریخی طور پر، پاکستان نے 26 آئینی ترامیم دیکھی ہیں، جن میں سے 60 فیصد حکمرانی کے مفادات سے منسلک ہیں۔ 18ویں ترمیم کی طرح، یہ صوبائی حقوق کو متاثر کر سکتی ہے—2024 کی رپورٹوں میں 55% ترامیم کو عوامی دباؤ کی وجہ سے تبدیل کیا گیا ہے۔
ممکنہ اثرات: 28ویں ترمیم پر اشارہ
28 ویں ترمیم کا واوڈا کا ذکر مستقبل میں ہونے والی اصلاحات کا اشارہ دیتا ہے جو ممکنہ طور پر دفاع اور عدلیہ کو مزید متاثر کرے گا۔ اگر منظور ہوتا ہے، تو یہ جی ڈی پی پر 1-2٪ تک اثر ڈال سکتا ہے، جیسا کہ 2022 کے احتجاج میں دیکھا گیا ہے۔ اپوزیشن نے احتجاج کا اعلان کر دیا۔
سیاسی بیانات کی حکمت عملی:
- عوامی تاثرات پر غور کریں، مثلاً مٹھائیاں تقسیم کرنا۔
- سوشل میڈیا کی نگرانی؛ تنقیدی ہیش ٹیگز کا جواب دیں۔
- نمبروں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل حلیف سے مشاورت جاری رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف ہتک عزت کیس: عمران خان کے وکیل کی جرح میں تاخیر
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
فیصل واوڈا نے مٹھائی کیوں تقسیم کی؟
27 ویں ترمیم کے پیشگی جشن میں، 28 ویں کی تیاری کا اشارہ۔
27ویں ترمیم کیسے منظور ہو رہی ہے؟
سینیٹ میں دو تہائی اکثریت؛ 10 نومبر کو پیش کیا گیا۔
28ویں ترمیم کیا ہو سکتی ہے؟
مزید دفاعی اور عدالتی اصلاحات کا اشارہ۔
سوشل میڈیا کا ردعمل کیا ہے؟
طنز اور تنقید؛ #27ویں آئینی ترمیم کا رجحان۔
سامعین کی رائے: پول
کیا آپ کے خیال میں فیصل واوڈا کی میٹھی تقسیم سیاسی طنز تھی؟
- جی ہاں
- نہیں
- مزید معلومات کی ضرورت ہے۔
تبصرے میں اپنی رائے کا اشتراک کریں!
کال ٹو ایکشن
فیصل واوڈا کی مٹھائی اور 27ویں ترمیم پر آپ کا کیا موقف ہے؟ ہمیں تبصروں میں بتائیں، دوستوں کے ساتھ شئیر کریں، اور حقیقی وقت کی سیاسی اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل میں شامل ہوں۔ بائیں جانب تیرتے WhatsApp بٹن پر کلک کریں — نوٹیفکیشن پاپ اپس کو فعال کریں اور ہر بریکنگ اسٹوری پر فوری الرٹس حاصل کریں۔ ابھی شامل ہوں اور سیاست کی دلچسپ دنیا سے جڑے رہیں!