دیوانی اور ہتک عزت کے مقدمات کو نمٹانے والی لاہور کی سیشن عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف وزیراعظم شہباز شریف کے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کے مقدمے میں اہم فیصلہ سنایا۔ جج یلماز غنی نے عمران خان کے وکیل کی جانب سے گواہ عطاء اللہ تارڑ پر جرح میں تاخیر کی درخواست منظور کرتے ہوئے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کیا۔ حکم نامے میں تصدیق کی گئی ہے کہ عطاء اللہ تارڑ پیش ہوئے، ان کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا، اور اب انہیں 15 نومبر کو جرح کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کیس کا پس منظر: پانامہ الزامات سے عدالت تک
ہتک عزت کا مقدمہ جولائی 2017 میں اس وقت دائر کیا گیا تھا جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ عمران خان نے اپریل 2017 میں الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس کیس پر خاموش رہنے کے لیے 10 ارب روپے رشوت کی پیشکش کی۔ شہباز شریف نے دعوے کو جھوٹا اور نقصان دہ قرار دیتے ہوئے 10 ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا۔
- الزام کی تفصیلات: عمران خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ دعویٰ کر دیا۔ شہباز نے اسے "بد نیتی پر مبنی” کا لیبل لگا دیا۔
- عدالتی سفر: کیس ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی کو منتقل کر دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار کی اپیل مسترد کر دی۔
- حالیہ پیش رفت: مئی 2025 میں، شہباز شریف سے ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کی گئی، یہ کہتے ہوئے کہ "میں پاناما کیس میں فریق نہیں تھا۔”
سپریم کورٹ اس معاملے میں دائرہ اختیار کی اپیل کی بھی سماعت کر رہی ہے، جو کارروائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
عطا تارڑ کا بیان اور دی گئی تاخیر
گزشتہ سماعت پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بطور گواہ پیش ہوئے، ان کا بیان قلمبند کیا گیا۔ عمران خان کے سینئر وکیل غیر حاضر تھے جس پر ان کے معاون نے جرح میں تاخیر کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جرح 15 نومبر کو مکمل کی جائے گی ورنہ مزید کارروائی ہوگی۔ یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، صارفین نے اسے ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیا۔
سیاسی اور قانونی سیاق و سباق
یہ کیس پاکستانی سیاست میں ہتک عزت کے مقدموں کی ایک مثال ہے، 2024-2025 میں ایسے 50 سے زیادہ کیسز دائر کیے گئے، جن میں 70 فیصد سیاسی رہنماؤں کے درمیان تھے۔ اگر ہرجانہ دیا جاتا ہے تو اس سے عمران خان پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے- جیسا کہ شہباز کے مئی 2025 کے جرح کے دوران نوٹ کیا گیا تھا جہاں انہوں نے "ثبوت کی کمی” کا ذکر کیا تھا۔
- پی ٹی آئی کا موقف: وکیل نے دعویٰ کیا کہ نوٹس ’جعلی‘ تھا اور پاناما فیصلہ شہباز شریف کے خلاف نہیں تھا۔
- حکومت کا موقف: یہ الزام "ٹی وی پر لاکھوں بار دہرایا گیا”، جس سے ساکھ کو نقصان پہنچا۔
سوشل میڈیا پر #DefamationCase ٹرینڈ کر رہا ہے، صارفین سیاسی غلط استعمال پر تنقید کر رہے ہیں۔
ہتک عزت کے مقدمات کا جائزہ
پاکستان کے ہتک عزت کے قوانین (PPC 499-502) کے تحت، 2020-2025 کے دوران 300 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے 40 فیصد سیاسی طور پر محرک تھے۔ مثال: 2023 میں، عمران خان نے مریم نواز کے خلاف 5 ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا، جو ابھی تک زیر التوا ہے۔ ایسے معاملات عدالتوں پر بوجھ ڈالتے ہیں، جن میں سے 60 فیصد دو سال تک چلتے ہیں۔
عدالتی کارروائی کے لیے تجاویز:
- گواہوں کے بیانات تیار کریں اور دستاویزات جمع کروائیں۔
- جرح کے لیے قانونی دلائل کو مضبوط کریں، جیسے ثبوت کی کمی۔
- میڈیا ٹرائلز سے بچیں؛ عدالت پر توجہ مرکوز کریں.
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم پر مکمل ووٹ ہیں، آج سینیٹ سے پاس ہو جائیں گے، خواجہ آصف
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
ہتک عزت کا یہ کیس کیسے شروع ہوا؟
2017 میں عمران خان کے پاناما رشوت کے الزام پر۔
عطاء اللہ تارڑ کا کردار کیا ہے؟
گواہ؛ بیان ریکارڈ 15 نومبر کو کراس امتحان۔
کیس کا اگلا مرحلہ کیا ہے؟
15 نومبر کو جرح، پھر حتمی دلائل۔
کیا یہ معاملہ سیاسی ہے؟
جی ہاں، سیاسی ہتک عزت کے 70% کیس ایسے ہی ہوتے ہیں۔
سامعین کی رائے: پول
کیا آپ کے خیال میں یہ ہتک عزت کا مقدمہ سیاسی انتقام ہے؟
- جی ہاں
- نہیں
- مزید تفصیلات درکار ہیں۔
تبصرے میں اپنی رائے کا اشتراک کریں!
کال ٹو ایکشن
شہباز شریف اور عمران خان کے ہتک عزت کیس پر آپ کا کیا موقف ہے؟ ہمیں تبصروں میں بتائیں، دوستوں کے ساتھ شئیر کریں، اور تازہ ترین قانونی اور سیاسی اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل میں شامل ہوں۔ بائیں جانب تیرتے WhatsApp بٹن پر کلک کریں — نوٹیفکیشن پاپ اپس کو فعال کریں اور ہر بریکنگ اسٹوری پر فوری الرٹس حاصل کریں۔ ابھی شامل ہوں اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے کی گہرائی میں غوطہ لگائیں!