اسلام آباد: وزارت اطلاعات نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں مقیم دہشت گردوں کو گرفتار یا کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو پاکستان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ یہ بیان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے استنبول مذاکرات کے حوالے سے دیے گئے بیانات کے ردعمل میں آیا، جنہیں پاکستان نے "جھوٹا اور گمراہ کن” قرار دیا۔
وزارت اطلاعات کے ایکس پر پوسٹ کردہ بیان میں کہا گیا کہ جب افغان فریق نے دعویٰ کیا کہ وہ افراد پاکستانی شہری ہیں تو اسلام آباد نے فوراً تجویز پیش کی کہ انہیں نامزد سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے حوالے کیا جائے، جو پاکستان کی دیرینہ پوزیشن کے مطابق ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب ذبیح اللہ مجاہد نے نجی نیوز چینل کو بتایا کہ استنبول مذاکرات کے دوران افغان فریق نے اسلام آباد کی طرف سے سیکیورٹی خطرات سمجھے جانے والے افراد کو ملک بدر کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن پاکستان نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان نے ان افراد کو افغانستان میں ہی روکنے کا مطالبہ کیا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی پالیسی مہاجرین کو ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیتی اور اگر پاکستان معتبر ثبوت فراہم کرے تو کابل کارروائی کرے گا۔ انہوں نے پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کو بگرام ایئربیس پر ممکنہ امریکی واپسی کے لیے حالات پیدا کرنے کا مقصد قرار دیا۔
استنبول مذاکرات کا پس منظر
پاکستان اور افغان طالبان حکومت نے استنبول میں کئی دور کے مذاکرات کے بعد جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، لیکن مذاکرات بغیر کسی بریک تھرو کے ختم ہو گئے۔ بات چیت اس وقت ٹوٹ گئی جب طالبان نے ٹی ٹی پی جیسے گروپوں کی طرف سے افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان پر حملے نہ کرنے کی قابل تصدیق ضمانتیں دینے سے انکار کر دیا۔
پاکستان نے ترکی اور قطر کی ثالثی پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے تاکہ امن کو ایک اور موقع دیا جائے، جبکہ کابل سے بارہا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکے۔
- پاکستان کا موقف: دہشت گردوں کو گرفتار یا کنٹرول کیا جائے۔
- افغان دعویٰ: ملک بدر کرنے کی پیشکش مسترد۔
- اگلا دور: 6 نومبر کو دوبارہ ملاقات۔
‘مکاری بھرا اور گمراہ کن’ بیانات پر دفاع وزیر کا ردعمل
دفاع وزیر خواجہ آصف نے ایکس پر پوسٹ میں افغان طالبان ترجمان کے "مکاری بھرے اور گمراہ کن” بیانات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت ملک کی سیکیورٹی اور افغان پالیسی پر متحد ہے۔
آصف نے کہا کہ پاکستانیوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے عوام، افغان طالبان حکومت کی "غداری بھری اور وحشیانہ سرپرستی” سے بخوبی آگاہ ہیں جو بھارت کی سرپرستی میں دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے طالبان کو غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اندرونی تقسیم کا شکار ہے اور افغان نسلی گروپوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر ظلم کرتی ہے، بنیادی حقوق جیسے تعلیم اور آزادی اظہار کو دباتی ہے۔
چارسالہ اقتدار کے باوجود، طالبان عالمی برادری سے کیے وعدوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے اور اپنی ناقص گورننس کو بیان بازی سے چھپاتے ہیں، بیرونی مفادات کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد۔کابل تناؤ کی تاریخ
2021 میں افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ اسلام آباد نے بارہا طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار گروپوں کو روکیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالا جادو کرنے سے انکار، شوہر نے بیوی کے چہرے پر گرم سالن انڈیل دیا — افسوسناک واقعہ نے سب کو ہلا دیا
تاہم، طالبان نے پاکستان کے خدشات کو نظر انداز کیا اور متعدد دہشت گرد گروپوں کو پناہ دی۔ سرحدی فائرنگ 12 اکتوبر کو شروع ہوئی، جس پر پاک فوج نے جوابی کارروائی کی اور 200 سے زائد طالبان جنگجو ہلاک کیے، جبکہ 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ پاک فوج نے افغانستان میں، بشمول کابل، دہشت گرد ٹھکانوں پر حملے کیے۔
17 اکتوبر کو پاکستان نے طالبان کی درخواست پر عارضی جنگ بندی قبول کی۔ قطر میں دوحہ مذاکرات کے بعد جنگ بندی معاہدہ ہوا، پھر ترکی نے استنبول میں دوسرا دور میزبانی کی جو 25 سے 31 اکتوبر تک چلا۔
اہم اعدادوشمار
- حملوں میں اضافہ: 2021 کے بعد KP اور بلوچستان میں سینکڑوں واقعات۔
- سرحدی جھڑپیں: 200+ طالبان ہلاک، 23 پاک فوجی شہید۔
- ثالثی: قطر اور ترکی کا کردار۔
کراس بارڈر دہشت گردی: پاکستان کے ثبوت اور مطالبات
پاکستان نے ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے کے ثبوت طالبان کو پیش کیے، لیکن کابل نے ٹال مٹول کیا۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کھلی جنگ کا خطرہ ہے۔
پاکستان کی تجاویز:
- دہشت گردوں کی حوالگی سرحدی نقاط پر۔
- افغان خاک پر ٹھکانوں کی تباہی۔
- قابل تصدیق ضمانتیں TTP کے خلاف۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
استنبول مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
طالبان نے TTP کے افغان سرزمین استعمال نہ کرنے کی ضمانت دینے سے انکار کیا۔
پاکستان نے کیا پیشکش کی؟
دہشت گردوں کو گرفتار، کنٹرول یا حوالے کرنے کا۔
اگلا قدم کیا؟
6 نومبر کو نئے دور کا آغاز۔
کیا طالبان بھارت کی مدد کر رہے ہیں؟
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ طالبان بھارت کی سرپرستی میں دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
نیچے کمنٹ کریں کہ کیا پاکستان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے چاہییں یا سخت اقدامات اٹھانے چاہییں؟ اپنی رائے شیئر کریں اور اس آرٹیکل کو سوشل میڈیا پر پھیلائیں تاکہ مزید لوگ حقائق جانیں۔
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – بائیں جانب فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشنز آن کریں تاکہ تازہ ترین اپ ڈیٹس براہ راست آپ کے فون پر پہنچیں۔ یہ مفت ہے، آسان ہے اور آپ کو کبھی کوئی اہم خبر نہیں چھوٹے گی!
Disclaimer: All information is based on public reports; verify before any actions.