18ویں ترمیم میں اتنی طاقت ہے کسی کا باپ بھی چاہے اسے ختم نہیں کرسکتا: بلاول بھٹو

بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں ایک اہم خطاب کرتے ہوئے 18ویں ترمیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم میں اتنی طاقت ہے کہ کسی کا باپ بھی چاہے تو اسے ختم نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے پاس ہوئی تھی۔ بلاول بھٹو نے سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا اور اپوزیشن کی ذمہ داریوں کا ذکر کیا، جبکہ حالیہ دہشت گردی کی مذمت کی اور قوم کو متحد ہونے کا پیغام دیا۔ یہ بیان آئینی ترمیم پاکستان کے موجودہ منظرنامے میں انتہائی اہم ہے۔

بلاول بھٹو کا 18ویں ترمیم پر بیان

بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم کی مضبوطی اکثریت سے نہیں بلکہ اتفاقِ رائے سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم صوبائی خودمختاری کو یقینی بناتی ہے اور وفاقی اختیارات کو متوازن کرتی ہے۔

  • کلیدی نکات: 18ویں ترمیم نے آئین پاکستان میں بنیادی تبدیلیاں لائیں، جن میں صوبوں کو 47.5% وسائل کی تقسیم شامل ہے، جو قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے تحت عمل میں آئی۔
  • تاریخی پس منظر: 2010 میں پاس ہونے والی یہ ترمیم نے صدر کی اختیارات کم کیے اور پارلیمنٹ کو مرکزی حیثیت دی، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔

بلاول بھٹو نے موجودہ ترمیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم مولانا فضل الرحمان کی وساطت سے پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کے اتفاق سے پاس ہوئی، جبکہ آج کی ترمیم میں اکثریت تو ہے مگر اتفاق رائے کی کمی ہے۔

18ویں ترمیم کی اہمیت

18ویں ترمیم پاکستان کی سیاست میں ایک انقلاب ثابت ہوئی، جس نے وفاق اور صوبوں کے اختیارات کو واضح کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا موقف ہے کہ یہ ترمیم جمہوریت کی بنیاد ہے، اور اسے ختم کرنے کی 18ویں ترمیم ختم کرنے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔
اس ترمیم کے بعد صوبائی بجٹ میں 30% اضافہ ہوا، جو تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں صوبائی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دیتی ہے۔

  • فوائد: وفاقی اختیارات کم ہوئے، صوبائی خودمختاری بڑھی، جو پاکستان کی وفاقی ساخت کو مستحکم کرتی ہے۔
  • چیلنجز: بعض حلقوں میں واپسی کی کوششیں، مگر بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ تمام جماعتوں کے دستخط اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

یہ ترمیم آئین پاکستان کی روح ہے، جو بنیادی حقوق کو تحفظ دیتی ہے۔

سیاسی اتفاق اور اپوزیشن کی ذمہ داریاں

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب تک سیاست دان ایک دوسرے کو عزت نہ دیں، ملک اور ایوان صحیح نہیں چلے گا۔ اپوزیشن کا کام صرف رہائی کا رونا پڑھنا نہیں، بلکہ قانون سازی میں مشاورت اور حکومت کو جواب دہ بنانا ہے۔
حکومت نے پیپلز پارٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے نامکمل مشن کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں آئینی عدالت کا قیام شامل ہے۔

مرحلہ وار رہنمائی سیاسی اتفاق بنانے کے لیے:

  1. مشاورت شروع کریں: تمام جماعتیں CEC جیسے فورمز پر بیٹھیں۔
  2. عزت کا ماحول بنائیں: اختلافات کو سیاسی سطح پر رکھیں، ذاتی حملوں سے گریز۔
  3. قانون سازی کو ترجیح دیں: اتفاق سے ترامیم لائیں، جو ملک کی طاقت بڑھائیں۔

یہ نقطہ نظر حکومت اور اپوزیشن تعلقات کو بہتر بنائے گا۔

دہشت گردی اور قومی اتحاد

بلاول بھٹو نے پچھلے دنوں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سیاسی، نظریاتی اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر دہشت گردی کے خلاف پورا ملک ایک ہو جائے۔انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے سرزمین پر وہ کارنامہ کیا جو دنیا نے افغانستان میں نہ کر سکی، اور عوام کی شہادتوں سے دہشت گردوں کو شکست دی۔ اب ایک بار پھر متحد ہو کر انہیں ختم کریں گے۔ اس کے علاوہ، بلاول نے دفاعی ترامیم کا ذکر کیا: وزیراعظم کا فیصلہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کا، آرٹیکل 243 میں تحفظ، تاکہ بھارت کو شکست دی جائے۔ یہ فوجی کمانڈ ڈھانچے میں آئینی تبدیلی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا طارق جمیل کو خاتون کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا: بیٹے یوسف جمیل کی ڈاکٹر نبیہا علی پر کڑی تنقید

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

بلاول بھٹو کا 18ویں ترمیم پر بیان کیا ہے؟

یہ ترمیم صوبائی خودمختاری کی طاقتور ضمانت ہے، جو ختم نہیں ہو سکتی۔

18ویں ترمیم کی اہمیت کیا ہے؟

یہ وفاقی اختیارات کم کرتی ہے، صوبوں کو خودمختاری دیتی ہے، اور جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے۔

پیپلز پارٹی کا آئینی مؤقف کیا ہے؟

اتفاق رائے پر زور، چارٹر آف ڈیموکریسی کو مکمل کرنا۔

18ویں ترمیم سے صوبائی خودمختاری کیسے ملی؟

وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی منتقلی سے، جو 47.5% صوبائی شیئر یقینی بناتی ہے۔

انٹرایکٹو عنصر: پول

کیا آپ 18ویں ترمیم کی حفاظت کی حمایت کرتے ہیں؟

  • ہاں، یہ صوبائی حقوق کی ضمانت ہے۔
  • نہیں، مزید تبدیلیاں درکار ہیں۔ (اپنی رائے دیں اور دوسروں کی دیکھیں – یہ پول آپ کی سیاسی بصیرت بڑھائے گا!)

اختتام اور کال ٹو ایکشن

بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان پاکستان کی سیاست کو نئی سمت دے گا، جو 18ویں ترمیم کی طاقت اور اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹس میں شیئر کریں، دوستوں کے ساتھ پوسٹ کریں، یا مزید سیاسی تجزیے پڑھیں۔

WhatsApp چینل جوائن کریں: تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس اور بریکنگ نیوز کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں – بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں، اور ہر اہم بیان براہ راست آپ کے پاس پہنچ جائے گا۔ یہ مفت ہے، محفوظ، اور آپ کی رائے کا احترام کرتا ہے – ابھی جوائن کریں اور سیاسی منظرنامہ سے جڑ جائیں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے