پاکستان میں ٹی ایل پی پر پابندی لگانے پر غور جاری: وزیر مملکت داخلہ کا بیان

car

وزارت داخلہ پاکستان تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ کو ریفرنس بھیجا ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پنجاب نے کچھ شواہد بھی فراہم کیے ہیں، اور جائزہ مکمل ہونے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب، پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ٹی ایل پی کے تمام اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں اور 3800 ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی جہاں سے مالی امداد ملتی تھی۔

ٹی ایل پی کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات

حکومت نے ٹی ایل پی کو دہشت گرد سوچ کے خلاف کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے۔ پنجاب حکومت نے حال ہی میں کابینہ اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی ہے اور سمری وفاقی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔

  • اکاؤنٹس اور فنڈنگ: ٹی ایل پی کے 95 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، جن میں سعد رضوی کے نام پر رجسٹرڈ اکاؤنٹس شامل ہیں۔ اگر کوئی مالی مدد کرے گا تو اس پر دہشت گردی کے مقدمات درج ہوں گے۔
  • برآمدات: سعد رضوی کے گھر سے 1 کلو 920 گرام سونا، 898 گرام چاندی، 38 نایاب گھڑیاں اور کروڑوں کی نقدی برآمد ہوئی۔ بے نامی جائیدادیں بھی خریدی گئیں۔
  • مساجد اور مدارس: 130 مساجد حکومتی تحویل میں لی گئیں، جبکہ 223 مدارس کی جیو ٹیگنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ان کا نظم و نسق محکمہ اوقاف کے پاس ہوگا۔
  • گرفتاریاں: سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کو ٹریس کیا جا رہا ہے، وہ جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

یہ کارروائیاں کسی فرقہ یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گرد سوچ کے خلاف ہیں، جیسا کہ عظمیٰ بخاری نے واضح کیا۔

حالیہ مظاہروں کا پس منظر

ٹی ایل پی نے 10 اکتوبر 2025 کو ‘لبیک یا اقصیٰ’ کے نام سے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کا اعلان کیا تھا۔ اسے روکنے کی کوششوں پر کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔ 13 اکتوبر کو مریدکے میں مارچ منتشر کر دیا گیا، جہاں پولیس اور رینجرز نے جی ٹی روڈ خالی کروایا۔

  • پولیس کی رپورٹ: ایک ایس ایچ او ہلاک، 80 سے زائد اہلکار زخمی۔ ٹی ایل پی نے پولیس کی 8 گاڑیاں چھینیں اور قومی املاک کو نقصان پہنچایا۔
  • ٹی ایل پی کا دعویٰ: کئی کارکن ہلاک، زخمی اور گرفتار۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سعد رضوی مظاہرین کو پولیس پر تشدد کے لیے اکساتے رہے اور لاشوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ غزہ کے نام پر فتنہ پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ ریسکیو اہلکاروں پر حملے کیے گئے۔

طلال چوہدری کے اضافی بیانات

سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیر اعظم کے اجلاس میں شریک ہوں۔ فوجی آپریشنز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ‘وزیر اعلی بدلتے تھک جاؤ گے، آپریشن نہیں رکے گا۔’ انہوں نے نواز شریف دور میں دہشت گردی کے خاتمے کا حوالہ دیا اور پوچھا کہ خیبر پختونخوا محفوظ کیوں نہیں؟ ماضی میں ٹی ایل پی کو سپورٹ کرنے والے سرکاری اہلکاروں پر کہا کہ ریاست اب اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حالیہ لڑائی میں افغانستان کے اندر اہداف پر فضائی حملے کیے، پاکستانی وزیر دفاع کی تصدیق

ممکنہ اثرات اور سوالات

ٹی ایل پی پر پابندی سے اس کی مدارس اور مساجد کی بنیاد پر قائم نیٹ ورک غیر موثر ہو سکتا ہے۔ پنجاب حکومت نے پہلے ہی 330 مساجد اور 223 مدارس کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں امن و امان کو مضبوط کرے گا، لیکن مذہبی جماعتوں کے لیے نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔

عمومی سوالات (FAQs)

کیا ٹی ایل پی پر پابندی لگ جائے گی؟

پنجاب کابینہ نے منظوری دے دی ہے، وفاقی حکومت ایک دو دن میں فیصلہ کر سکتی ہے۔

ٹی ایل پی کے رہنما کہاں ہیں؟

سعد رضوی اور بھائی بھاگے ہوئے ہیں، ٹریسنگ جاری ہے۔

کیا یہ فرقہ وارانہ کارروائی ہے؟

نہیں، یہ دہشت گرد سوچ کے خلاف ہے، جیسا کہ حکومت کا موقف ہے۔

ماضی میں ٹی ایل پی کی پابندی کیوں اٹھائی گئی؟

پی ٹی آئی دور میں پابندی لگی اور پھر اٹھا لی گئی، اب پنجاب اور سندھ اتفاق کر رہے ہیں۔

پول: آپ کا خیال کیا ہے؟

کیا ٹی ایل پی پر پابندی سے پاکستان میں امن بڑھے گا؟

  • ہاں، ضروری ہے۔
  • نہیں، مسائل بڑھیں گے۔
  • معلوم نہیں۔

اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں!

نتیجہ اور کال ٹو ایکشن

یہ پیشرفت پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا WhatsApp چینل جوائن کریں اور نوٹیفیکیشنز آن کریں۔ کمنٹس میں اپنی رائے دیں، آرٹیکل شیئر کریں اور متعلقہ خبروں کے لیے سبسکرائب کریں۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے