محکمہ بلدیات کراچی کے سربراہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کی ایک اہم تجارتی عمارت گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر تفصیلی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حادثہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، بلڈنگ قوانین اور فائر سیفٹی نظام میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ریسکیو آپریشن اب آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے، تاہم جاں بحق افراد کی حتمی تعداد اور شناخت کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے لائی جائے گی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر کراچی کی کمرشل عمارتوں کی حفاظت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گل پلازہ آتشزدگی
گل پلازہ کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع ایک کمرشل عمارت ہے جہاں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کی شدت کے باعث عمارت میں موجود متعدد افراد پھنس گئے، جس کے بعد ریسکیو اداروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی، جس کی ایک بڑی وجہ عمارت میں مناسب فائر سیفٹی انتظامات کا فقدان بتایا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب شہر میں کئی پرانی اور نئی کمرشل عمارتیں بغیر مکمل حفاظتی منظوریوں کے استعمال میں ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا میڈیا سے تفصیلی بیان
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا:
- گل پلازہ کی عمارت دو تہائی کلیئر کی جاچکی ہے
- اب تک مزید لاشیں نہیں ملی ہیں
- لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے
- ہمیں 81 افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئیں
- جاں بحق افراد کی حتمی تعداد صبح تک واضح ہوسکے گی
ان کا کہنا تھا کہ غیر مصدقہ اعداد و شمار پھیلانا نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
ریسکیو آپریشن کی تازہ صورتحال
میئر کراچی کے مطابق:
- گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن 70 فیصد مکمل ہوچکا ہے
- عمارت کے پہلے اور دوسرے فلور کو مکمل کلیئر کر لیا گیا ہے
- بھاری مشینری اور تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں
- ہر ممکن احتیاط برتی جا رہی ہے تاکہ کسی ممکنہ زندہ فرد کو نقصان نہ پہنچے
ریسکیو حکام کے مطابق، آپریشن کے دوران درپیش سب سے بڑا مسئلہ عمارت کا کمزور اسٹرکچر اور تنگ راستے ہیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کردار اور ذمہ داری
مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ:
- سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) عمارت کے اسٹرکچرل اور حفاظتی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے
- یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا عمارت منظور شدہ نقشے کے مطابق تعمیر ہوئی یا نہیں
- فائر سیفٹی سسٹم کی موجودگی اور فعالیت کا بھی آڈٹ کیا جا رہا ہے
ان کے مطابق، اگر کسی سطح پر غفلت یا قانون شکنی ثابت ہوئی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دینے کا فیصلہ
گل پلازہ کے ملبے کے اثرات کے باعث قریبی واقع رمپا پلازہ کو بھی خطرات لاحق ہوگئے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے:
- رمپا پلازہ کو غیر محفوظ عمارت قرار دے دیا
- انتظامیہ اور دکان مالکان کو تحریری نوٹس جاری کر دیے
- گل پلازہ کے ملبے سے رمپا پلازہ کے ستون متاثر ہوئے
- خطرناک حصوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی
یہ فیصلہ شہری جانوں کے تحفظ کے لیے ایک احتیاطی مگر ناگزیر قدم سمجھا جا رہا ہے۔
فائر سیفٹی سسٹم کی اہمیت
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے زور دیتے ہوئے کہا:
“عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نصب ہونا چاہیے تاکہ ایسے حادثات دوبارہ نہ ہوں۔ انسانی جانوں کا کوئی متبادل نہیں۔”
ماہرین کے مطابق فائر سیفٹی کے بغیر کمرشل عمارتیں ایک چلتا پھرتا خطرہ بن جاتی ہیں، خاص طور پر وہ عمارتیں جہاں روزانہ سینکڑوں افراد کا آنا جانا ہوتا ہے۔
کراچی میں فائر سیفٹی مسائل
کراچی جیسے بڑے شہر میں فائر سیفٹی کے مسائل درج ذیل وجوہات کی بنا پر بڑھ رہے ہیں:
- پرانی عمارتوں میں جدید فائر سیفٹی سسٹم کی عدم تنصیب
- غیر قانونی فلورز اور تجاوزات
- ناقص الیکٹریکل وائرنگ
- ایمرجنسی ایگزٹس کا بند یا ناکارہ ہونا
- فائر ڈرلز اور تربیت کی کمی
اعداد و شمار کی روشنی میں
عالمی فائر سیفٹی رپورٹس کے مطابق، وہ عمارتیں جہاں اسپرنکلر اور فائر الارم سسٹم فعال ہوں، وہاں جانی نقصان میں 50 سے 60 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
عمارت مالکان کے لیے عملی ہدایات
اگر کراچی میں ایسے واقعات کو روکنا ہے تو عمارت مالکان کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر اپنانا ہوں گے:
- فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر اور اسپرنکلر سسٹم نصب کرنا
- ہر فلور پر واضح ایمرجنسی ایگزٹس مہیا کرنا
- سالانہ بنیادوں پر فائر سیفٹی آڈٹ کروانا
- ملازمین اور دکانداروں کو فائر ڈرل کی تربیت دینا
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
شہری بھی اپنی حفاظت کے لیے یہ اقدامات کر سکتے ہیں:
- کمرشل عمارت میں داخل ہوتے وقت ایمرجنسی راستوں کا جائزہ لینا
- مشکوک یا غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی متعلقہ اداروں کو کرنا
- آگ لگنے کی صورت میں لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال
اپنی رائے دیں
کیا آپ کے کام کرنے والی عمارت میں فائر سیفٹی سسٹم موجود ہے؟
- مکمل طور پر موجود
- جزوی طور پر
- بالکل موجود نہیں
- معلوم نہیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن کب مکمل ہوگا؟
جواب: میئر کراچی کے مطابق آپریشن 70 فیصد مکمل ہوچکا ہے اور جلد اختتام کی توقع ہے۔
سوال: کیا کراچی کی دیگر عمارتوں کا بھی معائنہ ہوگا؟
جواب: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر بھر میں کمرشل عمارتوں کے حفاظتی آڈٹس کا عندیہ دیا ہے۔
نتیجہ اور کال ٹو ایکشن
گل پلازہ کا سانحہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ اگر فائر سیفٹی کو نظرانداز کیا گیا تو اس کے نتائج انسانی جانوں کی صورت میں سامنے آتے رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور شہری شعور کو فروغ دیا جائے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں:
کمنٹس میں بتائیں کہ کیا آپ کے علاقے کی عمارتیں محفوظ ہیں؟
اس خبر کو شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آگاہ ہو سکیں۔
ہماری WhatsApp چینل کو فالو کریں
اہم اور بروقت خبروں کے لیے بائیں جانب موجود فلوٹنگ WhatsApp بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں، تاکہ کوئی اپڈیٹ آپ سے رہ نہ جائے۔