پاکستان میں قدرتی آفات کے نام پر ہونے والی تباہیوں کی اصل وجہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور صوبائی اداروں کی طویل عرصے سے جاری ناکامی ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں جون سے اب تک 1,000 سے زائد اموات ہوئیں، جن میں سے خیبرپختونخوا (KP) میں 504 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اعدادوشمار محکمہ داخلہ KP اور NDMA کی رپورٹس سے لیے گئے ہیں۔
تعارف: اداروں کی ناکامی کا تسلسل
وزیراعظم شہباز شریف نے 22 اگست 2025 کو سیلاب کی تباہی کا ذمہ دار دریاوں کے کناروں پر غیرقانونی تعمیرات کو قرار دیا۔ کراچی کے میئر مرتضٰی وہاب نے تسلیم کیا کہ شہر کی نکاسی آب کا نظام دہائیوں سے اپ گریڈ نہیں ہوا۔ پنجاب کی لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (LDA) نے غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو کمزور قوانین اور انفورسمنٹ کی کمی قرار دیا۔ یہ تمام بیانات سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ ہیں۔
خیبرپختونخوا: سیلاب، لکڑی مافیا اور تاریخی غفلت
2025 کے سیلاب میں KP سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ سوات دریا کے کنارے بنے ہوٹل اور ریزورٹس 2022 کے سپر فلڈز کی طرح بہہ گئے۔ ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان نے 2014 کے Rivers Protection Act کے باوجود تعمیرات پر پابندی نافذ کی، مگر نفاذ ناکام رہا۔
- اعدادوشمار: جنگلات کا رقبہ 1992 میں 3.78 ملین ہیکٹر سے 2025 میں 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا (5.2% زمین)۔ KP میں 95% کمی۔
- انفورسمنٹ کی ناکامی: پلاننگ سیکرٹری عدیل شاہ نے GIS میپنگ سے اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو شروع کی، مگر عدالتوں سے سٹے آرڈرز رکاوٹ بنے۔
- لکڑی مافیا: 100-150 افسران برطرف، مگر مافیا اندرونی مدد سے چل رہا ہے۔
حل: خصوصی انفورسمنٹ ایجنسیز قائم کی جائیں، جیسے پنجاب میں تجربہ کیا جا رہا ہے۔
سندھ: کراچی میں بارش بھی تباہی
19 اگست 2025 کو ہلکی بارش نے شاہراہیں ڈبو دیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے 2024 میں 1,500 غیرقانونی عمارتیں مسمار کیں، مگر ناکامی جاری ہے۔
- نسلہ ٹاور کیس: 15 منزلہ عمارت سپریم کورٹ کے حکم پر مسمار۔
- خطرناک عمارتیں: 600 سے زائد عمارتیں گرنے کے دہانے پر۔
- ٹریفک اموات: 2025 میں 536 حادثات، جن میں 64 ڈمپر/ٹینکرز سے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کرنے والا ماہی گیر گرفتار کر لیا
میئر وہاب: "7,000 انکروچمنٹس نکاسی نالوں پر، مگر سٹے آرڈرز روکاوٹ ہیں۔”
پنجاب: غیرقانونی ہاؤسنگ کا دھندہ
لاہور میں بل بورڈز پر جعلی اسکیموں کے اشتہار۔ تھیم پارک ویو سوسائٹی سمیت 44 غیرقانونی پراجیکٹس RUDA کے تحت۔
- LDA کا اعتراف: "قوانین میں سزا کی طاقت کم، ایجنسیز میں کوآرڈینیشن نہ ہونے کے برابر۔”
- نقصان: ہزاروں شہری قانونی جھمیلوں میں پھنسے۔
گورننس کا ناکام چکر
سابق میئر لاہور مبشر جاوید: "حکمرانی ذاتی مفاد کے لیے چل رہی ہے۔ بدعنوانی لیبر سے بیوروکریٹ تک پھیل چکی۔”
اہم اسباب (NLP تجزیہ شدہ):
- گورننس فیلئیرز پاکستان: قوانین موجود، نفاذ صفر۔
- فلود مس مینجمنٹ 2025: اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو ناکام۔
- کرپشن اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس: لکڑی مافیا، اندرونی ملی بھگت۔
- انسٹی ٹیوشنل کولپس: عدالتوں سے سٹے، بیوروکریٹک انرشیا۔
قابل عمل مشورے
- شہریوں کے لیے: پراپرٹی خریدنے سے پہلے SBCA/LDA سے تصدیق کریں۔
- حکومت کے لیے: ڈیجیٹلائزیشن، خصوصی عدالتوں کا قیام، انفورسمنٹ ایجنسیز۔
- ماحولیات: بلین ٹری سونامی کی بجائے موجودہ جنگلات کی حفاظت۔
کوئز: آپ کی رائے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں تباہیوں کا اصل ذمہ دار کون ہے؟
- فطرت
- بدعنوانی
- شہریوں کی لاپرواہی
نیچے کمنٹس میں ووٹ دیں!
کال ٹو ایکشن: کیا آپ پاکستان کی گورننس اصلاحات پر تازہ ترین اپ ڈیٹس چاہتے ہیں؟ 👈 بائیں طرف واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – روزانہ 2 منٹ میں اہم خبروں کی نوٹیفکیشنز براہ راست آپ کے فون پر!
Disclaimer: All information is based on public reports; verify before acting.