وزارتِ اطلاعات کے مطابق، پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کرنے والے ماہی گیر اجاز ملّاح کو گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعاتی وزیر عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران یہ انکشاف کیا۔
اطلاعاتی وزیر عطا تارڑ نے بتایا کہ اجاز ملّاح کو رواں سال ستمبر میں بھارتی حکام نے حراست میں لیا تھا، جہاں اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر کے جاسوسی کے کام سونپے گئے۔ اسے مالی فوائد کی لالچ دی گئی اور تعاون نہ کرنے پر تین سال قید کی دھمکی بھی دی گئی۔
بھارتی ایجنسیوں کے دیے گئے ٹاسک
- پاکستان آرمی، نیوی اور رینجرز کے یونیفارم حاصل کرنا
- مقامی سم کارڈز اور فون بلز جمع کرنا
- جاسوسی کے مقاصد کے لیے معلومات فراہم کرنا
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں نیوی ملازم کو کچل کر فرار ہونے والا ڈرائیور گرفتار
تارڑ کے مطابق، پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ملّاح کی سرگرمیوں پر نظر رکھی اور اسے بھارت واپس جاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ ملّاح کا اعترافی بیان ویڈیو کی شکل میں جاری کیا گیا ہے جس میں اس نے بھارتی ایجنٹوں کی دھمکیوں کا ذکر کیا۔
پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر بھارت کی بے چینی
اطلاعاتی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ اسٹریٹجک اور سفارتی کامیابیوں سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی تخریبی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ماہی گیروں کی بھرتی: ایک پرانا حربہ
سرحد پار جاسوسی میں ماہی گیروں کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستانی ساحلی ماہی گیر کمیونٹی کو RAW اکثر نشانہ بناتی ہے۔ ماضی میں بھی متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں جہاں ماہی گیروں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
پاکستان کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کارروائیاں
- ساحلی علاقوں میں نگرانی کا نظام مضبوط
- مشکوک سرگرمیوں کی فوری رپورٹنگ
- ماہی گیروں کے لیے آگاہی مہم
عملی مشورے: جاسوسی سے بچاؤ
- نامعلوم افراد سے مالی لالچ پر بات نہ کریں
- حساس علاقوں میں فوٹو گرافی سے گریز کریں
- مشکوک سرگرمی فوراً مقامی حکام کو رپورٹ کریں
سوالات و جوابات (FAQs)
س: اجاز ملّاح کو کب گرفتار کیا گیا؟
ج: بھارت واپس جاتے ہوئے، نومبر 2025 میں۔
س: بھارتی ایجنسیوں نے کیا ٹاسک دیا تھا؟
ج: فوجی یونیفارم، سم کارڈز اور جاسوسی معلومات۔
س: کیا یہ پہلا کیس ہے؟
ج: نہیں، سرحد پار جاسوسی میں ماہی گیروں کا استعمال عام ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندری سرحد پر روزانہ سینکڑوں ماہی گیر سرگرم رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ غلطی سے سرحد پار کر جاتے ہیں اور جاسوسی کے الزام کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سروے: کیا آپ کو لگتا ہے کہ ماہی گیروں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟
- ہاں، یہ ایک حقیقت ہے
- نہیں، یہ پروپیگنڈہ ہے
- معلوم نہیں
Note: All information is based on public reports; verify before taking any action.