وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے 27 نومبر 2025 کو جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی معاشی مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے مگر IMF کی شرائط کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں، اور پروگرام مکمل ہونے پر ریلیف دیا جائے گا۔ رانا ثنااللہ نے عمران خان کی حکومت کو مہنگائی بڑھانے کا ذمہ دار ٹھہرایا، جہاں 2017 میں 4.1% سے 2023 میں 29.18% تک اضافہ ہوا، جو پاکستانی عوام اور مالی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس خبر کی بنیاد عوامی رپورٹس پر ہے۔ کسی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تمام معلومات کی تصدیق کریں۔
رانا ثنااللہ کا آئی ایم ایف شرائط پر بیان: ریلیف کی راہ میں رکاوٹیں
رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کی ترقی اور عوام کی آسانی ہے، مگر ماضی کی حکومتوں نے نقصان پہنچایا جو اب درست کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ہری پور ضمنی الیکشن کی کامیابی پر خوشی اور حیرانی کا اظہار کیا، جہاں PTI کی مہم ناکام رہی۔
- IMF شرائط کا اثر: حکومت 7 ارب ڈالر (EFF + RSF) کے پروگرام کے تحت ہے، جو سبسڈیوں پر پابندی لگاتی ہے؛ اکتوبر 2025 کی دوسری ریویو میں 1.2 ارب ڈالر کی منظوری ملی۔
- مہنگائی کا اضافہ: 2017 میں 4.1% سے 2023 میں 29.18%، جو PTI دور کی ناکامی کی مثال ہے؛ 2025 میں 5.13% کی توقع۔
- حساب کا وقت: نقصان پہنچانے والوں کا حساب بعد میں، ترجیح ملک کی بہتری۔
یہ بیان حکومت عوام کو ریلیف کیوں نہیں دے پا رہی کی وجوہات کو واضح کرتا ہے، جو معاشی بحران اور آئی ایم ایف شرائط سے جڑا ہے۔
آئی ایم ایف کی وجہ سے ریلیف میں تاخیر: معاشی اعداد و شمار
رانا ثنااللہ کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ IMF پروگرام مکمل ہونے (2026 تک) پر ریلیف ممکن ہوگا، مگر نومبر 2025 کی IMF گورننس رپورٹ کرپشن سے 6% جی ڈی پی نقصان (تقریباً 5300 ارب روپے) کو اجاگر کرتی ہے، جو ریلیف کی راہ میں مزید رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضمنی الیکشن کی کامیابی پر بڑھک باز حکومت: IMF رپورٹ کیا کہتی ہے؟
معاشی چیلنجز:
- افراطِ زر: 2024 میں 23.41%، 2025 میں 5.13% متوقع، جو سب سے کم ہے مگر عوام کی مالی مشکلات برقرار۔
- بے روزگاری: 7.1% (2024-25)، جو PTI دور کی 31% اضافہ کی وجہ سے بڑھی۔
- IMF کی شرائط: ٹیکس بڑھانا، سبسڈی ختم، جو ریلیف روکتی ہیں مگر ڈیفالٹ سے بچاتی ہیں۔
یہ اعداد ورلڈ بینک اور IMF رپورٹس سے لیے گئے، جو پاکستانی عوام اور مالی مشکلات کی حقیقت بتاتے ہیں۔
ہری پور الیکشن: PTI کی ناکامی اور حکومتی فتح
رانا ثنااللہ نے ہری پور ضمنی الیکشن میں PTI کی دھمکیوں، جھوٹے مقدمات اور نفرت کی مہم کو ناکام قرار دیا، جہاں مسلم لیگ (ن) نے 43,776 ووٹوں سے فتح حاصل کی۔ یہ کامیابی 13 میں سے 12 نشستوں کی فتح کا حصہ ہے، جو عوامی اعتماد کی علامت ہے۔
| الیکشن | PTI ووٹ | ن لیگ ووٹ | نتیجہ |
|---|---|---|---|
| ہری پور (2025) | 15,000+ | 58,776 | ن لیگ کی 43,776 برتری |
یہ جدول ECP ڈیٹا پر مبنی ہے، جو سیاسی بیانات پاکستان میں تنازعات کو کم کرتا ہے۔
معاشی بحران اور آئی ایم ایف شرائط: حل کی راہیں
حکومت کی ترجیح ترقی ہے، مگر IMF شرائط ریلیف میں تاخیر کا باعث ہیں۔ 2025 کی IMF ریویو سے 1.2 ارب ڈالر ملی، جو معیشت کو سہارا دیتی ہے مگر عوام کی فوری آسانی نہیں۔
عوام کے لیے قابلِ عمل تجاویز:
- بجٹ پلاننگ: ماہانہ اخراجات ٹریک کریں، سبسڈی ختم ہونے پر متبادل تلاش کریں۔
- IMF اپ ڈیٹس فالو: IMF ایپ سے پروگرام کی پیش رفت چیک کریں، جو 2026 تک مکمل ہوگا۔
- ووٹنگ میں فوکس: الیکشن میں معاشی پالیسیوں پر توجہ دیں، جیسا ہری پور میں ہوا۔
FAQs: رانا ثنااللہ کا آئی ایم ایف شرائط پر بیان
س: حکومت ریلیف کیوں نہیں دے پا رہی؟
ج: IMF شرائط (سبسڈی ختم، ٹیکس بڑھانا) کی وجہ سے، پروگرام 2026 تک مکمل ہوگا۔
س: مہنگائی PTI دور میں کتنی بڑھی؟
ج: 2017 میں 4.1% سے 2023 میں 29.18%، جو نقصان کی مثال ہے۔
س: ہری پور الیکشن کا نتیجہ کیا تھا؟
ج: ن لیگ کی 43,776 ووٹوں سے فتح، PTI کی مہم ناکام۔
س: IMF پروگرام کا فائدہ کیا ہے؟
ج: 7 ارب ڈالر سے ڈیفالٹ بچا، 2025 میں 5.13% افراطِ زر متوقع۔
انٹرایکٹو پول: سامعین کی رائے
کیا IMF شرائط ریلیف میں تاخیر درست ہیں؟
- ہاں، طویل مدتی فائدہ ہے۔
- نہیں، عوام کی فوری آسانی ضروری۔
اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں!
کال ٹو ایکشن
رانا ثنااللہ کے بیان پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں بتائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور معاشی بحران اور آئی ایم ایف شرائط کی مزید تازہ خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ذریعے فوری اپڈیٹس حاصل کریں اور مالیاتی دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں سے جڑ جائیں۔ ابھی جوائن کریں اور کوئی اہم خبر مس نہ کریں!