این ایف سی پینل کے پی کے حصے کی شرائط طے کرنے کا فیصلہ، صوبائی فنانشل شیئرنگ میں اہم اتفاق

این ایف سی میٹنگ

وزارت خزانہ نے 5 دسمبر 2025 کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کی پہلی میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں تمام پانچ فریقین (وفاق، سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان) نے خیبر پختونخوا (کے پی) کے حصے میں اضافے کی شرائط طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ میٹنگ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں سابقہ فاٹا کے 6.1 ملین آبادی کی شمولیت کی بنیاد پر کے پی کے وسائل میں اضافے کی بنیاد رکھی گئی۔ سندھ نے وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے پر اتفاق رائے کو صرف این ایف سی پلیٹ فارم تک محدود رکھنے کی تجویز دی، جبکہ وفاقی حکومت نے اخراجات کی منتقلی پر بحث کو شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ اقدام 7ویں این ایف سی ایوارڈ کی جون 2018 سے چل رہے مسائل کو حل کرنے کی طرف پہلا قدم ہے، جو صوبائی مالی استحکام کو یقینی بنائے گا۔

این ایف سی میٹنگ کی تفصیلات

این ایف سی کی 11ویں میٹنگ میں تمام فریقین نے کھلے ذہن سے اتفاق رائے کی یقین دہانی کرائی، تاہم بحث کا دائرہ کار طے کرنے پر اختلافات سامنے آئے۔ سندھ اور کے پی نے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم صرف آمدنی کی تقسیم تک محدود رہے، جبکہ اخراجات کی بحث کو خارج کیا جائے۔

  • کے پی کی جیت: سابقہ فاٹا کے انضمام کی بنیاد پر 6.1 ملین آبادی کی شمولیت کے لیے ایک سب گروپ قائم کرنے پر اتفاق، جو جنوری 2026 تک سفارشات پیش کرے گا۔
  • وفاقی تجویز: صوبوں کو اعلیٰ تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے اخراجات کی منتقلی، اور جی ڈی پی کا 6 فیصد اضافہ (صوبائی آمدنی 0.8 سے 3 فیصد، وفاقی ٹیکسز 3.5 سے 14 فیصد تک 2028 تک)۔
  • مالی خلا: یہ اضافہ موجودہ معاشی حجم کے مطابق تقریباً 7 ٹریلین روپے کا مالی خلا پیدا کرے گا، جو وفاقی بجٹ کیس کو حل کر سکتا ہے۔

وفاقی بجٹ خسارہ 2011 سے 2025 تک جی ڈی پی کا 4 سے 7 فیصد تک بڑھ چکا ہے، جو مالی استحکام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

Latest Government Jobs in Pakistan

کے پی کے فنانشل شیئر پر اتفاق

کمیٹی کا قیام سابقہ فاٹا (اب نئے ضم شدہ اضلاع) کی مالی انضمام کی بنیاد پر ہوگا، جو 2018 سے انتظامی طور پر تو ضم ہو چکے ہیں مگر مالی طور پر نہیں۔ کے پی نے مطالبہ کیا کہ 7ویں این ایف سی ایوارڈ کو جون 2018 سے اپ ڈیٹ کیا جائے، جس میں آبادی، غربت اور دیگر عوامل شامل ہوں۔

  • موجودہ شیئر: پنجاب 51.74 فیصد، سندھ 24.55 فیصد، کے پی 14.62 فیصد (جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا 1 فیصد اضافی)، بلوچستان 9.09 فیصد۔
  • کے پی کا مطالبہ: شیئر 19.62 فیصد تک بڑھایا جائے، دہشت گردی شیئر 3 فیصد تک تین گنا، اور 2019-2025 تک وفاق سے 1.3 ٹریلین روپے واجب الادا ادا کیے جائیں۔
  • رمیٹنس کا کردار: کے پی کی آبادی 17 فیصد ہونے کے باوجود بیرون ملک رجسٹرڈ ورکرز کا 30 فیصد حصہ، اور گھریلو آمدنی کا 18.8 فیصد رمیٹنس سے (قومی اوسط 8.6 فیصد)۔

یہ مطالبات دہشت گردی کی بحالی اور غربت کی وجہ سے کیے گئے، جو کے پی کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کی سکیورٹی مزید سخت، نواحی علاقہ بھی ریڈزون قرار

صوبائی پوزیشنز اور اختلافات

میٹنگ میں صوبائی نمائندوں نے اپنے موقف پیش کیے، جو وفاقی تجاویز پر مختلف ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

  • سندھ: وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اتفاق صرف این ایف سی میں ممکن، اور بحث آمدنی تک محدود رہے؛ اخراجات کی منتقلی مسترد۔
  • کے پی: وزیر اعلیٰ سہیل افریقی نے مضبوط وفاق اور صوبوں کی اہمیت پر زور دیا، دہشت گردی کی قربانیوں کا ذکر کیا، اور نئے اضلاع کی مالی شمولیت کا مطالبہ کیا۔
  • پنجاب: فنانس منسٹر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اتفاق رائے کی کوششوں اور پالیسی تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔
  • بلوچستان: فنانس منسٹر میر شعیب نوشیروانی نے وفاق اور صوبوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے شفاف مکالمے اور منصفانہ تقسیم کی اہمیت پر زور دیا، جو طویل مدتی معاشی ترقی کو یقینی بنائے گا۔

این ایف سی ایوارڈ کی تاریخی اہمیت

این ایف سی آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت قائم ہوتا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکسوں کی تقسیم طے کرتا ہے۔ 7ویں ایوارڈ (2010) نے صوبائی شیئر 57.5 فیصد کیا، مگر 8ویں، 9ویں اور 10ویں ایوارڈز نہ بن سکے۔

  • قانونی بنیاد: صوبائی شیئر پچھلے ایوارڈ سے کم نہ ہو؛ ہر پانچ سال بعد نظر ثانی۔
  • چیلنجز: 18ویں ترمیم کے بعد 7ویں ایوارڈ غیر مؤثر، جو نئے اضلاع کی شمولیت کا تقاضا کرتا ہے۔

یہ ایوارڈ قومی مالیاتی توازن کو برقرار رکھنے کا کلیدی ذریعہ ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی اور اثرات

این ایف سی نے عمودی اور افقی تقسیم، اور صوبائی شیئر کے عوامل پر چھ ورکنگ گروپس قائم کیے، جو تکنیکی مشاورتوں کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔

Latest Government Jobs in Pakistan
  • ٹائم لائن: جنوری 2026 تک فاٹا سب گروپ کی سفارشات؛ باقاعدہ میٹنگز منصوبہ بندی۔
  • معاشی فوائد: جی ڈی پی میں اضافہ سے صوبائی ترقیاتی بجٹ بڑھے گا، غربت کم ہوگی۔
  • سیاسی اثرات: اتفاق رائے سے وفاقی استحکام، مگر اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت۔

یہ عمل پاکستان کی معاشی یکجہتی کو مضبوط بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی اور ائیر چیف کی 2 سالہ توسیع، نوٹیفکیشن جاری

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کے پی کا این ایف سی شیئر کیوں بڑھایا جا رہا ہے؟

سابقہ فاٹا کے 6.1 ملین لوگوں کی شمولیت اور دہشت گردی کی قربانیوں کی وجہ سے۔

موجودہ صوبائی شیئر کیا ہے؟

پنجاب 51.74 فیصد، سندھ 24.55 فیصد، کے پی 14.62 فیصد، بلوچستان 9.09 فیصد۔

این ایف سی ایوارڈ کب اپ ڈیٹ ہوتا ہے؟

ہر پانچ سال بعد، مگر 7ویں ایوارڈ جون 2018 سے چل رہا ہے۔

Latest Government Jobs in Pakistan

وفاقی خسارہ کیوں بڑھا؟

2011-2025 میں جی ڈی پی کا 4 سے 7 فیصد تک، جو نئے ایوارڈ کی ضرورت ہے۔

نتیجہ

این ایف سی پینل کا قیام کے پی شیئر کی شرائط طے کرنے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جو نیشنل فنانس کمیشن پاکستان کی مذاکرات کو نئی سمت دے گا۔ یہ اقدام نہ صرف خیبر پختونخوا فنانشل شیئر کو منصفانہ بنائے گا بلکہ صوبائی ترقی اور قومی استحکام کو فروغ دے گا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اس اہم مالیاتی بحث پر اپنے خیالات کا اظہار کریں اور متعلقہ مواد شیئر کریں۔

کال ٹو ایکشن: کیا آپ کو لگتا ہے کہ کے پی کا شیئر بڑھنے سے صوبائی ترقی تیز ہوگی؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں اور اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔ مزید تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن پاپ اپ کو آن کریں۔ یہ مفت سروس آپ کو ہر اہم اپ ڈیٹ کی فوری اطلاع دے گی، جو آپ کی معلومات کو ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رکھے گی!

ڈس کلیمر: This information is based on public reports. Verify before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے