وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خاندان کا صحت اور زندگی سے متعلق بنایا گیا بیانیہ مکمل طور پر نفی ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیل انتظامیہ کا عمران خان کی صحت کے بارے میں مؤقف بالکل درست ثابت ہوا ہے، اور ملاقاتیں صرف جیل رولز کے مطابق ہی ہوں گی۔
طلال چوہدری کا اہم بیان
طلال چوہدری نے کہا:
"یہ طے تھا کہ ڈکٹیشن سے کوئی کام نہیں ہوگا، ملاقات جیل انتظامیہ کی نگرانی میں ہوگی۔”
ان کے مطابق پی ٹی آئی کا صحت خراب ہونے کا بیانیہ اب ختم ہو گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
عظمیٰ خان کی ملاقات کے بعد بیان
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے بتایا:
- بھائی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، کوئی جسمانی تکلیف نہیں
- عمران خان غصے میں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے
- کمیونی کیشن کی سہولت نہیں دی جاتی
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے گاڑی سے اتار کر تھپڑ مارے، ابراہیم کی لاش نکالنے والے خاکروب کا انکشاف
عمران خان صحت کی حقیقت
جیل انتظامیہ کے مطابق عمران خان کو باقاعدہ طبی معائنہ اور تمام ضروری سہولیات دی جا رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ ان کی صحت مکمل طور پر نارمل ہے۔
مسلم لیگ (ن) کا واضح موقف
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قانونی حیثیت واضح ہے اور جیل کو سیاسی پلیٹ فارم نہیں بننے دیا جائے گا۔ تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جا رہا ہے۔
عمران خان جیل صحت اپ ڈیٹ
تازہ ترین صورتحال کے مطابق عمران خان کی روزمرہ سرگرمیاں معمول کے مطابق ہیں اور انہیں کوئی طبی ایشو نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے فیملی کی طویل ملاقات، "سیاست نہ کریں” وارننگ: رانا ثنا اللہ کا بیان
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے بیانیے کی نفی کیسے کی؟
جواب: انہوں نے کہا کہ جیل انتظامیہ کا صحت کا مؤقف درست ثابت ہوا اور ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائے گی۔
سوال: عمران خان کی صحت کیسے ہے؟
جواب: عظمیٰ خان اور جیل انتظامیہ دونوں کے مطابق جسمانی طور پر بالکل صحت مند ہیں۔
سوال: قیدِ تنہائی کا الزام درست ہے؟
جواب: عمران خان کا دعویٰ ہے کہ کمیونی کیشن محدود ہے، حکومت کہتی ہے کہ یہ جیل رولز کے مطابق ہے۔
سوال: ملاقاتوں پر کیا شرائط ہیں؟
جواب: فیملی ملاقات حق ہے مگر سیاسی گفتگو یا میڈیا بیانات منع ہیں۔
سوال: آئندہ صحت کی اپ ڈیٹس کیسے ملیں گی؟
جواب: فیملی ملاقاتوں اور جیل انتظامیہ کے بیانات کے ذریعے۔
آپ کا خیال کیا ہے؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کا صحت کا بیانیہ غلط تھا؟ یا اب بھی شکوک ہیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں، مضمون شیئر کریں، اور تازہ خبریں فوراً حاصل کرنے کے لیے بائیں طرف واٹس ایپ بٹن پر کلک کر کے ہمارا چینل جوائن کر لیں!
Disclaimer: All information presented is based on public reports and statements. Readers are advised to verify details independently before forming conclusions, especially regarding health matters.