عمران خان سے فیملی کی طویل ملاقات، "سیاست نہ کریں” وارننگ: رانا ثنا اللہ کا بیان

imran khan

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منگل کو اڈیالہ جیل میں ان کی بہن عظمیٰ خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات قیدی کا بنیادی حق ہے مگر اس دوران یا اس کے بعد سیاسی بیانات دینا جیل رولز کی خلاف ورزی ہے۔

ملاقات کی تفصیلات

  • پہلے بشریٰ بی بی سے علیحدہ ملاقات ہوئی
  • پھر عظمیٰ خان اور بشریٰ بی بی دونوں نے مل کر ایک گھنٹے تک عمران خان سے بات چیت کی
  • عمران خان مکمل صحت مند ہیں اور انہیں کوئی جسمانی تکلیف نہیں

"سیاست نہ کریں” وارننگ

رانا ثنا اللہ نے کہا:

Latest Government Jobs in Pakistan

"جیل رولز 265 کے تحت فیملی اور وکلاء سے ملاقات آپ کا حق ہے مگر ملاقاتوں میں یا باہر آکر سیاسی بیانات دینا منع ہے۔”

جیل انتظامیہ نے عظمیٰ خان کو پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ملاقات کے بعد میڈیا سے سیاسی گفتگو یا پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔ اگر یہ اصول برقرار رہے تو آئندہ بھی فیملی ملاقاتیں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: 9 مئی حملہ کیس: عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے 18 افراد اشتہاری قرار

عظمیٰ خان کا بیان

ملاقات کے بعد عظمیٰ خان نے میڈیا سے کہا:

  • بھائی کی صحت بالکل ٹھیک ہے
  • عمران خان غصے میں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے
  • کسی سے کمیونی کیشن کی اجازت نہیں دی جاتی

جیل میں عمران خان کی موجودہ صورتحال

حالیہ دنوں میں عمران خان کو فیملی ملاقاتوں کی محدود سہولت دی گئی تھی۔ آج کی ملاقات کو حکومتی سطح پر مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے لیکن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کو مزید سخت کرنے کا پیغام بھی دیا گیا ہے۔

نگران حکومت کی پالیسی

حکومت کا موقف ہے کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی جا رہی ہے مگر جیل کو سیاسی پلیٹ فارم بننے نہیں دیا جائے گا۔ عمران خان کو تمام ضروری طبی اور قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں عمران خان سے فیملی و رہنماوں کی ملاقات کا دن، دفعہ 144 نافذ، تعلیمی ادارے بند

Latest Government Jobs in Pakistan

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: عمران خان سے کس کس نے ملاقات کی؟

جواب: بشریٰ بی بی اور عظمیٰ خان نے الگ الگ اور پھر مشترکہ طور پر ایک گھنٹے کی ملاقات کی۔

سوال: ملاقات کے دوران یا بعد میں سیاست کرنے کی اجازت کیوں نہیں؟

جواب: جیل رولز 265 کے مطابق فیملی ملاقاتیں صرف ذاتی اور خاندانی معاملات کے لیے ہوتی ہیں، سیاسی گفتگو یا بیانات منع ہیں۔

سوال: کیا عمران خان کی صحت واقعی ٹھیک ہے؟

جواب: حکومتی بیان اور عظمیٰ خان دونوں نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان جسمانی طور پر بالکل صحت مند ہیں۔

سوال: اگر فیملی سیاسی بیانات دیتی رہی تو کیا ہوگا؟

جواب: رانا ثنا اللہ کے مطابق آئندہ ملاقاتوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔

Latest Government Jobs in Pakistan

سوال: کیا عمران خان واقعی قید تنہائی میں ہیں؟

جواب: عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اس کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ تمام سہولیات دی جا رہی ہیں۔

آپ کا خیال کیا ہے؟

کیا فیملی ملاقاتوں پر سیاسی پابندی جائز ہے یا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ نیچے کمنٹس میں ضرور بتائیں، مضمون شیئر کریں اور تازہ خبریں فوراً حاصل کرنے کے لیے بائیں طرف واٹس ایپ آئیکن پر کلک کر کے ہمارا چینل جوائن کر لیں!

Disclaimer: All information presented is based on public reports and statements. Readers are advised to verify details independently before forming conclusions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے